Home / اسلام / کوہِ طُور و اَلواحِِ کوہِ طُور !!

کوہِ طُور و اَلواحِِ کوہِ طُور !!

🌹#العلمAlilm 🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَعراف ، اٰیت 142 تا 147 ))) 🌹
کوہِ طُور و اَلواحِِ کوہِ طُور !! 🌹
ازقلم… اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 ووٰعدنا
موسٰی ثلٰثین لیلة
واتممنٰھا بعشر فتم میقات
ربہ اربعین لیلة وقال مُوسٰی لاخیہ
ھٰرون اخلفنی فی قومی واصلح ولا تتبع
سبیل المفسدین 142 ولماجا ٕ موسٰی لمیقاتنا
وکلمہ ربہ قال رب ارنی انظر الیک قال لن ترٰنی ولٰکن
انظر الی الجبل فان استقر مکانہ فسوف ترٰنی فلما تجلّٰی ربہ
للجبل جعلہ دکا وخر موسٰی صعقا فلما افاق قال سبحٰنک تبت الیک
وانااول المٶمنین 143 قال یٰموسٰی انی اصطفیتک علی الناس برسٰلٰتی و
بکلامی فخذ مااٰتیتک وکن من الشٰکرین 144 وکتبنالہ فی الالواح من کل شٸ
موعظة وتفصیلا لکل شٸ فخذھا بقوة وامر قومک یاخذواباحسنھا ساوریکم دار
الفٰسقین 145 ساصرف عن اٰیٰتی الذین یتکبرون فی الارض بغیرالحق وان یرواکل اٰیة
لا یٶمنوا بھا وان یرواسبیل الرشد لا یتخذوہ سبیلا وان یروا سبیل الغی یتخذواہ سبیلا
ذٰلک بانھم کذبواباٰیٰتنا وکانوا عنھا غٰفلین 146 والذین کذبواباٰیٰتنا ولقا ٕ الاٰخرة حبطت اعمالھم
ھل یجزون الا ما کانوا یعملون 147
جب مُوسٰی کی قوم مُوسٰی کے ساتھ سمندر سے گزر کر وادیِ سینا میں پُہنچ گٸ تو ھم نے اُس قوم کی تعلیمی تربیت کا ایک کتابی نظام دینے کی غرض سے مُوسُی کو تیس دِن کی تیس راتوں کے مُقررہ وقت کے وعدے پر اسی علاقے کے ایک مقررہ مقام پر بلا لیا لیکن جب مُوسٰی سے وہ مُجوزہ کام تیس دِن کی تیس راتوں میں مُکمل نہیں ھوا تو ھم نے مزید دَس دِن کی دَس راتوں کے لیۓ مُوسٰی کو وہاں پر روک لیا اور اِس طرح چالیس راتوں کے بعد مُوسٰی نے اپنی قوم کے لیۓ وہ تعلیمی اور تربیتی پروگرام مُکمل کر لیا ، مُوسٰی نے اپنا قومی مُستقر چھوڑنے سے قبل اپنی قوم پر اپنے بھاٸ ھارون کو اپنا نگرانِ کار بنایا اور اُن کو یہ ھدایت دی کہ وہ اُن کی غیر موجُودگی میں فتنہ پرور لوگوں کے فتنے سے بچتے ھوۓ حکمت و تدبر کے ساتھ اپنی قوم کی اصلاح کرتے رہیں اور جب مُوسٰی اپنی قوم سے جُدا ھو نے اور اپنی منزلِ مقصود پر پُہنچنے کے بعد اللہ کے ساتھ شرفِ تکلم سے مُشرف ھوۓ تو اُن کے دِل میں اَچانک ہی اللہ کو اپنے رُوبرُو دیکھنے کا اشتیاق پیدا ھو گیا اور انہوں نے اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا اشتیاق ظاہر کردیا ، جس پر اللہ نے فرمایا کہ تُم اللہ کی دید کے منظر کو اپنی نظر سے دیکھنے کی التجا تو کر رھے ھو لیکن تُم اُس کے نظارے کی تاب ہر گز نہیں لا سکو گے ، اگر تُم مُصر ھو تو پھر نظر جما کر اپنے سامنے کھڑے بلند پہاڑ کو دیکھو ، اگر اِس پہاڑ کا وجُود میرے پَرتوِنُور کی تجلّی کو برداشت کر گیا تو تُمہاری نظر بھی اِس تجلّی کی تاب لا سکے گی اور پھر جب اُس پہاڑ پر اللہ کے نُور کی ایک تجلّی پڑی تو اُس کے پِرخچے اُڑ ھو گۓ اور مُوسٰی اِس کو دیکھتے ہی بیہوش ھوگۓ اور ہوش میں آنے کے بعد بولے میں اپنے مطالبہِ دید سے باز آتا ھوں اور اِس مقام کے پہلے انسان کے طور پر سب سے پہلے تیری ذات پر ایمان لاتا ھوں ، تَب نے اللہ نے فرمایا کہ میں نے انسانوں تک اپنا کلامِ ھدایت پُہنچانے کے لیۓ تیرا جو انتخاب کیا ھے اور تُجھے انسانوں پر اپنی سفارت کاری کا جو منصب دیا ھے تُو اُس کے مطابق اپنے فراٸض اَنجام دینے میں مصروف ھو جا ، اور پھر اللہ نے وہ اَلواح مُوسٰی کے سپرد کردیں جن اَلواح پر پہلے ہی ہر ایک چیز کی ہر ایک تفصیل لکھی ھوٸ تھی اور مُوسٰی کو نصیحت کی کہ میرے اِس کلام کو تُم نے اپنی پُوری صلاحیت کے ساتھ اپنی قوم کو پڑھانا ھے اور پُوری قُوت کے ساتھ اُس سے اِس پر عمل کرانا ھے ، جو خود پسند اور مُتکبر لوگ رَاہِ حیات پر چلنے کے لیۓ میرے کلام میں درج کیۓ گٸے علاماتی نشانات کو دیکھے بغیر چلیں گے تو وہ زندگی بھر ، زندگی کی اَندھی راہوں میں بہٹکتے رہیں گے ، اِس سے قبل جن لوگوں نے ھماری اِن ھدایات سے رُوگردانی کی ھے وہ بھی ھماری گرفت سے نہیں بَچ سکے اور جو لوگ اَب یا کبھی ھمارے یومِ حساب و احتساب کا انکار کر کے اور ھماری ھدایات سے رُو گردانی کرکے اپنے اعمالِ خیر کو غارت کریں گے تو اُن کی گردن بھی ھماری گرفت میں ضرور آۓ گی !
🌹 اٰیات و مَضامینِ اٰیات ! 🌹
اٰیاتِ بالا کا مرکزی مضمون اُن سَنگی اَلواح کی تلاش اور حصول ھے جس کا سلسلہِ کلام کی اٰیت 144 میں ذکر ھوا ھے اور اِس اٰیت سے پہلی اٰیات میں مُوسٰی علیہ السلام کے اُس وقت کا ذکر ھوا ھے جو وقت اُنہوں نے اِن اَلواح کی بازیافت میں صرف کیا ھے ، اِن سَنگی و حَجری اَلواح کا تعلق 12 ہزار قبل مسیح کے اُس حجری دور سے ھے جس کا فرانس کے ایک عالم Christian Tomsen نے 1836 عیسوی میں سراغ لگایا ھے ، اِس حجری دور میں انسان کا تمام علمی و تاریخی سرمایہ اِن ہی حجری اَلواح پر درج ھو کر اُن حجری لاٸبریریوں میں جاتا تھا جن لاٸبریریوں کو زمانے کے انقلاب کبھی زیرِ زمین لے جاتے تھے اور کبھی بالاۓ زمین لے آتے تھے ، حمّو ربی 20 96 قبل مسیح ، اَرنمُو 2113 قبل مسیح اور اشتر 1934 قبل مسیح کے حجری و قانونی بھی اسی حجری زمانے کے ہیں جو بعد کے مُختلف زمانوں میں دریافت ھوۓ ہیں ، مُوسٰی علیہ السلام کو بھی اللہ تعالٰی نے اِس علاقے میں اُس قدیم آسمانی قانون کی حجری تَختیاں تلاش کے لیۓ مامُور کیا تھا جو اِس علاقے کے کسی مقام پر زمین کی تہوں میں کہیں محفوظ تھیں اور جن کی اللہ نے خود نشان دہی کر کے اُن کی بازیابی کے لیۓ اپنے نبی مُوسٰی کو مامُور کیا تھا ، مُوسٰی علیہ السلام کو اِس مقام پر لانے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ اللہ حجری اَلواح پر اپنا کلام خود نقش کرے گا اور مُوسٰی علیہ السلام بیٹھ کر یہ دیکھیں گے کہ اللہ تعالٰی پتھر کی سلوں پر اپنا کلام کس طرح نقش کرتا ھے اور تیس سے چالیس راتوں کا یہ وقت بھی اس لیٸے مقرر کیا گیا تھا کہ دِن کے وقت آگ برساتے سُورج اور آتش اُگلتے پہاڑوں کی گرمی میں مُوسٰی علیہ السلام کے لیۓ کُھداٸ کا یہ کام کرنا مُمکن نہیں تھا بلکہ رات کے نسبتا بہتر موسم میں ہی مُمکن تھا اور یہی زلزلوں اور آتش فشانیوں میں گھرا ھوا وہ مقام تھا کہ جہاں ایک بار مُوسٰی علیہ السلام کے کُچھ پیروکار ضد کر کے اُن کے ساتھ آۓ تھے اور پہاڑوں کی آتش فشانی دیکھ کر اور اِن کے اُڑتے اور گرتے ھوۓ پتھروں کا شُور سُن کر مُردوں کی طرح بے جان ھو کر اِس طرح گر پڑے تھے کہ مُوسٰی علیہ السلام کو بھی اُن کے مرنے جانے کا گمان ھونے لگا تھا ، قُرآنِ کریم نے اِس واقعے کی جو تفصیل فراہَم کی ھے اُس تفصیل کے مطابق مُوسٰی علیہ السلام مصر سے نکلنے اور سمندر عبُور کرنے کے بعد سب سے پہلے جس علاقے میں داخل ھوۓ تھے وہ طُورِ سینا و طُورِ سینین کا وہی علاقہ تھا جس کا مُختصر نام طُور ھے مگر قُرآنِ کریم نے اِس کے اِن تینوں ناموں کا اَلگ اَلگ ذکر کیا ھے جس سے ہمیں یقین کے ساتھ یہ بات معلوم ھو گٸ ھے کہ کوہِ طُور کسی ایک مُجرد پہاڑ کا نام نہیں ھے جیسا کہ اہلِ روایت کی روایات میں بیان کیا جاتا ھے بلکہ یہ کوہِ ہمالیہ کی طرح ایک ایسے طویل پہاڑی سلسلے کا نام ھے جس میں کٸ چھوٹے بڑے پہاڑ شامل ہیں ، فرق یہ ھے کوہِ ہمالہ سے جُڑے پہاڑ وہ برفانی پہاڑ ہیں جہاں کی سردی جسموں کو مُنجمد کر دیتی ھے اور کوہِ طُور سے مُنسلک پہاڑ وہ آتشیں پہاڑ ہیں جن کی گرمی جسموں کو جلا دیتی ھے ، اِن پہاڑوں میں لَمحہ بہ لَمحہ زلزلے آتے ہیں جن سے یہ پہاڑ ٹُوٹ ٹُوٹ کر بکھرتے رہتے ہیں اور اِسی آتشی و کوہستانی سلسلے کے ایک بلند پہاڑ کا نام کوہِ طُور ھے جس کا مُوسٰی کی کسی مُبینہ چلّہ کشی یا استطاعتِ وحی سے کوٸ تعلق نہیں ھے ، طُور کے اِس کوہِستانی سلسلے کا ذکر سُورةُالبقرة کی اٰیت 63 ، 93 ، سُورةُالنسا ٕ کی اٰیت 154 ، سُورَہِ مریم کی اٰیت 52 ، سُورہِ طٰہٰ کی ایت 80 ، سُورةالمٶمنون کی اٰیت 20 ، سُورةُالقصص کی اٰیت 29 اور سورةالطُور کی اٰیت 1 میں جو ذکر آیا ھے وہ ایک دُوسرے حوالے سے آیا ھے اور جس دُوسرے حوالے سے یہ ذکر آیا ھے اُس کا اُن سارے مقامات پر تفصیل کے ساتھ ذکر آۓ گا !
🌹 اَلواحِ مُوسٰی اور روایاتِ عجم ! 🌹
لیکن جہاں تک مُوسٰی علیہ السلام کو ملنے والی اَلواح کا تعلق ھے تو اِس کا اِس خاص کوہِ طُور سے کوٸ تعلق نہیں ھے جس کا مُحولہ بالا اٰیات میں ذکر ھوا ھے موجُودہ اٰیات میں ذکر نہیں ھوا ھے لیکن مُفسرینِ عجم کو جس طرح ہر جگہ پر ایک یہُودی کہانی کی ضرورت ھوتی ھے اسی طرح اِس جگہ پر بھی اُن کو اِیسی ہی ایک یہُودی کہانی کی ضرورت پیش آٸ ھے اور اِس جگہ پر بھی اُنہوں نے اس یہُودی خوشنُودی کی کہانی کو شامل کر دیا ھے ، ورنہ جہاں تک قُرآنی اٰیات کا تعلق ھے تو اِن میں طُور و طُورِ سینا یا طورِ سینین کا اشارتا بھی کوٸ ذکر نہیں ھے اور اِس سے قُدرتی طور پر یہاں یہ سوال پیدا ھوتا ھے کہ اگر قُرآنِ کریم نے اَلواحِ مُوسٰی کے ساتھ طُور کا ذکر نہیں کیا ھے تو مُفسرینِ عجم نے اِن اَلواحِ مُوسٰی کو کوہِ طُور کے ساتھ اور کوہِ طُور کو اَلواحِ مُوسٰی کے ساتھ جوڑنے کی اتنی بے جا زحمت کیوں کی ھے اور اِس سوال کا جواب ہمیں مولانا مودودی مرحوم کے اُس تفسیری نوٹ سے ملتا ھے جو انہوں نے اپنی تفہیم کی جلد دوم کے صفحہ 76 پر اِس اٰیت کے حاشیہ 99 میں تحریر کیا ھے اور جس میں انہوں نے لکھا ھے کہ ” مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسراٸیل کی غلامانہ پابندیاں ختم ھوگیں اور انہیں ایک مُختار قوم کی حیثیت حاصل ھوگٸ تو حکمِ خداوندی کے تحت حضرت موسٰی کوہِ سینا پر طلب کیۓ گۓ تاکہ انہیں بنی اسراٸیل کے لیۓ شریعت عطا فرماٸ جاۓ ، چناچہ یہ طلبی جس کا یہاں ذکر ھو رہا ھے ، اِس سلسلے کی پہلی طلبی تھی اور اِس کے لیۓ چالیس دن کی میعاد اس لیۓ مقرر کی گٸ تھی کہ حضرت موسٰی ایک پُورا چلہ پہاڑ پر گزاریں اور روزے رکھ کر ، شب و روز عبادت اور تفکر کر کے اور دل و دماغ کو یکسو کر کے اُس قولِ ثقیل کے اخذ کرنے کی استعداد اپنے اندر پیدا کریں جو ان پر نازل کیا جانے والا تھا ، حضرت موسٰی علیہ السلام نے اِس ارشاد کی تعمیل میں کوہِ سینا جاتے وقت بنی اسراٸیل کو اُس مقام پر چھوڑا تھا جو موجودہ نقشہ میں بنی صالح اور کوہِ سینا کے درمیان وادی الشیخ کے نام سے موسوم ھے ، اِس وادی کا وہ حصہ جہاں بنی اسراٸیل نے پڑاٶ کیا تھا آج کل میدان الراحہ کہلاتا ھے ، وادی کے دوسرے سرے پر وہ پہاڑی واقع ھے جہاں مقامی روایت کے بموجب حضرت صالح علیہ السلام ثمود کے علاقے سے ہجرت کر کے تشریف لے آۓ تھے ، آج وہاں ان کی یادگار میں ایک مسجد بنی ھوٸ ھے ، دوسری طرف ایک اور پہاڑی جبل ہارون نامی ھے جہاں کہاجاتا ھے کہ حضرت ہارون علیہ السلام بنی اسراٸیل کی گوسالہ پرستی سے ناراض ھو کر جا بیٹھے تھے ، تیسری طرف سینا کا بلند پہاڑ ھے جس کا بالاٸ حصہ اکثر بادلوں سے ڈھنکا رہتا ھے اور جس کی بلندی 7359 فیٹ ھے ، اِس کی چوٹی پر وہ کھوہ زیارت گاہِ عام بنی ھوٸ ھے جہاں حضرت موسٰی نے چلّہ کیا تھا ، اس کے قریب مسلمانوں کی ایک مسجد اور عیساٸیوں کا ایک گرجا موجود ھے اور پہاڑ کے دامن میں رومی قیصر جسٹنین کے زمانے کی ایک خانقاہ آج تک موجود ھے “ یہ طویل داستان ھم نے اِس لیۓ نقل کی ھے تاکہ آپ یہ جان سکیں کہ مُفسرینِ عجم کے نزدیک مُوسٰی نے اِن اَلواح کے لیۓ وہاں چلّہ کیا تھا اور اہلِ روایت نے سیدنا مُوسٰی علیہ السلام سے یہ چلّہ اِس لیۓ کرایا ھے تاکہ سیدنا مُوسٰی کے بعد سیدنا محمد علیہ السلام سے بھی غارِ حرٰی میں ایک چلّہ کراسکیں اور کوٸ یہ سمجھنے کی غلطی نہ کر لے کہ نبوت پہاڑوں میں چلّے کھینچے بغیر ہی مل جاتی ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے