Home / پاکستان / نفاذِ حدودِ شرعیہ

نفاذِ حدودِ شرعیہ

نفاذِ حدودِ شرعیہ میں روکاوٹ کیا ہے؟

⁦✍️⁩از قلم
رشحاتِ ربانی/نعیم اختر ربانی

شریعتِ مطہرہ تمام شعبہ ہائے زندگی کا ایسا مکمل اور کامل دستور ہے کہ جس میں وقتِ نزول سے لے کر تا قیامت آنے والے ہر مسئلے اور مشغلے کا حل ، درست طریقہء کار اور حکم و انتباہ موجود ہے۔ اس میں نئے پیش آنے والے معاملات کے احکامات ، نئی پود کے مزاج سے جنم لینے والی تبدیلی کی رہنمائی کے لیے لائحہ عمل ، غیر مسلم اقوام کے ساتھ اختلاط کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تبدیلی کی اصلاح کا مکمل ڈھانچہ اور اس کی وجہ سے جنم لینے والی بغاوت کے روک تھام کے لیے حدود کا شکنجہ بھی موجود ہے۔

مگر معاملہ اس وقت پیچیدگی کا شکار ہوتا ہے جب شریعتِ کاملہ کے صرف ایک حصے (حدود) کو اٹھا لیا جائے اور اس میں پائی جانے والی سختی کا واویلہ کیا جائے (جو حقیقت میں سختی نہیں بلکہ اس میں رحمت کی شیریں حلول ہے) یہ تو ایسے ہی ہے کہ جیسے ایک شخص حکیم کی طرف سے لکھے گئے نسخے سے دو چند اجزاء کو چن لے اور مریض کو کھلا دے۔ سوال کرنے پر جواب ملے کہ میں نے تو حکیم صاحب کے تجویز کردہ نسخے میں سے ہی چند کو چنا ہے۔ جب پورا نسخہ درست ہو سکتا ہے تو کیا اس میں شامل اجزا کو الگ کرکے کھلانا درست نہیں ہو سکتا؟ آپ جانتے ہیں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے بعض اجزاء ترکیبی مریض کو کھلانا مریض کے لیے مضر ہوسکتا ہے بعینہٖ وہ ارباب علم و دانش جو نفاذِ حدودِ شریعت کے لیے لا حاصل تگ و دو کر رہے ہیں انہیں کا خدا تعالیٰ کا یہ فرمان سامنے رکھنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ ان کے اس جزوی مطالبے نے اسلام کے نام کو کیسا مذاق بنا دیا ہے۔ فرمانِ خداوندی ہے کہ “کیا تم کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہو اور ایک کا انکار کرتے ہو؟ جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کے لیے دنیا میں ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں عذابِ شدید کا صلہ”(البقرہ: 82)

بلکہ حدود سے پہلے شریعت کی مکمل ایک اصلاحی سکیم ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے لوگوں میں یہ شعور اجاگر کیا جاتا ہے کہ صحیح پر عمل پیرا ہونا ہے اور غلط سے دور بھاگنا ہے۔ اس امر کے لیے علماء ، صلحاء ، واعظین ، مصنفین ، آئمہ اور اہل اقتدار اپنی اپنی حد اور مقام میں رہتے ہوئے ایسی کوششیں بروئے کار لاتے ہیں جن سے یہ اصلاحی نظام احسن طریقے سے جاری رہے۔ جب وہ افراد اس کاوش کو ہلکا لیں۔ خدا تعالی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے گئے فرامین سے روگردانی کریں اور ایسے اعمال کے مرتکب ہوں جن کے منفی اثرات ان کی ذات سے تجاوز کر کےمعاشرے میں نمو پانے والے دیگر افراد پر پڑیں۔ تو اس صورت میں ان کے افعال کا جائزہ لیا جاتا ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ کیا حقیقت میں یہ فعل اس فرد سے سرزد ہوا ہے؟ دورانِ فعل کی حالت کو بھی دیکھا جاتا ہے کہ کہیں وہ ذہنی توازن کھو تو نہیں بیٹھا؟ اس کے بعد تمام ثبوتوں اور گواہوں کے کے روبرو اس سرکشی کی سزا دی جاتی ہے۔ اگر اس اصلاحی سکیم کے پہلے دو سے تین مراحل کو نظر انداز کر کے فقط سزا کے لمحے کو اٹھا کر ایسے پیش کیا جائے کہ یہ انسانیت کی توہین ہے۔ تو ایسے لوگ درحقیقت برائی کے سرکردہ ہوتے ہیں جن کے کاروبار اور مشن پر حدود کی کاری ضرب لگتی ہے۔

دوسری بڑی رکاوٹ وہ بنیاد ، اصل اور منہج ہے جس پر تمام دنیا کے رائج شدہ سزاؤں کو تعمیر کیا اور سنوارا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ دنیا اور اہل دنیا نے فقط مجرم کو سزا دینے کے لیے اپنے اپنے نظام ہائے کار میں اصطلاحات وضع کیں اور ایسے قوانین کا اجراء کیا کہ جو فقط مجرم کو سزا دیتے تھے۔ قطع نظر اس سے کے جرم کے آگے کتنا مضبوط بند باندھ جا رہا ہے؟ لیکن اسلام کی پیش کردہ حدود میں یہ وجہ کار فرما نہیں بلکہ حدودِ شریعت کی بنیاد اس حکمت پر ہے کہ معاشرے میں پھیلا ہوا جرم کیسے ختم کیا جائے؟ اس جرم کے خاتمے کو مدنظر رکھتے ہوئے خدا تعالی نے حدود کا ایک نظام عطا کیا۔ دیکھیے! اہل دنیا نے جب فقط مجرم کے خاتمے کو ضروری جانا تو انہوں نے اس بات کو ملحوظِ خاطر رکھا کہ ہمارے سزا والے عمل سے کسی صورت انسانیت کی تذلیل نہیں ہونی چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے بند کوٹھری کا انتخاب کیا اور سورج کی روشنی سے پہلے ہی مجرم کے خاتمے کا قانون نافذ کیا اور سزا کے لیے بھی اس طریقہء کار کو اختیار کیا جو مجرم کے لیے کم سے کم تکلیف کا باعث ہو۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جرائم کی شرح دن بدن بڑھتی گئی۔ لوگ اس گندگی کی دلدل میں جوک در جوک دھنستےچلے گئے۔

پھر “سونے پہ سہاگہ” کہ ہمارے اربابِ دانش اور اصحابِ علم و فضل نفاذِ شریعت اور نفاذِ حدودِ شریعت کے لیے ان لوگوں سے مطالبہ کرتے ہیں جو خود اس نفاذ اور نظام کے مخالف ہیں۔ جن کے دل میں اسلام کی محبت کے بجائے مغرب کی چاپلوسی اور رعونت کا رعب سوار ہے۔ جو ہمہ وقت اپنے زمینی معبود کی خوشنودی کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ کیا نفاذِ شریعت کے لیے نیک و صالح لوگ موزوں اور درکار ہیں یا فاسق و فاجر؟ میرے خیال سے اس صورتحال میں نفاذِ شریعت یا نفاذِ حدودِ شریعت( جو بذاتِ خود ابتداء میں پیش کردہ آیت کی رو سے نامِ “اسلام” کی بدنامی کا باعث ہے) کا مطالبہ ایسا ہی ہے جیسے ایک علاقے کے افراد اس علاقے کا سربراہ معروف ڈاکو کو بنا دیں اور اس بات کی ضمانت لیں کہ ہمارا گھر ، مال ، عزت و آبرو سب محفوظ رہیں گے۔

اس کا ممکنہ حل یہ ہے کہ آپ نفاذِ حدودِ شرعیہ کے بجائے نفاذِ شریعت کے لیے تگ ودو کریں اور صحیح اسلامی منہج پر دستور کو تیار کرکے ایسے افراد کے ہاتھوں میں زمامِ اقتدار تھمائیں جو خود اسلامی فکر و سوچ اور عمل و تربیت سے مزین ہوں۔ پھر معاشرے میں رائج شدہ برائیوں ، گناہوں اور ناہمواریوں کا خاتمہ ہوگا اور اس اسلامی گلشن کی مہک اور برکت سے چہار سو معطر اور مبارک ہو گا۔

روزنامہ اساس
تاریخِ اشاعت:17-09-2020
بروز جمعرات
ای میل: naeemakhterrabbani3050@gmail.com
رابطہ نمبر: 03149301015

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے