Home / اسلام / رَسُولِ قُرآن و رَسُولِ جہان !!

رَسُولِ قُرآن و رَسُولِ جہان !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَعراف ، اٰیت 158 تا 159 ))) 🌹
رَسُولِ قُرآن و رَسُولِ جہان !! 🌹
ازقلم… اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 قل
یٰایھاالناس
انی رسول اللہ
الیکم جمیعا الذی
لہ ملک السمٰوٰت والارض
لاالٰہ الا ھو یحی و یمیت فاٰمنوا
باللہ ورسولہ النبی الامی الذی یٶمن
باللہ و کلمٰتہ واتبعوہ لعللکم تھدون 158
ومن قوم موسٰی امة یھدون بالحق وبہ یعدلون 159
اے ھمارے رسولِ جہان ! آپ جہان بَھر میں ھمارے اِس فرمان کا اعلان کردیں کہ زمان و مکان کی ہر تحقیق سے اِس اَمر کی مُکمل تصدیق ھو چکی ھے کہ میں زمان و مکان کے ہر انسان کے لیۓ اللہ کا رسول ھوں اور میرا اللہ وہ اللہ ھے جو بچھی ھوٸ ساری زمینوں اور تنے ھوۓ سارے آسمانوں اور اِن کے درمیان موجُود سارے انسانوں کا خالق و مالک ھے ، یہ وہ خالق و مالک ھے جو ہر جان دار کو جان دیتا ھے اور ہر جان دار کی جان لیتا ھے ، اُس کی ہر ایک تَخلیق میں اِس اَمر کا ایک فطری تقاضا ھے کہ اُس کی ہر ایک مخلُوق پر اُسی کا نظام ھو اور اُس کی ہر ایک تَخلیق اُسی کے نظام کے زیرِ اِنتظام ھو ، اِس لیۓ یہ بات ہمیشہ سے ہمیشہ کے لیۓ طے ھو چکی ھے کہ انسان کی زندگی بھی اللہ کی ھے اور اِس کی زندگی کے لیۓ نظام بھی اللہ کا ھے ، کسی اور کا کوٸ اور نظام نہیں ھے ، اِس لیۓ تُم سب لوگ اللہ کی دی ھوٸ زندگی اور اللہ کے دیۓ ھوۓ نظامِ زندگی کے لیۓ میرے اُس رسول پر ایمان لے آٶ جس کو میں نے کسی انسان سے کُچھ بھی نہیں پڑھایا ھے بلکہ سب کُچھ خود ہی پڑھایا اور سکھایا ھے ، اگر تُم میرے اِس رسول پر ایمان لاٶ گے تو دُنیا و عُقبٰی کے سارے اندیشوں سے آزاد ھو جاٶ گے ، اِس سے پہلے میں نے قومِ مُوسٰی کو بھی زندگی کا یہی نظام دیا تھا ، اُس کے نا انصاف لوگوں نے اُس کی بیقدری کی ھے لیکن اُس کے انصاف پسند لوگوں کا ضمیر آج بھی اسی نظامِ انصاف کو اپنا نظامِ حیات بنانا چاہتا ھے !
🌹 مطالبِ اٰیات و مقاصدِ اٰیات ! 🌹
موجُود اٰیت میں بیان ھونے والا موجُودہ مضمون گزشتہ اٰیت میں بیان ھونے والے اُس پہلے مضمون کا دُوسرا حصہ ھے جس میں قُرآنِ کریم نے پہلی بار ” الرسول النبی الاُمی“ کا ایک سہ لَفظی مُرکب استعمال کیا تھا اور اُس کے بعد اَب اِس دُوسری اٰیت میں بھی قُرآن نے دُوسری بار ” رسولہ النبی الاُمی “ کا وہی سہ لَفظی مُرکب استعمال کیا ھے اور اِن دونوں مقامات کے اِن دونوں مُرکبات میں اللہ تعالٰی نے اپنے اِس نبی کو نَبی اُمی اور اپنے اِس رسول کو رسولِ اُمی کہا ھے ، پہلی اٰیت میں ھم نے اِس سہ لَفظی مُرکب کی لُغات سے اِس لیۓ صرفِ نظر کیا تھا تاکہ موجُودہ اٰیت میں ایک ہی جگہ اور ایک ہی مقام پر اِس سہ لَفظی مُرکب کی لُغت پر ایک ہی بار بات کر لی جاۓ اور اِس موقعے پر ھماری مُختصر معروضات یہ ہیں کہ عربی قواعد کی رُو سے قُرآنِ کریم میں استعمال ھونے والے اِس لَفظِ ” اَلاُمی “ کی اَصل ” اَلاَم “ ھے جس کا معنٰی کسی چیز کا وہ مرکزہ nucleus ھوتا ھے جس کی مرکزیت کی بنا پر اُس چیز کا وجُود قاٸم و موجُود ھوتا یا رہتا ھے ، قدیم زمانے میں شہرِ مکہ کو اُس زمانے کے موجُود شہروں میں ایک بڑے اور مرکزی شہر کے طور ” اُم القرٰی “ کہا جاتا تھا اور جدید دُنیا کے ہر شہر کی ہر بڑی شاہراہ کو بھی اِسی بنا پر ” اُم الطریق “ کہا جاتا ھے کہ وہ شہر کی دیگر شاہراٶں میں ایک بڑی اور مرکزی شاہراہ ھوتی ھے ، اسی طرح آسمانی تاروں کے اُس کہکشانی جُھرمٹ کو بھی اُس کے مرکزِ مقام اور مرکزِ نگاہِ خاص و عام ھونے کی بنا پر ” اُم النجُوم “ کہا جاتا ھے ، انسانی سر کے چیمبر chamber میں چُھپٕے ھوۓ اُس فیصلہ ساز دماغ کو بھی اُس کے مرکزِ خیال ھونے کی بنا پر ہی” اُم الرأس “ کے نام سے یاد کیا جاتا ھے اور اُس مرکزِ دماغ کی جو حفاظتی جھلّی اِس مرکزِ خیال کی حفاظت کرتی ھے اُس کو ” اُم الدماغ کہا جاتا ھے اور گھر میں مرد کی بیوی جو اُس کے بچوں کے درمیان ایک مرکزِ محبت کے طور پر ہمہ وقت موجُود رہتی ھے اُس کو بھی اُس کی اسی ہمہ وقت موجودگی کے حوالے سے” اُم المثوٰی “ کہا جاتا ھے اور اسی طرح کسی ملک کا وہ قومی جَھنڈا جو اُس قوم کی جمعیت کی علامت ھوتا ھے اُس کو ” اُم الجیش “ کہا جاتا ھے ، اِن تمام اِن اَمثال کا ما حصل یہ ھے کہ ” اُم “ کا معنٰی کسی چیز کا مرکز ھوتا ھے اور اُمی کا معنٰی اُس مرکز کا وہ مرکزہ nucleus ھوتا ھے جو اُس مرکز کی مر کزیت کو اِس طرح قاٸم و زندہ رکھتا ھے جس طرح رُوم کا رُومی باشندہ اپنے رُومی ھونے کی نسبت کو قاٸم و زندہ رکھتا ھے ، اگر کسی چیز کے مرکز سے اُس کا وہ مرکزہ نکال دیا جاۓ تو اُس کے وجُود کے اِرد گرد کُچھ بھی موجود نہیں رہتا ، قُرآنِ کریم نے انسانی تاریخ کے اِس تاریخی سلسلہ کلام میں پہلے نُوح و قومِ نُوح ، عاد قومِ عاد ، ثمُود و قومِ ثمود ، صالح و قوم صالح ، شعیب و قومِ شعیب اور مُوسٰی و قومِ مُوسٰی کا ذکر کیا ھے اور اِس سلسلہِ کلام کے آخر میں سیدنا محمد علیہ السلام کا تذکرہ کر کے یہ فیصلہ صادر کیا ھے کہ محمد علیہ السلام سے پہلے جتنے نبی اور جتنے رسول گزرے ہیں وہ سارے نبی اور سارے رسول اپنے زمان و مکان میں اللہ کے دین کا مرکز تھے اور قُرآن نے اِن سب کے بعد جس نبی اور جس رسول کا ذکر کیا ھے وہ اللہ کے دین کا مرکزہ nucleus ھے اور اسی صفت کے حوالے سے یہ نَبی ، نَبیِ اُمی اور یہ رسول ، رسولِ اُمی ھے ، اُمی نَبی اور اُمی رسول کے اِس خاص تعارف میں خاص بات یہ ھے کہ اللہ نے زمین پر انسانی ھدایت و فلاح کے لیۓ بہیجے جانے والے اپنے ہر سفارت کار کو نبی اور رسول کے تعارف کے ساتھ مُتعارف تو ضرور کرایا ھے لیکن سیدنا محمد علیہ السلام کے سوا اپنے کسی نبی اور اپنے کسی رسول کو بھی نَبی اُمی یا رسولِ اُمی کے تعارف کے ساتھ مُتعارف نہیں کرایا جس کا مطلب یہ ھے کہ اُن سب اَنبیا ٕ و رُسل کے مراکز کا مرکزہِ مُشترک یہی ایک رسول ھے جو اُمی ھے لیکن عُلماۓ عجم کی عجمی لُغت میں اُمی کا عجمی ترجمہ اَن پڑھ کیا جاتا ھے جس پر پہلا سوال تو یہ وارد ھوتا ھے کہ اگر اُمی کا معنٰی اَن پڑھ ھے تو پھر اِس لَفظِ ” اَن پڑھ “ کا اِطلاق صرف محمد علیہ السلام کی ذاتِ گرامی پر کیوں کیا جاتا ھے ? زمین پر اللہ کے جو دُوسرے نَبی اور دُوسرے رسول وقتا فوقتا تشریف لاۓ ہیں تو اُن کی ذاتِ گرامی پر اِس لَفظ کا اطلاق کیوں نہیں کیا جاتا ? عُلماۓ عجم نے آخر اُن تمام اَنبیا ٕ و رُسل کے پاس کس کس یونیورسٹی کی کون کون سی تعلیمی ڈگری دیکھی ھے جس سے یہ ثابت ھو گیا ھے کہ دیگر اَنبیا ٕ و رُسل تو پڑھے لکھے تھے لیکن اللہ کے یہ آخری نبی ہی ایک ایسے نبی اور اللہ کے یہ آخری رسول ہی ایک ایسے رسول تھے جن کے پاس وہ تعلیمی ڈگری نہیں تھی جو دُوسرے تمام اَنبیا ٕ و رُسل کے پاس موجُود تھی ، اَمرِ واقعہ یہ ھے کہ اُمی کا مَعنٰی اَن پڑھ نہیں ھے جیساکہ ھم دلاٸل کے ساتھ واضح کر چکے ہیں بلکہ اُمی کا معنٰی کسی مرکز کا مرکزہ ھوتا ھے اور سیدنا محمد علیہ السلام اللہ کی کاٸنات کے اِس مرکز کا وہ مرکزہ ہیں جس میں اُن پر نازل ھونے والا قُرآن موجود ھے لیکن اِس مقام پر قُدرتی طور پر جو دُوسرا سوال پیدا ھوتا ھے وہ یہ ھے کہ تعلیم کیا ھے اور تعلیم کا مقصد کیا ھے ، تفصیلات سے قطع نظر ، اِختصار کے ساتھ عرض کیا جاۓ تو تعلیم کارِ حیات کے ایک طے شُدہ مقصد کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ھے اور انسان اِس تعلیمی ذریعے سے زندگی کا وہ طے شُدہ مقصد حاصل کرتا ھے جو اُس کے پیشِ نظر ھوتا ھے اور نبوت کا معاملہ یہ ھے کہ اِس کی تعلیم زمین کے کسی مَکتب سے حاصل نہیں کی جاتی بلکہ آسمان کے مَکتب سےوحی کی صورت میں آتی ھے اور یہ وحی اُن تمام مقاصد کی تَکمیل کرتی ھے جو ایک نبی اور رسول کو بطور نبی و رسول کے درکار ھوتے ہیں اور اُن تمام مقاصد کی بھی تکمیل کرتی ھے جو ایک نبی اور رسول کو ایک انسان کے طور پر درکار ھوتے ہیں ، سیدنا محمد علیہ السلام کو اللہ نے پہلی اٰیت میں دین کے ہر مرکز کا مرکزہ nucleus قرار دیتے ھوۓ اُمی کہہ کر یہ ظاہر کیا تھا کہ ھمارا یہ نبی کسی انسان سے پڑھا ھوا نہیں ھے بلکہ اللہ کا اپنا پڑھایا ھوا ھے ، اِس کا سب سے پہلا اور سب سے اَعلٰی کمال ہی یہ ھے کہ یہ پڑھے ھوۓ انسانوں کو ، پڑھے ھوۓ انسانوں سے پڑھے بغیر پڑھاتا ھے اور ان پڑھ انسانوں کو بھی کسی پڑھے ھوۓ انسان سے پڑھے بغیر ہی پڑھاتا ھے کیونکہ اِس کو قُدرت کی طرف سے وہ نُور دیا گیا ھے کہ یہ اَندھیرے میں جاتا ھے اور اَندھیرے میں گھرے ھوۓ انسان کو اندھیرے سے نکال کر اُس روشنی میں لے آتا ھے جو زندگی سے قبر اور قبر سے حشر تک انسان کے ساتھ جاتی ھے اور یہی وہ روشنی ھے جس کو زمین سے آسمان اور آسمان سے اُس کون و مکان تک پُہنچانے کے لیۓ اللہ نے قُرآن کی موجُود اٰیت میں اپنے نبی کو یہ حُکم دیا ھے کہ وہ ملّت کے مرکزِ ملّت کے طور پر بالعموم دُنیا کے تمام انسانوں کو اور بالخصوص اُن یہُود و نصارٰی کو اِس روشنی کی طرف بُلاۓ جو اِس روشنی سے کسی حَد تک آگاہ ہیں مگر وہ اِس روشنی سے دُور ہیں ، دعوت کا یہی پس منظر تھا جس کا اِس سورت کی گزشتہ اٰیات میں گزشتہ قوموں اور ملتوں کے حوالے سے پیش کیا گیا تھا اور اللہ کا یہی پیغامِ حق ھے جس کا موجودہ اٰیت سے پہلی اٰیت میں اہلِ تورات و انجیل کے حوالے سے ذکر کیا گیا تھا اور یہی پیغامِ حق ھے جس کا اٰیت 159 میں ذکر ھوا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے