Home / اسلام / قَومِ مُوسٰی کی آزادی و بربادی

قَومِ مُوسٰی کی آزادی و بربادی

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَعراف ، اٰیت 137 تا 141 ))) 🌹
قَومِ مُوسٰی کی آزادی و بربادی !! 🌹 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 واورثنا
القوم الذین کانوا
یستضعفون مشارق الارض
و مغاربھاالتی بٰرکنافیھا وتمت کلمت
ربک الحسنٰی علٰی بنی اسراٸیل بماصبروا
ودمرناماکان یصنع فرعون وماکانوا یعرشون 137
وجٰوزنابنی اسراٸیل البحر فاتواعلٰی قوم یعکفون علٰی اصنام
لھم قالوایٰموسٰی اجعل لنا الٰھا کمالھم اٰلھة قال انکم قوم تجھلون
138ان ھٰٶلا ٕ متبرماھم فیہ و بٰطل ماکانوایعملون 139 قال اغیراللہ ابغیکم
الٰھا وھو فضلکم علی العٰلمین 140 واذنجینٰکم من اٰل فرعون یسومونکم سو ٕ العذاب
یقتلون ابناٸکم ویستحیون نساٸکم وفی ذٰلکم بلا ٕ من ربکم عظیم 141
اور پھر ھم نے اُس قوم کے کم زور لوگوں میں سے کُچھ لوگوں کو زمین پر چَڑھتے سُورج کی پہلی روشنی دینے والے زرخیز علاقوں کا اقتدار دے کر اور کُچھ لوگوں کو زمین پر ڈھلتے سُورج کی آخری روشنی پُہنچانے والے شَب خیز علاقوں کا اختیار دے کر بنی اسراٸیل سے کیۓ گیۓ اُس خُوب صُورت وعدے کو پُورا کردیا جو آپ کے رَب نے بنی اسراٸیل کے صبر و استقامت کے ساتھ مشروط کیا تھا اور فرعون و اٰلِ فرعون کے وہ تمام وساٸلِ حیات تباہ و برباد کردیۓ جن پر وہ اپنے قصرِ عالی شان تعمیر کیا کرتے تھے ، پھر جب ھم نے بنی اسراٸیل کو مصر کی اُس جادُو نگری سے نکال کر دریا عبور کرایا تو انہوں نے وہاں پر ایک بُت پرست قوم کو بُت پرستی میں مصروف پایا تو انہوں نے مُوسٰی سے کہا کہ آپ ھمارے لیۓ بھی ایسا ہی ایک بُت بنوادیں تاکہ ھم بھی اِن لوگوں کی طرح اُس بُت کی پُوجا کیا کریں جس پر مُوسٰی علیہ السلام نے کہا کہ تُم لوگ تو واقعی جہالت کی ایک گہری دَلدَل میں اُترے ھوۓ ھو ، تُم نہیں جانتے کہ اِس کام کی کوٸ حقیقی بُنیاد نہیں ھے اور یہ فکر و نظر کا وہ دھوکا ھے جس کا وجُود جلد ہی دُنیا سے مٹ جاۓ گا ، پھر مُوسٰی نے اُن لوگوں سے کہا حیرت ھے کہ تُم لوگ مُجھ سے اُس وقت ایک ایسی غیر حقیقی چیز کا مطالبہ کر رھے جس وقت اللہ نے تُم کو اہلِ جہان کے اِن جہانوں میں ایک عظمت و برتری عطا کی ھے اور اے اَبناۓ بنی اسراٸیل تُم کو اپنی تاریخ کے اُس لَمحے پر بھی پر ایک نگاہِ عبرت ڈالتے رہنا چاہیۓ جس لَمحے ھم نے تُم کو اُن لوگوں کے پَنجہِ استبداد سے نجات دی تھی جو تُمہاری قوم کے سربازوں کے سر قلم کر دیا کرتے تھے اور تُمہاری قوم کے سرفروشوں کو اپنے غلام بنا لیا کرتے تھے ، تُمہارے جسموں اور تُمہاری جانوں پر ھونے والا یہ وہ عذابِ عظیم تھا جس میں تُمہارے لیۓ بہت سی عبرتیں پوشیدہ ہیں !
🌹 رَبطِ اٰیات و مضمونِ اٰیات ! 🌹
سُورةُالاَعراف کی اٰیت 129 میں مُوسُی علیہ السلام نے اپنی قوم کو یہ مُژدہ سنایا تھا کہ اللہ تعالٰی جلد ہی اُس کے دُشمن فرعون کو ہلاک کرکے زمین پر اُس کو اپنے اَحکام کو ماننے اور منوانے والی ایک مُقتدر قوم بنادے گا اور پھر یہ دیکھے گا کہ تُمہاری قوم زمین پر اللہ کے اَحکام کے مطابق زندگی گزارتی ھے یا یہ بھی فراعنہ مصر کی طرح نافرمانی اختیار کرکے ایک نافرمان قوم بن جاتی ھے اور اَب قُرآنِ کریم کی موجُودہ اٰیات میں یہ بتا گیا ھے کہ اللہ تعالٰی نے قومِ مُوسٰی کے ساتھ مُوسٰی کے ذریعے جو وعدہ کیا تھا اُس وعدے کے مطابق اللہ نے فرعون اور اٰلِ فرعون کو زمینِ مصر کے اقتدار سے محروم کردیا ھے اور مُلکِ مصر کے کم زور لوگوں کو مشرق و مغرب کی زمینوں کا حاکم و مقتدر بنا کر اُن کو اُن زمینوں کا قبضہ بھی دے دیا گیا ھے ، اسی سلسلہِ کلام میں مُوسٰی و قومِ مُوسٰی کے مصر سے نکلنے ، دریا سے گزرنے اور راستے میں قومِ مُوسٰی کا ایک بُت پرست قوم کی بُت پرستی دیکھ کر اسی کی طرح بُت پرستی کرنے ، مُوسٰی کے کوہِ طُور پر جانے اور اِس قوم کی ھدایت کے لیۓ اللہ سے اللہ کے اَحکامِ تازہ لانے ، پھر اِس قوم کے طرح طرح کے نخرے اُٹھانے اور طرح طرح کی غیر عقلی حرکتیں برداشت کرنے کی ایک تاریخ ھے جس کو باٸبل نے بھی بیان کیا ھے اور قُرآن نے بھی نقلِ واقعہ کے طور پر نقل کیا ھے لیکن باٸبل کی بیان کی ھوٸ اور قُرآن کی نقل کی گٸ یہ تاریخ ایک ایسی مُنفرد تاریخ ھے جو قومِ مُوسٰی سے شروع ھو کر قومِ مُوسٰی پر ہی ختم ھو جاتی ھے ، تاریخی اعتبار سے قومِ مُوسٰی کی اِس کہانی میں قومِ مُوسٰی کا مُوسٰی کے ہمراہ دریا پار کر جانا اور اٰلِ فرعون کا فرعون کے ہمراہ اسی دریا میں ڈوب کر مرجانا ، انسانی تاریخ کا وہ حیرت انگیز واقعہ ھے جو اپنا یہ خاص پَس منظر رکھنے کے باعث سب سے زیادہ پڑھا اور بیان کیا جاتا ھے لیکن ھمارے لیۓ اِس واقعے کا سب سے زیادہ حیرت انگیز پہلُو یہ ھے کہ باٸبل کے مطابق مُوسٰی علیہ اسلام کی پیداٸش کا زمانہ 1520 تا 1400 قبل مسیح کا زمانہ ھے ، مُوسٰی علیہ السلام کا مدین میں قیام کا زمانہ 1450 تا 1440 کا زمانہ ھے ، مُوسٰی علیہ السلام کے مصر میں وارد ھونے کا زمانہ 1450 قبل مسیح کا زمانہ ھے ، مُوسٰی علیہ السلام کے اعلانِ نبوت کا زمانہ 1440 قبل مسیح کا زمانہ ھے اور مُوسٰی و قومِ مُوسٰی کا مصر سے خرُوج کا زمانہ بھی 1440 قبل مسیح کا یہی زمانہ ھے ، مُوسٰی علیہ السلام کے ساتھ جو اَفراد مصر سے نکلے تھے اُن کی تعداد 6 لاکھ 20 ہزار تھی ، اِس تعداد میں 20 برس سے کم اور 60 برس سے زیادہ عمر کے اَفراد شامل نہیں تھے اور فرعون کے ہَمراہ مُوسٰی علیہ السلام کے تعاقب کے لیۓ جو جنگ جُو نکلے تھے اُن کی تعداد 17 لکھ تھی ، مُوسٰی علیہ السلام کے زمانہِ پیداٸش ، اُن کے ورُودِ مصر اور اُن کے خرُوجِ مصر کی تاریخوں کا صحیح یا غلط ھونا اپنی جگہ پر سہی اور اِن سارے واقعات کا اتنے مُختصر وقت میں آغاز سے اَنجام تک پُہنچ جانا بھی اپنی جگہ پر سہی سوال یہ ھے کہ کیا اُس وقت مصر کی کُل آبادی یہی 24 لاکھ 20 ہزار افراد پر مُشتمل تھی جن میں سے فرعون کے ہمراہ مُوسٰی کے تعاقب میں مصر سے نکلنے والے 17 لاکھ اَفراد ڈُوب کر مر گۓ تھے اور 7 لاکھ اَفراد مُوسٰی کے ساتھ بَچ کر نکل گۓ تھے ، مان لیجیۓ کہ جب مُوسٰی علیہ السلام مصر سے نکلے تھے تو اپنی ساری قوم کو لے کر نکلے تھے اور اُن کی قوم کا کوٸ فرد پیچھے نہیں رہا تھا لیکن فرعون جو مُوسٰی کے تعاقب میں نکلا تھا وہ مرنے کے خیال سے تو نہیں نکلا تھا اور شہرِ مصر کے سارے مرد وزن کی ساری آبادی بھی اپنے ساتھ لے کر نہیں نکلا تھا ، اگر عقلی طور پر ایسا ھوا تھا یا ایسا ھونا کُچھ مُشکل سے مُمکن ھو گیا تھا تو سوال یہ ھے کہ مُوسٰی کے سارے ساتھی وادیِ سینا میں پُہنچ گۓ تھے اور فرعون کے سارے ہمراہی ڈُوب کر مر گٸے تھے تو مصر میں رہنے والی باقی آبادی کے ساتھ کیا ھوا تھا ، اگر مرنے والے فرعون کے بعد مصر پر کسی اور فرعون کی حکومت قاٸم ھوٸ تھی تو وہ کس فرعون کی حکومت قاٸم ھوٸ تھی اور کب تک وہ حکومت قاٸم رہی تھی اور اِس واقعے کے بعد کے مصر کا کیا حال اور کیا اَحوال ھوا تھا ، اتفاق سے تاریخ اِس بارے میں خاموش ھے !
🌹 مَطالبِ اٰیات و مَقاصدِ اٰیات ! 🌹
قُرآنِ کریم کی مُحولہ بالا اٰیات میں سے پہلی اٰیت سے ظاہر ھوتا ھے کہ فرعونِ مصر اور اُس کی قوم مصر کے اقتدار سے مُکمل طور پر محروم ھو گۓ تھے لیکن یہ سب کیسے ھوا اِس بارے میں تاریخ کے سارے مٶرخ اور قُرآن کے سارے مُفسر خاموش ہیں ، عھدِ قریب کے مُفسرین میں سے مولانا مودودی مرحوم اپنی تفہیم القُرآن کی جلد دو کے صفحہ 74 پر لکھتے ہیں کہ ” بعض لوگوں نے اِس کا مفہوم یہ لیا ھے کہ بنی اسراٸیل خود سرزمینِ مصر کے مالک بنادیۓ گۓ ، لیکن اس معنی کو تسلیم کرنے کے لیۓ نہ تو قرآنِ کریم کے اشارات کافی واضح ہیں اور نہ تاریخ و آثار ہی سے اس کی کوٸ قوی شہادت ملتی ھے ، اس لیۓ اس معنی کے تسلیم کرنے میں ہمیں تامّل ھے “ لیکن خود مولانا مودودی مرحوم کی اِس راۓ کو تسلیم کرنے میں ہمیں بھی سخت تامّل ھے کہ اِس بارے میں قُرآنِ کریم کے اشارات واضح نہیں ہیں کیونکہ قُرآنِ کریم کے اَلفاظ صاف اور واضح ہیں کہ مصر سے فراعنہِ مصر کے اقتدار کا سُورج اسی لَمحے ڈُوب گیا تھا جس لَمحے فرعون غرقِ دریا ھوا تھا ، اَمرِ واقعہ یہ ھے کہ قُرآنِ کریم کی اِس اٰیت میں وہ پہلا لفظ ”ارض “ ھے جو اِس اَمر کا ثبوت فراہم کرتا ھے کہ قومِ مُوسٰی کے ساتھ اللہ نے فرعون کی غلامی سے آزادی کے بعد مُطلقا زمین میں اقتدار دینے کا وعدہ کیا تھا جو پورا کیا گیا ، اللہ نے اُن کو شہرِ مصر کی زمین پر میں اقتدار دینے کا وعدہ نہیں کیا تھا کہ اُس کے بارے میں کوٸ بات کی جاۓ اور اٰیت ھٰذا میں لَفظِ ارض کے بعد دُوسرے دو اَلفاظ مشارق و مغارب ہیں جو اِس قصے کی تفصیلات فراہم کرتے ہیں ، مشارق و مغارب کی معروف تفصیل سے قطع نظر ، مصر سے بنی اسراٸیل کے جو اَفراد مُوسٰی کے ہمراہ مصر سے نکلے تھے اُن کی یہ تاریخِ سفر موجود ھے کہ وہ اپنے اپنے وقت پر شام و فلسطین اور مشرقِ بعید تک پُہنچتے اور پُہنچ کر آباد ھوتے رھے ہیں لیکن فرعون کی نَسل کے جو اَفراد مصر کی تباہی کے بعد بَچ گۓ تھے وہ مُغلیہ خاندان کے بچے کُچھے ھوۓ اَفراد کی طرح خانہ بدوشی کی زندگی میں ڈُوب کر گُم نہیں ھو گۓ تھے بلکہ خانہ بدوش راہوں اور شاہراہوں سے گزر کر افریقہ کے سمندری راستوں سے مرتے مراتے اور بچتے بچاتے ھوۓ مغربی ممالک میں داخل ھوگۓ تھے اور بہت خاموشی کے ساتھ انہوں نے اِن ملکوں کے کوچہِ اقتدار پر اپنا قبضہ بھی قاٸم کرلیا تھا اور عھدِحاضر کے یورپ و انگلستان ، امریکا و فرانس اور اٹلی و اُندلس کے ترقی یافتہ ملکوں میں فراعنہ مصر کی وہی نَسلیں حاکم ہیں جو اپنے ملکوں میں اپنی ہی بلڈ لاٸن سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کوچہِ اقتدار میں لاتی ہیں اور اپنے اِس نَسلی داٸرے میں کسی دُوسری نَسل کے کسی فرد کو داخل ھونے کی اجازت نہیں دیتیں ، اگر ھمارا یہ خیال درست ھے تو فراعنہ مصر کی وہی فرعونی اَولادیں اپنی اُسی فرعونی فرعونیت کے تحت تَب سے اَب تک دُنیا بھر کے انسانوں پر حکمرانی کر رہی ہیں !
🌹 ایک گمان اور ایک امکان ! 🌹
قُرآنِ کریم نے قصہِ مُوسٰی میں سحر کا لَفظ کم اَز کم 50 بار استعمال کیا ھے اور سحر کی توضیح کے لیۓ سُورةُالاَعراف کی اٰیت ”سحروا اعین الناس “ کے اَلفاظ استعمال کر کے یہ بتایا ھے کہ سحر کی حقیقت کسی انسان کا اپنی نفسی قوت کے ذریعے دُوسرے انسان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اُس کے سامنے کسی ایسی چیز کو مجسم کر کے لے آنا ھوتا ھے جو اُس کی نظر کو ایک وجُود کی صورت میں نظر آتی ھے لیکن دَر حقیقت اُس کا کہیں پر بھی کوٸ وجود نہیں ھوتا ، فرعون کا شہرِ مصر جو اپنے فرعونوں کی فرعونی آبادی سے آباد تھا اُس شہرِ کی فرعونی آبادی چند دنوں یا چند مہینوں میں مصر و نواحِ مصر سے کیسے غاٸب ھو گٸ اور فرعون کی تباہی کے بعد اُس زمین سے اُس آبادی کا وجُود کہاں گُم ھو گیا اور کیسے گُم ھو گیا ، بظاہر یوں لگتا ھے کہ آسمانی کتابوں نے انسان کو کُچھ شیطانی قوتوں کے ایک تاریخی شیطانی عمل سے آگاہ کیا ھے جس عمل کے ذریعے انہوں نے ایک ایسا شہر بنایا ھوا تھا جس میں کُچھ انسانوں کو غلام بنا کر اُس شہر کے کیھتوں اور کھلیانوں میں پھیلا دیا جاتا تھا جس میں وہ اپنے آقاٶں کی مرضی کے مطابق کام کرتے رہتے تھے ، لیکن انسان اپنے علمِ محدود کے باعث کبھی بھی اِس شہر میں شیطان کی قاٸم کی ھوٸ اُس جادُو نگری کو جان یا سمجھ نہیں سکا ، ھو سکتا ھے کہ مُستقبل کا کوٸ محقق آۓ اور اِس راز سے پردہ اُٹھاۓ کیونکہ قُرآن نے جس جادُوٸ زمین کا 50 بار ذکر کیا ھے اُس کی کوٸ وجہ تو بہر حال ضرور ھے ، یہ الگ بات ھے کہ وہ وجہ اَب تک ھماری سمجھ میں نہیں آٸ ، سحر کیا ھے ، قدیم زمانے کی محدود ساٸنس اور ساٸنس کیا ھے جدید زمانے کا ایک لامحدود سحر ، بہر حال یہ ایک سمندر ھے اور اِس سمندر میں جھانکنے کی ضرورت ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے