Home / اسلام / عصاۓ مُوسٰی و یَدِ بیضاۓ مُوسٰی

عصاۓ مُوسٰی و یَدِ بیضاۓ مُوسٰی

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹 اَلاَعراف ، اٰیت 103 تا 122 🌹
عصاۓ مُوسٰی و یَدِ بیضاۓ مُوسٰی !! 🌹 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اَستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 ثم بعثنا
من بعدھم موسٰی
باٰیٰتنا الٰی فرعون وملاٸہ
فظلموابھا فانظرواکیف کان
عاقبة المکذبین 103 وقال موسٰی
یٰفرعون انی رسول من رب العٰلمین 104
حقیق علٰی ان لااقول علی اللہ الاالحق قد جٸتکم
ببینة من ربکم فارسل معی بنی اسراٸیل 105 قال ان کنت
جٸت باٰیة فات بھا ان کنت من الصٰدقین 106 فالقٰی عصاہ فاذا ھی
ثعبان مبین 107 ونزع یدہ فاذا ھو بیضاۓ للنٰظرین 108 قال الملامن قوم
فرعون ان ھٰذا لسٰحرین 109 یرید ان یخرجکم من ارضکم فماذاتامرون 110 قالوا
ارجہ واخاہ وارسل فی المداٸن حٰشرون 111 یاتوک بکل سٰحرین علیم 112 وجا ٕ السحرة
فرعون قالواان لنا اجرا ان کنا نحن الغٰلبین 113 قال نعم وانکم لمن المقربین 114 قال القوا فلما
القواسحروااعین الناس واسترھبوھم وجا ٸو بسحر عظیم 116 واوحینا الٰی موسٰی ان الق عصاک فاذا ھی
تلقف مایافکون 117 فوقع الحق وبطل ما کانوایعملون 118 فغلبواھنالک وانقلبوا صٰغرین 119 فالقی السحرة
سٰجدین 120 قالوااٰمنابرب العٰلمین 121 رب موسٰی و ھٰرون 122
پھر ھم نے نُوح و ھُود ، صالح و لُوط اور شعیب کے بعد مُوسٰی کو انسان کی رُوح و جان کی آزادی کا پیغام دے کر فرعون اور اُس کی قوم کے سرداروں کے پاس بہیجا تو انہوں نے بھی پہلی قوموں کی طرح اِس کا اِنکار کیا اور اُن کا بھی وہی اَنجام ھوا جو پہلی قوموں کا ھوا ، مُوسٰی نے اللہ کے حُکم کے مطابق فرعون سے کہا کہ میں تُمہارے پاس اُس جہان دار کا پیغام لایا ھوں جو سارے کون و مکان کا پالَنہار ھے ، اِس لیۓ یہ بات میری شان کے خلاف ھے کہ میں اللہ کے اِس پیغام میں کوٸ کمی یا اضافہ کروں کہ تُو بنی اسراٸیل کو اپنی غلامی کے چُنگل سے آزاد کر کے میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دے ، فرعون نے کہا کہ اگر تُم اپنے اِس دعوے میں سَچے ھو اور تُمہارے پاس اللہ کا پیغام رساں ھونے کی کوٸ سَچی دلیل ھے تو وہ پیش کرو ، مُوسٰی نے یہ سُن کر اپنا دَستی عصا ایک طرف رکھا تو وہ یَک بیک ایک خوفناک اژدھا نظر آنے لگا اور پھر مُوسٰی نے جب عصا ایک طرف رکھ کر اپنا خالی ہاتھ آگے بڑھایا تو وہ بھی دیکھنے والوں کو ایک ایسا نُورانی ہاتھ نظر آیا کہ فرعون کے سردار بولے کہ یہ تو کوٸ بہت بڑا جادُوگر ھے جو ہمیں اپنی زمین کے اقتدار و اختیار سے محروم کرنے کے لیۓ یہاں آیا ھے ، فرعون نے اُن کا مشورہ چاہا تو انہوں نے کہا کہ آپ مُوسٰی اور اِس کے بھاٸ کو یہاں روک لیں اور مَملکت کے تمام بڑے شہروں کے بڑے عُلماۓ سَحر بلالیں تاکہ وہ اپنے جادُوٸ علم سے اِس کے جادُو کا جواب دیں ،ھر جب مُقررہ دن اور وقت پر سلطنت کے سارے جادُوگر وہاں پُہنچ گے تو اُنہوں نے فرعون کے ساتھ اپنے عوض معوضے کا بھاٶ تاٶ کرنے کے بعد مُوسٰی سے کہا کہ مقابلے کے اِس میدان میں تُم پہل کرو گے یا ھم پہل کریں تو مُوسٰی نے جواب دیا کہ تُم میری فکر کیۓ بغیر جو کرنا چاہتے ھو وہ کرو ، مُوسٰی کا یہ جواب سُن کر اُنہوں نے ایک ہی ہَلّے میں فرعون کے دربار پر اپنے ساحرانہ دلاٸل کے سارے جال ڈال دیۓ اور پھر جب مُوسٰی نے اللہ کے حُکم سے اپنا عصاۓ استدلال پیش کیا تو اُس نے اُن کے ہر جال کو اُن کے لیۓ کارِ زوال بنا دیا ، جس سے حق مُکمل طور پر غالب آگیا اور باطل مُکمل طور پر مغلُوب ھو گیا ، اور ساحرانِ مصر نے دلاٸلِ مُوسٰی کے سامنے سرنگوں ھو کر اعلان کردیا کہ ھم جہان کے اُس پروردِ گار پر ایمان لے آۓ ہیں جو مُوسٰی و ھارُون کا پروردِگار ھے !
🌹 لُغاتِ عصا و یَدِ بیضا ! 🌹
اٰیاتِ بالا میں آنے والی اصطلاحاتِ عصا و یدِ بیضا جو قُرآن کی دو معروف اصطلاحات ہیں جن کا ایک استعمال تو وہی قُرآنی استعمال ھے جو قُرآن کی اٰیاتِ بالا میں ھوا ھے اور دُوسرا وہ معروف افسانوی استعمال ھے جو مُفسرینِ عجم کی تفسیروں اور تحریروں میں ھے اور جس کو بیان کرنے کی ہمیں ضرورت نہیں ھے لیکن اگر اِس اصطلاح کے قُرآنی استعمال کے حوالے سے اِس کی لُغات پر نگاہ ڈالی جاۓ تو کلامِ عرب میں عصا کا ایک معنٰی لاٹھی سے کسی کو مارنا ھے اور اِہلِ عرب جب ” عصاالرجل “ کہتے ہیں تو اِس سے مُراد کسی کو لاٹھی سے مارنا ھوتا ھے ، عصا کا دُوسرا معنٰی زخمی انسان یا حیوان کے زخم کو باندھنا ھوتا ھے اور اہلِ کلام جب ” عصاالجرح “ کہتے ہیں تو اِس کا مقصد زخم کو باندھنے کی چیز سے باندھنا ھوتا ھے ، عصا کا تیسرا معنٰی مُنتشر اَشیا ٕ و اَفراد کو جمع کرنا ھوتا ھے اور عرب جب ” عصاالقوم “ کہتے ہیں تو اُن کا مَنشا قوم کے بِکھرے ھوۓ اَفراد کو جمع کر کے ایک جماعت بنانا ھوتا ھے ، عصا کا چوتھا معنٰی پُھوٹ ڈالنا ھوتا ھے اور عرب جب ” انشقت عصام القوم “ کہتے ہیں تو اِس کا مقصد قوم میں پُھوٹ ڈالنا یا پُھوٹ ڈالنے کی نشان دَہی کرنا ھوتا ھے ، عصا کا پاچواں معنٰی کسی کی مخالفت کرنا اور دلیل کے ساتھ اُس پر غالب آنا مُراد ھوتا ھے ، چناچہ جب اہلِ عرب شق العصا کہتے ہیں تو دلیل کے ساتھ کسی کی مخالفت کرنا اور دلیل کے ساتھ اُس پر غالب آنا مراد لیا جاتا ھے ، عصا کا چَھٹا معنٰی کسی کو کسی بات سے خبردار یا مُتنبہ کرنا ھوتا ھے اور اہلِ عرب جب ” قرع لہ العصا “ بولتے ہیں تو وہ کسی کو کسی بات سے خبردار اور مُتبہ کر ر ھے ھوتے ہیں ، عصا کا ساتواں معنٰی کسی کو حَد سے زیادہ ملامت کرنا ھوتا ھے اور اَفرادِ عرب جب کسی کو حَد سے زیادہ ملامت کرتے ہیں یا ملامت ھوتا ھوا دیکھتے ہیں تو وہ ” قرع العصاالملامة “ کے اَلفاظ استعمال کرتے ہیں ، عصا کا آٹھواں معنٰی کسی کا رُوحانی یا جسمانی طور پر مَنزلِ مُراد تک پُہنچنا ھوتا ھے اور زعماۓ عرب جب کسی کو جسمانی یا رُوحانی طور پر کامیاب و کامران ھوتا دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں اقصی المسافرالعصا “ یعنی مسافر اپنی منزل پر پُہنچ گیا ، عصا الف مقصورہ کے ساتھ لکھا جاۓ یا الف مَمدودہ کے ساتھ تحریر کیا جاۓ اِس سے اِس کے بُنیادی مصدر اور مقصد میں کوٸ فرق نہیں پڑتا ، اِس لیۓ عرب کبھی کبھی اور کہیں کہیں ” عصی یعصو “ سے بُھولنا اور مخالفت کرنا دونوں ہی مُراد لیتے ہیں کیونکہ بُھولنا بھی یاد رکھنے کے مقابلے میں ایک مُخالفانہ طرزِ عمل ھوتا ھے ، عصا کا نواں معنٰی سہارا لینا اور سہارا دینا بھی ھوتا ھے ، چاھے وہ کسی جان دار چیز کے جسم کا سہارا ھو یا ایک بے جان دیوار کا سہارا ھو یا کسی علمی دلیل کا سہارا ھو ، عصا کا دسواں معنٰی مخالف فرد یا جماعت کی مخالفت کرنا ھوتا ھے اور اہلِ عرب جب ” شق العصا “ کہتے ہیں تو اِس سے اُن کی مُراد کسی کی علمی و عملی مخالفت کرنا ھوتا ھے ، اَب اگر کوٸ چاھے تو لَفظِ ” عصا “ کے معنی پر صرف ایک بار نہیں بلکہ ایک ہزار بھی غور کرلے تو اِس کو قُرآن میں عصا کا معنی مُجرد لاٹھی کہیں بھی نہیں ملے گا اور کبھی بھی نہیں ملےگا کیونکہ عصا کا ایک معنٰی لاٹھی ضرور ھے لیکن صرف مُوسٰی کے ہاتھ کی لاٹھی یا چَھڑی نہیں ھے بلکہ مُوسٰی کلیم اللہ کے علم و تکلّم کی وہ بے مثال دلیل و بُرھان ھے جس نے پہلے ہی مَرحلے میں فرعونی سلطنت کے سارے عُلماۓ سحرکار کو ایک مُشتِ غبار بنا کر رکھ دیا تھا !
🌹 مطالبِ اٰیات و مقاصدِ اٰیات ! 🌹
علمی و عقلی اعتبار سے انسانی تاریخ کے ہر علمی مکالمے اور ہر عملی مُجادلے کا ایک مَحلِ وقوع ھوتا ھے اور وہ علمی و عملی مُکالمہ اور مُجادلہ اُس کے اُس مَحلِ وقوع کے ساتھ جُڑے ھوۓ آثار سے سمجھ آتا ھے ، اسی لیۓ اللہ تعالٰی نے مُوسٰی علیہ السلام کی جنگِ آزادی کے واقعات کو داستانِ شعیب کے بعد شروع کیا ھے کیونکہ مُوسٰی نے شبانی سے کلیمی کا سارا سفر مَدین کے اسی شعیب کی نگرانی میں طے کیا ھے اور مُوسٰی نے شعیب کے اسی مُستقر سے اپنی تحریکِ آزادی کے سفر کا آغاز کیا ھے اور مَدین کے اسی شعیب کی سکھاۓ اور سجھاۓ ھوۓ جنگی علوم و فنون کی فیض یابی سے فرعونی سلطنت کو پاش پاش کر کے اپنی غلام قوم کو آزاد کرایا ھے ، مُوسٰی علیہ السلام کا بچپن چونکہ مصر میں گزرا تھا اور مصر کے مشہورِ زمانہ جادُوٸ قصوں سے بھی آپ کے کان ناآشنا نہیں تھے ، اِس لیۓ اللہ نے جب مُوسٰی علیہ السلام کو مصر جانے اور مصر جاکر پہلے مَرحلے میں فرعون کو حق کی دعوت دینے اور آخری مَرحلے میں بنی اسراٸیل کو فرعون کی غلامی سے آزاد کرا کر واپس آنے کا عظیم مشن دیا تو لَمحاتی طور دل ہی دل میں آپ مصر کی اُن جادُوٸ کہانیوں سے خوف محسوس کرنے لگے لیکن پھر اِس کلیم کو اللہ تعالٰی کے ساتھ ھونے والا وہ علمی مُکالمہ اور اُس علمی مُکالمے کے ساتھ وہ عملی تجربہ بھی یاد آگیا جس کا سُورہِ طُہٰ کی اٰیت 17 تا 24 میں ذکر ھوا ھے اور جس کے مطابق ایک بار اللہ تعالٰی نے مُوسٰی سے پُو چھا تھا کہ کیا تُم جانتے ھو کہ تُمہاری سب سے بڑی سعادت کیا ھے جس کا مُوسٰی علیہ السلام نے مُفصل جواب دیتے ھوۓ کہا تھا کہ میری سب سے بڑی سعادت میرا وہ عصاۓ دلیل ھے جس کا میں سہارا لیتا ھوں اور جس سے میں بلند چیزوں کو اُتار کر زمین پر لے آتا ھوں اور جس کے ذریعے میں میں جنگی لَشکروں کو بھی چلا لیتا ھوں اور جس کے ذریعے میں اور بھی بہت سے کام کر لیتا ھوں ، یہی وہ دلیل تھی جس کے بَل بوتے پر آپ مصر پُہنچے تھے اور جب آپ مصر پُہنچے تھے تو حُسنِ اتفاق سے آپ کے پاس آپ کا وہ روایتی چوبی عصا بھی موجُود تھا جو اُس زمانے میں ہر انسان کے عمومی استعمال کا ایک دستی آلہِ استعمال ھوتا تھا اور جب آپ اِس چوبی عصا کے ساتھ فرعون کے مَحل میں پُہنچے اور کھڑے کھڑے ھونے والی رَسمی و تعارفی گفتگو کے بعد آپ نے اپنا یہ دَستی عصا ایک طرف رکھا تو فرعون کی درباریوں کو یوں لگا کہ جیسے یہ چوبی عصا نہیں بلکہ ایک خوفناک اژدھا ھے جو ابھی اُن سب کو نگل جاۓ گا اور دُدوسرا اتفاق یہ ھوا کہ جب آپ نے اپنا وہ دستی عصا رکھ کر اپنا خالی ہاتھ آگے کیا تو فرعون کے درباری یہ دیکھ کر حیران رہ گۓ کہ مُوسٰی کا ہاتھ بھی نُور کا بنا ھوا اور نُور کے سانچے میں ڈھلا ھوا ایک نُورانی ہاتھ ھے جس کی چمک سے اُن کی آنکھیں خیرہ ھو رہی ہیں ، یہ تھا اللہ کا وہ اُلوہی اور اِلٰہی اہتمام جو اللہ نے مُوسٰی کے لیۓ کیا تھا اور جس سے خوف زدہ ھو کر مصر کے وہ اہلِ علم مُوسٰی کے علم و دلیل کے سامنے سرنگوں ھو گۓ تھے جن کی علمی قابلیت کی بنا پر اہل مصر اُن کو سحر کار کہا کرتے تھے جس طرح کہ ھم بھی اپنے شاعروں ، ادیبوں اور خطیبوں کو اِن ہی اَلقابات سے یاد کرتے رہتے ہیں ، یہ علم و دلیل کا مقابلہ تھا ، ایک نبی کے ساتھ جادو گروں کا اور جادُو گروں کے ساتھ ایک نبی کا مقابلہ نہیں تھا جیساکہ علماۓ عجم نے مشہور کر رکھا ھے ، جب مُوسٰی علیہ السلام کے علم و دلیل نے سارے عُلماۓ مصر کو پچھاڑ دیا تو وہ سارے کے سارے مُوسٰی پر ایمان لے آۓ اور اِس طرح مُوسٰی نے پہلے ہی مرحلے میں مصر کے شاھوں اور غلاموں میں آزادی کا وہ پیغام پُہنچا دیا جس کے نتیجے میں بنی اسراٸیل کو وہ تاریخی آزادی ملی جو قُرآن کی اِن اٰیات کا موضوعِ خاص ھے ، اٰیاتِ بالا میں مُوسٰی کی اسی جنگ آزادی کا آغاز ھوا ھے لیکن یہ بات بذاتِ خود ایک اَلمیہ ھے کہ عُلماۓ عجم نے مُوسٰی کا چوبی عصا تو یاد رکھا ھے مگر مُوسٰی کے عصاۓ دلیل کو اسی طرح بُھول گۓ ہیں جس طرح وہ قُرآن سے دلیل و استشہاد کرنا بُھولے ھوۓ ہیں !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے