Home / اسلام / مقدارِ جُرم اور مقدارِ سزا !!

مقدارِ جُرم اور مقدارِ سزا !!

🌹#العلمAlilm🌹 علم ُ الکتاب 🌹 ((( اَلاَعراف ،اٰیت 73 تا 79 ))) 🌹
مقدارِ جُرم اور مقدارِ سزا !! 🌹
اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد استفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 والٰی
ثمود اخاھم
صٰلحا قال یٰقوم
اعبدواللہ مالکم من
الٰہ غیرہ قد جاٸتکم باٰیة
من ربکم ھٰذہ الناقة اللہ لکم
اٰیة فذروھا تاکل فی ارض اللہ
ولا تمسوھا بسو ٕ فیاخذکم عذاب
الیم 73 واذکروااذجعلکم خلفا ٕ من بعد
عاد وبواکم فی الارض تتخذون من سھولھا
قصورا وتنحتون الجبال بیوتا فاذکروااٰلا ٕ اللہ ولا
تعثوافی الارض مفسدین 74 قال الملاالذین استکبروا
من قومہ للذین استضعفوالمن اٰمن منھم اتعلمون ان صالحا
مرسل من ربہ قالواانابماارسل بہ مٶمنون 75 قال الذین استکبروا
انابالذی اٰمنتم بہ کٰفرین 76 فعقرواالناقة وعتواعن امر ربھم وقالوایٰصٰلح
اٸتنابماتعدناان کنتم من المرسلین 77 فاخذتھم الرجفة فاصبحوافی دارھم جٰثمین
78 فتولواعنھم وقال یٰقوم لقد ابلغتکم رسالة ربی ونصحتلکم ولٰکن لاتحبون النٰصحین 79
انسانی تاریخ کی ہر تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ھو چکی ھے کہ طوفانِ نُوح کے بعد زمین پر پروان چڑھنے والی قومِ عاد فتنہِ شرک کے فساد کا شکار ھوٸ تو ھم نے اِس کی اصلاح کے لیۓ زمین پر ھُود کو اپنا نبی بنا کر بہیجا اور پھر ایک عرصے بعد جب ھُود پر ایمان لانے والوں کی دُوسری ثمودی نَسل بھی اسی فتنے سے دوچار ھوٸ تو ھم نے اِس عادِ ثانیہ کی نشأةِ ثانیہ کے لیۓ اسی قوم کے بھاٸ بندوں میں سے اُن کے ایک صلاحیت کار بھاٸ صالح کو اپنا سفارت کار بنا کر اُن کی اصلاح و ھدایت پر مامُور کیا اور اُس رسول نے بھی نُوح و ھُود کی طرح اپنی قوم کو یہی پیغام دیا کہ تُم سب کا خالق و مالک اللہ ھے اِس لیۓ تُم سب لوگ اللہ کے اَحکام کو ترک کرکے اللہ کے سوا کسی غیر کے اَحکام یا اللہ کے اَحکام کو اختیار کر کے اللہ کے علاوہ کسی غیر کے اَحکام پر کان نہ دھرو اور نہ اُن اَحکام پر عمل کرو بلکہ تُم صرف اللہ ہی کے اَحکام پر عمل کرو ، اَب تُم میں سے جو لوگ اللہ کے اَحکام پر عمل کا عھد کر چکے ہیں تو اُن کی آزماٸش کے لیۓ اللہ کی طرف بستی میں آٸ ھوٸ یہ لاوارث مہمان اُونٹنی موجود ھے جو اَب اِس بستی اور شاملاتِ بستی کی ساری چراگاہوں میں کُھلی چرے پھرے گی اور تُم میں سے کوٸ شخص بھی اِس کو نہیں روکے گا اور اگر بستی کا کوٸ فرد اِس کو کسی چراگاہ اور چشمے سے روکے گا یا اِس کو نُقصان پُہنچاۓ گا تو اِس بستی کے سارے باسیوں پر اللہ کا عذاب آجاۓ گا ، تُم لوگ یہ بات مت بُھولو کہ اللہ نے تُمہاری اِس زمین کے سخت ترین پَتھروں کو تُمہارے نازک ہاتھوں کے لیۓ ایسا نَرم بنا دیا ھے کہ تُم اِس خطہِ زمین کے پہاڑوں کو تراش کر اِن میں اپنے مَسکن و محل بنالیتے ھو ، اگر تُم بھی اپنے پرانے پُرکھوں کی طرح اللہ کی اِن نعمتوں اور نوازشوں کو اپنا کسبِ کمال سمجھ کر اِن پر اِتراٶ گے اور زمین پر اللہ کے نافرمان بن کر دَندناٶ گے تو تُم بھی اپنے باپ دادا کی طرح زمین سے مٹا دیۓ جاٶ گے ، اِس لیۓ اسی اَمر میں تُمہاری نجاتِ حیات ھے کہ تُم اللہ کے اُن اَحکامِ نازلہ پر عمل کرو جو تُمہارے رسول نے تُم کو سناۓ اور سمجھاۓ ہیں لیکن اُس قوم کے صاحبِ حیثت لوگوں نے اپنے معاشرے کے معاشرتی اعتبار سے بے حثیت سمجھے جانے والٕے سمجھدار لوگوں کو اپنا ہَمنوا بنانے کی غرض سے سوال کہ کیا تُم لوگ واقعی صالح کو اللہ کا نبی سمجھتے ھو اور جب اُن لوگوں نے اِثبات میں جواب دیا تو یہ مُتکبرینِ زمین بولے کہ تُم جس شخص کو اللہ کا رسول کہتے ھو ھم اُس کا انکار کرتے ہیں اور اِس کے بعد اُن لوگوں کے حُکم پر بستی کے ایک شخص نے اُس لا وارث و خُدا وارث اُونٹنی کو ہلاک کرنے کے بعد صالح علیہ السلام سے کہا کہ اگر تُم اللہ کے رسول ھو تو تُم نے جس عذاب کی ہمیں دَھمکی دی ھے اُس عذاب کو آنےدو ، تَب اُن لوگوں کی جانوں پر جسموں کو لَرزا دینے والی وہ تباہی آٸ کہ جب اُن پر اَگلے دن کی اَگلی صُبح آٸ تو اِن گھر دَر ھوا کے ایک لَمحاتی زور اور زمین کی ایک لرزاتی لرزش سے ایسے زیر و زبر ھوچکے تھے کہ خود صالح نبی بھی اِس مَنظر کی تاب نہ لاتے ھوۓ اِس مَنظر سے مُنہہ پھیر کر بولے کہ آنے والے زمانوں کی ہر تحقیق اِس اَمر کی تصدیق کرے گی کہ میں نے اپنے رَب کا پُورا پُورا پیغام اپنی پُوری پُوری ہَمدردی ، اپنی پُوری پُوری محبت اور اپنی پُوری پُوری صلاحیت کے ساتھ تُم لوگوں تک پُہنچا دیا تھا لیکن تُم لوگ تو ایک ایسا ناکارہ قومی ہجُوم تھے جس کو میری محبت و ہَمدردی اور نصیحت و صلاحیت کی ضرورت ہی نہیں تھی !
🌹 مُشرکینِ قدیم پر خُدا کے عذابِہاۓ قدیم ! 🌹
قُرآن کی بے داغ تاریخ اِس بات کی شہادت فراہم کرتی ھے کہ اِدریس علیہ السلام اور نُوح علیہ السلام کے وسطی دور کے انسانوں نے پہلے تو اپنے پانچ بزرگوں ، وَد و سواع ، یغوث و یعوق اور نسر کی تعظیم و تکریم شروع کی تھی لیکن کُچھ عرصے بعد پہلے اِن کی پانچ تصویریں اور بعد ازاں ان کے پانچ بُت بنا کر اُن کی پُوجا شروع کردی تھی جو دُنیا میں ھونے والی وہ پہلی بُت پرستی تھی جس کے سَدِ باب کے لیۓ پہلے نُوح علیہ السلام مبعوث ھوۓ تھے اور جب اُن کی قوم اپنی اس بُت پرستی کے باعث اللہ کے بہیجے ھوۓ سیلاب کے عذاب کے ذریعے فنا کے گھاٹ اُتار دی گٸ تو پھر نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیانی زمانے میں اِس قوم کی جس دُوسری نَسل کو عروج و اقبال ملا وہ قومِ عاد تھی لیکن اِس قوم نے بھی سُورج کے چڑھنے ڈھلنے ، چاند کے گھٹنے بڑھنے اور سیاروں کے ڈُوبنے اُبھرنے کے اَوقات کے مطابق خلا و اُفق کے اِن سیاروں کی پُوجا شروع کی تھی جو اِن سیاروں کی گردش کے مطابق مقررہ اَوقات میں کی جاتی تھی ، اِن سیاروں میں سے کوٸ اِن کی بارش کا خود ساختہ رَب تھا ، کوٸ اِن کی ھوا کا خود ساختہ رَب تھا اور کوٸ کسی بیماری کا خود ساختہ رَب تھا مگر فی الحقیقت اِن میں سے کوٸ بھی کسی شٸ کا رَب نہیں تھا ، ابراہیم علیہ السلام بُت پرستی اور سیارہ پرستی کے ان ہی مُشرکانہ اَعمال کی بیخ کنی کے لیۓ اُس قوم میں تشریف لاۓ تھے لیکن قُرآن کے زیرِ نظر مقام پر ابراہیم کے زمانے سے پہلے کے اُس زمانے کا ذکر کیا جا رہا ھے جو ابراہیم علیہ السلام کی آمد کا تمہیدی زمانہ تھا جس میں قومِ نُوح کے بعد قومِ عاد کا ذکر ھوا تھا اور جس میں ھُود علیہ السلام مبعوث ھوۓ تھے اور اَب ابراہیمی تاریخ کے اسی تَمہیدی تذکرے میں قومِ ثمود کا ذکر کیا جا رہاھے جس میں اللہ نے صالح علیہ السلام کو مامُور فرمایا تھا ، اِن اَقوام میں سے پہلی اَسلاف پرست اور بُت پرست قوم وہ تھی جس کو اللہ نے اپنے پانی کے عذاب کی طُوفانی لہروں سے اُلٹ پلٹ کر ہلاک کیا تھا ، دُوسری قوم وہ تھی جس کو اللہ نے اپنی تُند و تیز ھَوا کے تھپیڑوں کے عذاب سے چَٹخ پَٹخ کر ہلاک کیا تھا اور تیسری صالح علیہ السلام کی وہ قوم تھی جس پر اللہ نے ایک ہی وقت میں زمین و آسمان کے دو عذاب جمع کردیۓ تھے کیونکہ اِس قوم پر نُوح و ھُود کی دعوتِ حق کے دو طویل زمانے گزرے تھے اور اِس قوم نے کسی زمانے کے کسی نبی کی تعلیم سے کُچھ بھی نہیں سیکھا تھا ، اِس قوم پر ایک تو اُس ہلاکت خیز زمینی زَلزَلے کا عذاب آیا تھا جس نے اُس کی بستی کو تہہ و بالا کردیا تھا اور دُوسرا گرد اُڑاتی اور آگ برساتی اُس ھَوا کا وہ آسمانی عذاب آیا تھا جس میں اُن کے کانوں کے پردے پھاڑ دینے والی وہ کڑک تھی جس کے شور میں وہ زلزلے سے مرنے والے اپنے کسی پیارے کی آواز تک نہیں سُن سکتے تھے ، اہل تاریخ کے نزدیک صالح علیہ السلام کا زمانہ 2296 قبل مسیح کا زمانہ ھے جو محمد علیہ السلام کے عَھدِ نبوت سے 2900 سال پہلے کا اور اسی حساب سے نُوح و ھُود کا اِس سے بھی قدیم تر وہ زمانہ ھے جس کے اُن اَحوال کی قُرآن نے اپنی اِن اٰیات میں اطلاع دی ھے جن کے جاننے کا محمد علیہ السلام کے پاس کوٸ بھی ذریعہ موجُود نہیں تھا اور یہ بات بذات خود اِس اَمر کی ایک قوی دلیل ھے کہ قُرآن اللہ کی کتابِ نازلہ ھے اور محمد علیہ السلام ، اللہ کے وہ رسولِ مُرسل ہیں جن پر یہ کتاب نازل ھوٸ ھے ، صالح علیہ السلام جس قوم میں مبعوث ھوۓ تھے اُس کا نام ثمود تھا اور چونکہ یہ قوم عادِ اُولٰی کی جانشین تھی اِس لیۓ اِس قوم کو عادِ ثانیہ بھی کہا جاتا ھے ، یہ عادِ ثانیہ جس علاقے میں آباد تھی وہ غربی عرب کا وہ پہاڑی علاقہ تھا جس کا دارالحکومت ” الحجر “ کا وہی مقام ھے جو بعد میں مداٸنِ صالح کے نام سے مشہُور ھوا ھے اور بعض اہل تحقیق کے نزدیک یہ وہی مقام ھے جو موجودہ زمانے میں مدینے اور تبوک کے درمیان واقع حجاز ریلوے اسٹیشن سے نظر آتا ھے اور شاید اُم القرٰی مکہ کے ساتھ اسی زمینی قربت کے باعث اِس کو وادی القرٰی بھی کہا جا تھا ، اِس قوم کے سیارہ پرست سرداروں نے اِس علاقے کے آبی چشموں ، زرعی زمینوں اور سرسبز و شاداب چراگاہوں پر زبردستی قَبضہ کیا ھوا تھا اور عام لوگوں کے مال و مواشی کو اِن چراگاہوں کے قریب بھی نہیں پَھٹکنے دیتے تھے اور اِس پر مُستزاد یہ کہ وہ اپنے اِس کارِ جبر کو تسلیم بھی نہیں کرتے تھے ، یہی وجہ ھے کہ جب کسی دُوسرے علاقے کی ایک لاوارث اُونٹنی اللہ نے اِس علاقے میں بہیج دی تو صالح علیہ السلام نے اِن لوگوں کے جُھوٹ کا پردہ چاک کرنے کے لیۓ اللہ کے حُکم کے تحت اسی اُونٹنی کو اِن کی آزماٸش کا ذریعہ بنا لیا اور اِن لوگوں کو حُکم دیا کہ اگر تُم عام لوگوں کو اِس علاقے کی اِن قدرتی چراگاہوں سے روکتے نہیں ھو تو پھر تُم اِس اُونٹنی کو بھی کسی چراگاہ میں چرنے سے نہیں روکو گے جس کا وارث کوٸ انسان نہیں ھے بلکہ خود اللہ ھے اور اللہ نے اِس اِس اُونٹنی کو اپنی ایک عظیم حکمت و مصلحت کے تحت یہاں بہیجا ھے ، یہ لوگ کُچھ دن تک تو صالح علیہ السلام کے حُکم کے مطابق اِس اُونٹنی کو بادِلِ نخواستہ برداشت کرتے رھے لیکن کُچھ دنوں کے بعد انہوں نے قومی مشاورت سے اِس کو قتل کردیا جس کے بعد اللہ نے اپنے وعدے کے مطابق اِن پر اپنا وہ عذاب نازل کردیا جس کا قُرآن نے اپنی اِن اٰیات میں بیان کیۓ جانے والے اِس واقعے میں ذکر کیا ھے ، اگر اِس اُونٹنی کی پیداٸش کے بارے میں مُفسرینِ مجوس کی بیان کی ھوٸ یہ کہانی درست ھوتی کہ اُس اُونٹنی کے پیداٸش کے لیۓ عام لوگوں کی نظروں کے عین سامنے ایک پہاڑ پَھٹا تھا اور یہ پَلی پلاٸ اُونٹنی اُس پہاڑ سے برآمد ھوٸ تھی تو پھر اِس اُونٹنی کو مارنے کی کسی میں بھی ہمت نہ ھوتی اور چونکہ اِس اُونٹنی کے بارے میں اُن لوگوں کو جو حُکم ملا تھے وہ صالح علیہ السلام کی زبانی ملا تھا جن کی وہ پہلے ہی تکذیب کرچکے تھے اس لیۓ اِس اُونٹنی کو مارنے کے بعد اُن لوگوں نے ایک کُھلے دھڑلے اور ایک کُھلے مُشرکانہ تکبر کے ساتھ صالح نبی سے کہا کہ ھم تُمہارے اُس عذاب سے نہیں ڈرتے جس کی تُم نے اطلاع دی ھے بلکہ ھم تو تیرے مُبینہ عذاب کا انتظار کر رھے ہیں ، اِس اعتبار سے اُن لوگوں پر آنے والے اُس عذاب کا سبب اللہ کے اَحکام سے انکار اور اللہ کے نبی تکذیب تھا اور اُس اونٹنی کو اللہ نے اُن نافرنان لوگوں پر عذاب نازل کرنے کا ایک ذریعہ بنا کر بہیجا تھا جس کے ذریعے سے اُن پر یہ عذاب نازل کیا گیا اور اللہ نے اُن پر یہ دُھرا عذاب نازل کرکے اُن کو زمین سے نیست و نابُود کردیا ، رہا یہ سوال کہ اگر وہ اُونٹنی لوگوں کی نگاہوں کے سامنے پہاڑ کے پیٹ سے پیدا نہیں ھوٸ تھی تو اللہ نے اُس کو اپنی نشانی کیوں کہا ھے ، ظاہر ھے کہ اللہ جس چیز کو اپنی نشانی کہتا ھے اُس کو پہاڑ میں سے برآمد نہیں کرتا بلکہ عالَم بالا سے نازل کر کے عالَمِ غیب سے عالَمِ شہُود میں لاتا ھے ، اللہ نے اپنی جس کتابِ عظیم قرآن کی ایک ایک اٰیت کو نشانی کہا ھے تو اِس کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں ھے کہ اللہ نے اپنی یہ اٰیات کسی پہاڑ کو توڑ کر اُس میں سے برآمد کی ہیں ، اللہ نے اپنی اِس کتابِ عظیم کی اِن اٰیات کو عالَمِ غیب سے عالَمِ شہُود میں لاۓ جانے کی وجہ سے اپنی نشانی کہا ھے اور جس طرح اللہ کی یہ اٰیات اور اِن اٰیات کے یہ سارے اَحکامِ نازلہ عالَمِ غیب سے ظاہر ھونے والے نشانَ راہِ حیات ہیں اسی طرح اُس اُونٹنی کے بارے میں اُس قوم کو دیا جانے والا وہ حُکم بھی عالَمِ غیب سے عالَمِ شہود میں آنے والا ایک حُکم تھا جو اُس قوم کے لیۓ اللہ کا ایک ایسا علامتی نشان تھا جس کے ساتھ اُس کی زندگی اور موت جُڑی ھوٸ تھی اور اللہ کے جن اَحکام کے ساتھ انسان کی زندگی اور موت وابستہ ھوتی ھے وہ عالَمِ بالا سے نازل کیۓ جاتے ہیں پہاڑوں سے برآمد نہیں کیۓ جاتے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے