Home / اسلام / تَقوٰی کیا ھے اور لباسِ تقوٰی کیا ھے ؟

تَقوٰی کیا ھے اور لباسِ تقوٰی کیا ھے ؟

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَعراف ، اٰیات 26 ، 27 🌹
تَقوٰی کیا ھے اور لباسِ تقوٰی کیا ھے !! 🌹 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہومِ اٰیات ! 🌹
🌹 یٰبنی آدم
قد انزلنا علیکم
لباسا یواری سواٰتکم
وریشا و لباس التقوٰی ذٰلک خیر
ذٰلک من اٰیات اللہ لعلکم یذکرون 26
یٰبنی آدم لا یفتننکم الشیطٰن کما اخرج ابویکم
من الجنة ینزغ عنھما لباسھما لیری ھما سواٰتھما انہ یرٰکم
ھو وقبیلھم من حیث لا ترونھم انا جعلنا الشیٰطین اولیا ٕ للذین لا یٶمنون 27
اے اَبناۓ آدم ! تُم نے اپنے آبا و اَجداد کی جگ بیتی جان لی ھے ، جس شیطان کے ساتھ تُمہارے باپ داد کی جنگ جاری رہی ھے اُس شیطان کے ساتھ تُمہاری جنگ بھی جاری ھے لیکن ہر تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ھو چکی ھے کہ اِس جنگ میں تُمہارے جسموں اور تُمہاری جانوں کو شیطان کے شیطانی حملے سے بچانے کے لیۓ اللہ نے تُمہارے ضمیر و خمیر تُمہاری فطرت کے لیۓ ایک حسین اور بہترین حفاظتی لبادہ بنادیا ھے تاکہ تُم اِس کی مدد سے ہر شیطان کی نگاہِ ھوس سے اپنے جسمانی ننگ اور رُوحانی آہنگ کو بچا سکو ، یاد رکھو کہ یہ اللہ کا ناقابلِ تنسیخ اور ناقابلِ فراموش قانون ھے جس کو تُم نے ہمیشہ یاد رکھنا ھے اور جس پر تُم نے ہمیشہ عمل کرنا ھے اور اے اَبناۓ آدم ! شیطان تُم کو دوبارہ اُسی فتنے میں مُبتلا نہ کردے جس فتنے میں وہ تُمہارے پُرکھوں کو مُبتلا کرکے اُن کو مقام جنت سے محرُوم کر چکا ھے ، یاد رکھو کہ شیطان اور اُس کے حوالی موالی جو کلامِ نازلہ اور اَحکامِ نازلہ کے مُنکر ہیں وہ تُم کو اُن نادیدہ مقامات سے دیکھ رھے ھوتے ہیں جن کو تُم نہیں دیکھ سکتے لیکن اُن کے مقابلے کے لیۓ اللہ تعالٰی نے تُم کو عقل و شعُور کے جو آلات اور اپنے اَحکامِ نازلہ کے جو کمالات دیۓ ھوۓ ہیں شیطان اور اُس کے سارے لَشکر مل کر بھی اُن کا مقابلہ نہیں کرسکتے !
🌹 رَبطِ کلام و رَبطِ مضمونِ کلام ! 🌹
قُرآنِ کریم نےگزشتہ اٰیات میں گزشتہ انسانی تاریخ کے جو اَحوالِ رَفتہ بیان کیۓ ہیں اُن اَحوالِ رَفتہ میں ایک خاص زمان و مکان کے ایک خاص حوالے سے جس فرماں بردار آدم ، جس بَد کار ابلیسِ اور جس فتنہ بردار شیطان کا ذکر کیا ھے وہ ہر زمان و مکان میں موجُود ھونے اور رہنے والے تین کردار ہیں ، تاریخ کے اِن تین کرداروں کے عملِ خیر و شر سے جہان میں وقتا فوقتا اَمن و بَد امنی کے جو انقلاب آتے ہیں اُن سے تین باتیں سامنے آتی ہیں اور اُن تین باتوں میں سے پہلی بات یہ سامنے آتی ھے کہ انسان مُحولہ بالا جس جنت سے نکل کر موجُودہ زمین پر آیا ھے وہ اِس زمین پر آنے اور اُس جنت میں داخل ھونے سے پہلے بھی اللہ کی کسی زمین پر موجُود رہا ھے اور انسان نے جب اللہ کی دی ھوٸ اُس زمین پر اللہ کے اَحکامِ نازلہ کو فراموش کر کے ایک دُوسرے کے ساتھ دُشمنی کی طرح ڈالی اور پھر ایک دُوسرے کے ساتھ ایک نہ ختم ھونے والی جنگ بھی شروع کردی تو اللہ نے اپنے فرمان بردار بندوں کو اپنے نافرمان بندوں سے اَلگ کر کے اپنی اُس زمین پر رہنے کی جگہ دے دی جس زمین کا نام جنت تھا اور ھم فرض کر سکتے ہیں کہ اُس وقت اللہ کے جن بندوں کو اللہ کی اُس جنت میں جگہ نہیں دی گٸ اُن کو اُن کے اعمالِ بَد کے مطابق کسی جہنم میں جگہ مل گٸ ھو گی لیکن پھر یہ ھوا کہ اللہ کے کسی نافرمان جہان کے کُچھ نا فرمان بندوں نے اللہ کے فرمان بردار جنتی بندوں کے خلاف ایک شیطانی سازش کر کے اُن کو اُس جنت سے نکال باہر کیا جس کے بعد اللہ نے اِن سب کو اِس زمین پر رہنے کی جگہ دے دی جس میں موجُودہ انسان کی موجُودہ نَسل آباد ھے لیکن اِس سلسلہِ کلام کی 24 ویں اٰیت میں اللہ تعالٰی نے جنت سے نکلنے والے اُن انسانوں سے اُن کی زمینی حیات کے بارے میں جو کُچھ کہا ھے وہ یہ ھے کہ چونکہ تُم لوگ ایک دُوسرے کی دُشمنی میں ایک دُوسرے سے اتنے آگے بڑھ چکے ھو کہ اَب جنت میں تُمہارے رہنے کی کوٸ گُنجاٸش نہیں ھے اِس لیۓ تُم اِس جنت سے نکل کر ایک مُدت تک زمین کو اپنا ٹھکانا بناٶ ، اسی زمین میں کماٶ کھاٶ اور اسی زمین میں جیو اور مرو لیکن اِس اٰیت کے معا بعد سلسلہ کلام کی 25 ویں اٰیت میں یہ فرمایا گیا ھے کہ ھم جب تک چاہیں گے تُم کو اِس زمیں رہنے اور اِس زمین میں جینے اور مرنے کے لیۓ وقت دیں گے اور جب چاہیں گے تُم کو اِس زمین سے نکال دیں گے لیکن یہاں پر ایک قابلِ ذکر اور توجہ طلب بات یہ ھے کہ قُرآنِ کریم میں اللہ تعالٰی نے انسان کے اِس زمین سے نکلنے یا نکالے جانے کی جو دو صورتیں بیان کی ہیں اُن میں سے ایک صورت کا نام یومِ البعث ھے جو اللہ نے سُورةُالبقرة کی اٰیت 56 ، سُورةُ الاَنعام کی اٰیت 36 ، سُورةُالاَعراف کی اٰیت 167 ، سُورةُالحج کی اٰیت 7 اور پھر سُورةُالمجادلة کی اٰیت 6 اور اٰیت 18 میں بیان کی ھے ، جبکہ دُوسری صورت وہ ھے جو گزشتہ سلسلہِ کلام کی 25 ویں اٰیت کے علاوہ سُورةُالرُوم کی اٰیت 19 اور سُورةُالزُخرف کی اٰیت 11 کے تین مقامات پر ” منھا تُخرجون “ کے الفاظ میں بیان کی گٸ ھے جس کا مطلب یہ ھے کہ زمین کی اِس قیدِ حیات سے نکلنے کی ایک صورت ہر انسان کی وہ فطری و طبعی موت ھے جو ہر انسان کے جسم پر اللہ کی مشیت کے مطابق اپنے وقت پر آتی ھے اور ایک وہ غیر فطری و غیر طبعی موت ھے جو انسان کے انسان پر حملے کی صورت میں غیر فطری و غیر طبعی موت کے طور پر وارد ھوتی ھے ، اِس طبعی و غیر طبعی موت کے اِس خاص حوالے کے مطابق جولوگ تو اللہ تعالٰی کے بناۓ ھوۓ قوانینِ فطرت کے مطابق زمین پر اپنی عُمر گزار کر مرتے ہیں ، اُن کو مرنے کے بعد جو نٸ زندگی دی جاتی ھے اُس نٸ زندگی میں اُن کے اَبدی جنتی یا داٸمی جہنمی ھونے کا فیصلہ کردیا جاتا ھے لیکن جو لوگ ایک دُوسرے کو موت کے گھاٹ اُتار کر موت گھاٹ اُترتے رہتے ہیں اُن کو اُس وقت تک اِس زمین میں گردش میں سرگردان رکھا جاتا ھے جب تک کہ وہ قتل و غارت کی اِس عادتِ بَد سے مُکمل طور پر تاٸب نہیں ھو جاتے ، پھر اِن میں سے جو لوگ اللہ کی مقرر کی ھوٸ ایک مُدت میں تاٸب ھو جاتے ہیں اور تاٸب ھو کر فطری و طبعی موت مرتے ہیں اُن کا بھی یوم البعث پر حسابِ خیر و شر ھو جاتا ھے لیکن جو لوگ اللہ کی مقررہ کی ھوٸ مُدت میں قتل و غارت سے باز نہیں آتے وہ ایک مُدت تک اِس زمین سے نکال کر کسی دُوسری زمین کے دُوسرے ماحول میں ڈال دیۓ جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ راہِ راست پر آکر راست باز انسان بن کر سوال و جواب کے قابل ھو جاتے ہیں ، اِس پہلُو سے کاٸنات کا ایک مُتعدی تصور بھی سامنے آتا ھے لیکن ظاہر ھے کہ یہ سب باتیں تحقیق طلب ہیں ، انسان کا موجُودہ اَدنٰی سطح کا علم ابھی اُس اَعلٰی سطح تک نہیں پُہنچا کہ جہاں پر وہ دو اور دو چار کی طرح اِن امکاتِ موت و حیات کو پُوری طرح سمجھ سکے اور پُوری طرح بیان بھی کر سکے تاہَم یہ بات طے ھے کہ اللہ کے اِس ایک جہان میں اُس کے بیشمار جہان ہیں جو ھماری نگاہ سے اِوجھل ہیں ، اُس کے اِن بیشمار جہانوں میں اُس کی وہ بیشمار کہکشاٸیں ہیں جن کے دامن میں کٸ پوشیدہ جہان ہیں ، اُس کے اِن بیشمار کہکشانی جہانوں میں اُس کی بیشمار زمینیں بھی ہیں جن تک اُس کے صاحبِ علم بندوں نے رساٸ حاصل کرنی ھے ، اُس کی اِن بیشمار زمنیوں میں اُس کی وہ بیشمار جنتیں بھی ہیں جن میں اُس کے فرماں بردار بندوں نے جانا ھے اور اُس کے اِن ہی نادیدہ جہانوں میں وہ بیشمار جہنم بھی ہیں جن میں اُس کے نافرمان بندوں نے رہنا ھے !
🌹 انسان کا لباسِ خیر و شر ! 🌹
قُرآنِ کریم نے گزشتہ اٰیات میں انسان کو انسانی تاریخ اور انسان کی جنت سے زمین پر ہجرت کی کہانی سناٸ تھی اور اَب اِس زمین پر آنے والے انسان کی اُن ضروریات کی طرف توجہ مبذول کراٸ جا رہی ھے جن میں ھوا ھے جو ہر جاندار کو بلا مُشقت دی جاتی ھے ، پانی ھے جو تلاش سے مُیسر آجاتا ھے اور خوراک ھے جو محنت سے حاصل کی جاتی ھے لیکن خوراک کے حصول کے لیۓ جو بھاگ دوڑ کی جاتی ھے اُس بھاگ دوڑ کے لیۓ انسان کو موسم کے مطابق ایک مُناسبِ حال پوشاک کی ضرورت ھوتی ھے اِس لیۓ اِس اٰیت میں انسان کی دیگر ضمنی ضروریات کو ضمنِ مضمون میں رَکھ کر نفسِ مضمون کے طور پر اِس کی پوشاک کا ذکر کیا جا رہا ھے جس کا اُس کو بہر صورت انتظام کرنا ھوتا ھے لیکن اِنسان کی کوٸ پوشاک کافر و مُسلم پوشاک نہیں ھے بلکہ ہر پوشاک ایک ایسی پوشاک ھے جس کو قُرآن نے انسان کی ایک مُطلق پوشاک اور انسان کا ایک مُطلق پہناوا کہا ھے اور یہی مُطلق پوشاک یا پہناوا انسان کا وہ لباسِ خیر ھے جو اُس کو موسم کی سردی و گرمی سے بھی بچاتا ھے اور بَد نگاہ کی نگاہِ حرص و ھوس بھی بچاتا ھے ، یہ لباسِ خیر انسانی جسم کے حوالے سے انسان کی وہ ذھنی کیفیت ھے جس کے تحت وہ پوشاک حاصل اور استعمال کرتا ھے اور یہ ذھنی و فکری پوشاک کا وہ قُدرتی شعُور ھے جو قُدرت نے اپنی ہر ذی شعُور اور غیر ذی شعور مخلُوق کی فطرت میں رکھا ھوا ھے ، پوشاک کے حوالے سے انسانی جسم دو حصوں پر مُشتمل ھے ، ایک حصہ وہ ھے جسے سردی یا گرمی سے بچانے کے لیۓ پوشاک کی اور دُوسرا حصہ وہ ھے جسے نگاہِ غیر سے چُھپانے کے لیۓ پوشش کی ضروت ھوتی ھے ، جسم کے پہلے حصے کو چُھپانا حیات کا تقاضا ھے اور دُوسرے حصے کو چُھپانا حیا کا تقاضا ھے ، جسم کے جس حصے کو موسم کی شدت سے بچانا لازم ھے اُسے انسانی نگاہ سے چُھپانا لازم نہیں ھے اور جسم کے جس حصے کو انسانی نگاہ سے چُھپانا لازم ھے اُس کو شوہر و بیوی کے سوا ہر ایک سے چُھپانا لازم ھے ، حیا اور حیات کی اِس فطری تعلیم کے لیۓ مُعلمِ فطرت نٕے حیا کو تخلیق اور حیات کو ضرورت سے مربُوط کر کے حیا کے تقاضے کو حیات کے تقاضوں پر فوقیت دی ھے ، زمین پر جب سے جاندار مخلوق موجُود ھے فطرت کا قانونِ ستر جاندار مخلُوق کے تولیدی اعضا کو اِس کی جسمانی بناوٹ میں چُھپاتا رہا ھے ، فطرت کی درسگاہ میں مخلُوق کے جنسی اعضا کا پہلا ستر اِس کی جسمانی بناوٹ ، دُوسرا ستر اِس کی پوشش اور تیسرا ستر اِس کی وہ حیا ھے جو اِس کی جبلّت میں رَکھ دی گٸ ھے ، انسان کا بچہ یہ فطری حیا لے کر پیدا ھوتا ھے اور پیدا ھوتے ہی رو رو کر اپنی برہنگی چُھپانے کا مطالبہ کرتا ھے ، فطرت نے جس جاندار کے صنفی اعضا کو اِس کی فطری بناوٹ میں مستُور کیا ھے وہ جاندار فطری مستُوریت کے ساتھ پیدا ھوتا ھے اور انسان کے سوا کسی بھی جاندار کو جسم کے اِن مستُور حصوں کو مستُور رکھنے کے لیۓ کسی انتظام کی ضرورت نہیں ھوتی بلکہ جسم کے یہ مستُور حصے اِس کی فطری حیا کے زیرِ اثر خود سے خود مستُور رہتے ہیں ، فطرت کے اِس دستِ سحر کا نے جاندار مخلُوق کی جبلّت میں یہ جوہرِ حیا ڈالنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اِس کی حیات کو برقرار رکھنے کے لیۓ اِس کے جسم پر ایک پوشش بھی ڈال دی ھے تاکہ سردی ، گرمی اور دُھوپ یا بارش کی شدت اِس کی حیات کے لیۓ خطرناک ثابت نہ ھو !
🌹 ذکرِ جنت و ذکرِ انسان ! 🌹
جنت کے ذکر میں جگہ جگہ پر یہ بات آتی ھے کہ جنت ایک اخفا اور پوشیدگی ھے لیکن حقیقت یہ ھے کہ کاٸنات کی ہر بَرتر شٸ کسی کَم تر وجُود میں چُھپی ھوٸ ھے یہاں تک کہ انسان بھی جنت اور اَشجارِجنت کی طرح اپنی کتابِ ذات کے صفحات میں چُھپا ھوا ھے ، انسان کا جسمانی ڈھانچا چھ 600 سے زاٸد رگوں پَٹھوں میں جَکڑا ھوا ھے ، 2o6 ہَڈیوں کا جو ایک ظاہری پَنجر ھے ، اُس کے بالاٸ خلا میں دماغ ، زیریں خلا میں معدہ ، وسطی خلا میں دل اور دل و دماغ کے پوشیدہ تر خلا میں انسان خود چُھپا ھوا ھے ، اِس پَنجر کے بالاٸ خلا کے یمین و یسار میں اِس پِسِ پردہ انسان کے سُننے کے لیۓ دو کان ہیں ، سامنے کے رُخ پر دیکھنے کے لیۓ دو آنکھیں ، کھانے کے لیۓ کام و دَھن اور سُونگھنے کے لیۓ ایک حساس ناک ھے ، اِس کے زیریں خلا میں معدے کی مشین ھے جو خوراک کا سفوف بنا کر فُضلہ جسم سے خارج کرتی ھے ، خوراک کا کار آمد جو ہَر کشید کر کے جگر کو دیتی ھے ، جگر یہ جو ہر دِل تک پُہنچاتا ھے اور دل سارے جسم میں پھیلا دیتا ھے اور جس انسان کے لیۓ یہ اہتمامِ جسم و جان کیا گیا ھے وہ ایک جِن و جان اور ایک جنت بن کر جسم کے خول میں چُھپا ھوا ھے ، اِس انسان کا پہلا پہناوا اِس کا جسمانی ڈھانچا ھے اور اِس پہناوے کا پہناوا اِس کی جلد ھے جو جسم کی ہَڈیوں کو جوڑ کر ، رَگوں پَٹھوں کو سمیٹ کر ، جسم کے سیلابِ خُون کو جسم میں روک کر رکھتی ھے ، خُون کے خَلیوں کی حفاظت کرتی ھے ، جسم کے بیرونی حالات سے باخبر رہتی ھے اور اندرُونی درجہِ حرارت کو کنٹرول کرتی ھے ، غار کے زمانے میں جِلد ہی انسان کی پوشاک رہی ھے ، پھر بڑھتی عُمر اور بدلتے موسموں کے ساتھ جسم کی کھال پر بالوں کا جال بننا شروع ھوا اور جو انسان جس ماحول اور جس طرح کی آب و ھوا میں گیا اِس کی کھال پر اسی آب و ھوا کے مطابق اِس کے بال بڑھتے یا جَھڑتے رھے اور اسی کے مطابق اِس کی پوشش بھی ہَلکی یا بھاری ھوتی رہی !
🌹 انسان اور فطرت کا فیضان ! 🌹
فطرت کے یہ آثار آج بھی نباتی ، حیوانی اور انسانی حیات میں ماحول اور موسم کے مطابق گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں اور حیات کی ہر نوع اپنے فطری انتخاب Naturalselection کی فیض یابی سے فیض یاب ھوتی رہتی ھے ، نباتی پودے مُختلف ماحول اور آب و ھوا میں جُدا جُدا صورتوں میں نمُودار ھوتے اور اَلگ اَلگ رنگوں کے ساتھ اپنے وجُود کو ظاہر کرتے ہیں ، بیل دَار پودے جال کی صورت میں پھیلتے اور بڑے بڑے تَن آور درختوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ، اِن کی ہر شاخ اپنا راستہ بناتی اور اپنے بناۓ ھوۓ راستے پر ہر پَست و بالا کو تہہ و بالا کرتی چلی جاتی ھے ، اِن جال دَار بیلوں کے پاس درختوں اور پہاڑوں پر چڑھنے کے لیۓ تاروں کا ایک اَنبار ھوتا ھے جس سے وہ اپنے وجُود کو درخت کی شاخوں کے ساتھ باندھتی چلی جاتی ہیں تاکہ وہ ھوا کے دباٶ سے اپنے ہی وجُود کے وزن سے گر کر زمین پر نہ آجاٸیں ، چیونٹی زمین پر ایک مَنخنی سے وجُود کی حامل ھوتی ھے اور سمندر کے سینے میں ایک کیکڑے کی صورت اختیار کر لیتی ھے ، میدانی علاقوں کے بیشتر لوگوں کی کھال بالوں سے بے نیاز ھوتی ھے اور کوہستانی باشندے بالوں بھری کھال کے حامل ھوتے ہیں ، جس طرح زمانے کے بدلے ھوۓ موسم و ماحول میں نباتی پودوں اور حیوانی نَسلوں کے رنگ اور رویۓ بدلتے رھے ہیں اسی طرح زمانی اِرتقا ٕ کے دوران موسم ، ماحول اور عُمر کے ساتھ انسا کی خوراک اور پوشاک بھی بدلتی رہی ھے ، قدیم انسان کی خوراک گوشت ، پَھل اور سبزہ و گُل تھی ، وہ جنگلوں میں رہتا تھا ، غاروں میں سوتا تھا اور اِس کا جسم بالوں کی پوشش میں ھوتا تھا ، جدید انسان بنگلوں میں رہتا ھے ، فضا میں اُڑتا ھے اور ھوا میں گھومتا ھے ، اِس کی خوراک جدید اور پوشاک جدید تر ھے ، خوراک اور پوشاک کی تبدیلی کا یہ زمانی فرق زمانے کے طویل دورانیۓ میں ہی میں نظر نہیں آتا بلکہ وقت کے قلیل وقفے میں بھی نظر آتا ھے ، بچہ رحمِ مادر میں ھوتا ھے تو جسمِ مادر اِس کی پوشاک اور خونِ مادر اِس کی خوراک ھوتا ھے ، پالنے سے پاٶں نکالتا ھے تو قانونِ دین اُسے حلال و حرام کی تعلیم دیتا ھے اور قانونِ مذہب و معاشرت اُسے ستر پوشی کی تلقین کرتا ھے یہاں تک کہ وہ یہ بات جان جاتا ھے کہ خوراک کا مقصد جان بچانا ہی نہیں بلکہ اَچھی خوراک پانا اور صالح خون بنانا بھی ھے اور اسی طرح وہ بھی یہ بھی سمجھ جاتا ھے کہ پوشاک پہننے کا مطلب موسم کی شدت سے ہی خود کو بچانا مطلُوب نہیں ھے بلکہ نگاہِ غیر سے خود کو بچانا بھی مقصود ھے ، ابتداٸ زمانے میں زمین کے سارت انسان و حیوان ایک طرح کی پوشش میں پوشیدہ ھوتے تھے لیکن علمی و فکری اِرتقا ٕ کے بعد انسان نے پوشاک پہنی تو وہ پوشش سے بے نیاز اور حیوان سے مُممتاز ھو گیا ، قُرآن کا نَبی آدم بَنی آدم کا وہ پہلا آدم ھے جس نے جسم پر پوشاک کا استعمال شروع کیا یہاں تک کہ اِس کی پوشش ختم ھوگٸ اور پوشاک ہی باقی رہ گٸ ، عجمی مُفسرین میں سے بہت سے مُفسرین نے پہلے تو جنت میں آدم و حوا کو ننگا کرنے پر اپنا زور صرف کیا ھے اور بعد ازاں آدم کے جسم پر شیشے اور ناخن کے خیالی لبادے لپیٹنے کی کوشش کی ھے لیکن آدم کے وجُود پر اِن کے یہ مرکری لبادے Fit نہیں بیٹھے کیونکہ اللہ تعالٰی نے آدم کو آدم کا نام دے کر اور یٰاٰدم ” اے پوست پوش “ کہہ کر اِن کے چرمی پہناوے کو اسی طرح ظاہر کردیا ھے ، جس طرح یٰایھالمزمل اور یٰایھا المدثر کے پُر معنی خطاب سے سیدنا محمد علیہ السلام کے پہناوے کی نشان دہی کی ھے ، یہ بات انتہاٸ قابلِ غور ھے کہ جس خالق نے حیوانات تک کی ستر پوشی کا ایک فطری اہتمام کیا ھے اُس خالق نے جنت میں آدم و حوا کی پردہ پوشی کا انتظام کیوں نہیں کیا ھو گا اور قُرآن نے انسان کے لیۓ جس لباسِ تقوٰی کا ذکر کیا ھے وہ یہی لباسِ تقوٰی ھے جو اللہ نے انسان کی فطرت میں فطرت بنا کر شامل کیا ھے اور جس کا تعلق انسان کے پاکیزہ فکر و خیال کے ساتھ اِس طرح جُڑا ھوا ھے جس طرح کعبے کے ساتھ کعبے کی حُرمت کا خیال جُڑا ھوا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے