Home / اسلام / آدم و جماعتِ آدم اور جنتِ آدم !! 🌹 { 2 } 🌹

آدم و جماعتِ آدم اور جنتِ آدم !! 🌹 { 2 } 🌹

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَعراف ، اٰیت 19 تا 25 !! 🌹
آدم و جماعتِ آدم اور جنتِ آدم !! 🌹 { 2 } 🌹 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہُومِ اٰیات ! 🌹
🌹 ویٰاٰدم اسکن
انت و زوجک الجنة
فکلا منھا حیث شٸتما
ولا تقربا ھٰذہ الشجرة فتکونا
من الظٰلمین 19 فوسوس لھماالشیطٰنہ
لیبدی لھما ماوری عنھما من سواٰتھما وقال
مانھٰکماربکما عن ھٰذہ الشجرة الا ان تکونا ملکین
اوتکونا من الخٰلدین 20 وقاسمھما انی لکما لمن النٰصحین
21 فدلٰھما بغرور فلما ذاقاالشجرة بدت لھما سواٰتھما وطفقا یخصفٰن
علیھما من ورق الجنة ونادٰھما ربھما الم انھکما عن تلک الشجرة واقل لکما
ان الشیطٰن لکما عدو مبین 22 قالا ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن
من الخٰسرین 23 قال اھبطوا بعضکم لبعض عدو ولکم فی الارض مستقر ومتاع الٰی حین 24
قال فیھا تحیون و فیھا تموتون و منھا تخرجون 25
اے آدم ! تُم اور تُمہاری جماعت اِس باغ میں رھو اور جہاں سے چاھو کھا اور پیو مگر اُس جماعت کے قریب نہ جانا جس کے قریب جانے سے تمہیں روک دیا گیا ھے ، اگر تُم اِس حُکم کی خلاف ورزی کرو گے تو پھر اِس محفوظ ٹھکانے سے محروم ھو جاٶ گے ، پھر یوں ھوا کہ ایک روز دُشمن جماعت کا ایک بہکا اور بَہٹکا ھوا فرد یہاں تک آپُہنچا جس نے اپنی گُم راہ کُن باتوں سے آدم اور آدم کی جماعت کے دِل میں دُشمن کے ساتھ مُبازرت کی چَنگاری ڈال دی تاکہ وہ آدم کے دِل میں اُس خوابیدہ فتنے کو جگاۓ اور اُس کو اِس حفاظتی حصار سے باہر لے آۓ ، اِس مقصد کو حاصل کرنے کے لیۓ اُس نے آدم اور آدم کی جماعت سے کہا خُدا لگتی کہوں تو تُم کو اُس جماعت سے دُور رَکھنے کی اِس کے سوا کوٸ دُوسری وجہ نہیں ھے کہ تُم اُس فرشتوں کی جماعت میں پُہنچتے ہی اُس کی طرح فرشتے بَن کر ایک داٸمی حیات کے مالک بن جاٶ گے ، پھر اُس نے اِن کی خیر خواہی کی قسم کھاٸ تو اُن کو اِس کی بات پر اعتبار آگیا جس کے بعد وہ مکار اِن کو اِس پوشیدہ مقام سے نکال کر اُس کُھلے میدان کے قریب لے گیا جہاں دُور دُور تک اُس جنگ کا وہ گرد و غبار چھایا ھوا تھا جس جنگ کو یہ لوگ باغِ جنت میں جانے سے پہلے دیکھ اور بُھگت چکے تھے اور اَب اِس کو دیکھ کر اُن کو اُس مکار اَجنبی کی مکارانہ چال میں آنے اور اُس کے جال میں پَھنس جانے کا احساس ھوا اور یہ اِحساس ھوتے ہی وہ تیزی کے ساتھ بھاگ کر خود کو باغِ جنت کی شاخوں اور پتوں میں چُھپانے لگے اور پھر ٹھیک اُسی لَمحے اللہ نے اُن کے دِل میں یہ خیال ڈالا کہ تُم کو تو میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ شیطان تُمہارا ایک مُسقل بالذات دُشمن ھے جو تُمہارے پیچھے لگا ھوا ھے اور تُم نے اُس سے کبھی بھی غافل نہیں ھونا ھے ، تَب وہ دونوں کہنے لگے کہ اے ھمارے پروردگار ! ھم تو اِس کے بہکاوے میں آکر اپنا نُقصان کر بیٹھے ہیں ، اگر ھمارے اِس نامراد لَمحے میں تُو ھم پر مہربان نہ ھوا اور تُونے ہمیں اپنے سایہِ رَحمت میں چُھپا کر اِس اُفتاد سے بچا نہ لیا تو ھم کہیں کے بھی نہ رہیں گے ، اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ اَب تُم ایک دُوسرے کی دُشمنی میں ایک دُوسرے سے بڑھ چکے ھو ، اِس لیۓ یہاں سے نکل کر کُھلی زمین میں جاٶ اور اُس کُھلی زمین میں اپنی بقاۓ حیات کے لیۓ ایک نیا جہان بساٶ ، اَب تُم نے ایک مُدت تک اُسی زمین پر جینا ھے اور اُسی زمین میں مرنا ھے ، ھم جب چاہیں گے تُم سب کو اُس زمین کے حصار سے نکال کر باہر لے آٸیں گے !
🌹 آدم اور زوجِ آدم ! 🌹
اٰیاتِ بالا میں آنے اور گزشتہ سطُور میں بیان کیۓ جانے والے پہلے لَفظ ” اُسکُن “ کے بعد اٰیاتِ بالا میں وارد ھونے والا دُوسرا تشریح طلب لَفظ ” زوج “ ھے جس کا لُغوی اور اصطلاحی معنٰی جوڑا ھے ، جوڑا مُفرد عدد کا مُفرد عدد کے ساتھ بھی ھوتا ھے ، تَنہا فرد کا تَنہا فرد کے ساتھ بھی ھوتا ھے اور ایک مُنظم جماعت کا ایک دُوسری مُنظم جماعت کے ساتھ بھی ھوتا ھے ، قُرآنِ کریم نے اٰیاتِ بالا میں آدم و حوا کے علاوہ جنت میں آدم کے ساتھ جانے اور آدم کے ساتھ رہنے والے اُن اَبناۓ آدم کو بھی زوج کہا ھے جو جنت میں آدم کے ساتھ گۓ تھے اور جنت میں آدم کے ساتھ رھے تھے اور زوج کا یہ معنٰی ھم نے اپنے کسی وھم و خیال سے وضع نہیں کیا بلکہ قُرآنِ کریم نے سُورةُالواقعة کی اٰیت ایک تا سات میں خود مُتعین کیا ھے جہاں پر اللہ نے ایک قیامتِ رَفتہ کے حوالے سے یہ ارشاد فرمایا ھے کہ تُمہارے لیۓ تاریخ کا وہ لَمحہ ایک ناقابلِ فراموش لَمحہ تھا جب وہ واقع ھونے والی گھڑی واقع ھوٸ تھی تو تُمہاری دَھرتی تہہ و بالا اور تُمہاری زمین زیر و زبر ھو کر رہ گٸ تھی ، تُمہارے پہاڑ ریزہ ریزہ ھو کر خاکِ غبار بَن کر اُڑ گۓ تھے اور تُم زمین کی تین سمتوں میں بکھر کر تین جماعت بن گۓ تھے ، زوج ایک اسمِ واحد ھے اور یہ اسمِ واحد جب اپنی جنس کے دُوسرے اسمِ واحد کے ساتھ آتا ھے تو قُرآن اُس کو ” زوجین “ کہتا ھے اور زوجین کا معنٰی ایک کا دُوسرا ساتھی یا ہمراہی ھوتا ھے ، زوجین سے مراد نَر کے ساتھ ناری کا یا ناری کے ساتھ نَر کا ھونا نہیں ھوتا بلکہ نَر کے ساتھ نَر کا اور ناری کے ساتھ ناری کا ھونا ھوتا ھے ، سیدنا نُوح علیہ السلام کو جب کشتی میں جاندار مخلُوق کے جوڑے سوار کرنے کا حُکم ھوا تھا تو وہ حُکم اِن اَلفاظ میں ھوا تھا کہ ” قلنا احمل فیھا من کل زوجین اثنین “ یعنی جب نُوح نے کشتی تیار کرلی تو ھم نے کہا اَب تُم اِس کشتی میں ہر ایک جاندار کے دو دو جوڑے سوار کر لو ، اِس حُکم کا مقصد یہ تھا کہ جس جنس کا جو جاندار موجُود ھے اُس کے نَر کا جوڑا اور مادہ کا جوڑا کشتی میں رکھا جاۓ تاکہ طوفان تَھمنے کے بعد زمین پر ہر جاندار کا نسلی سلسلہ جاری رَکھا جاۓ ، اگر کشتیِ نُوح میں نر و مادہ کا جوڑا رکھا جاتا تو نر و مادہ میں سے کسی ایک کے مرجانے کی صورت میں دُوسرے کا ھونا نہ ھونا برابر ھو جاتا ، اِس لیۓ نر و مادہ کا جوڑا اَلگ اَلگ رکھا گیا تاکہ نر و مادہ میں سے کوٸ ایک مر بھی جاۓ تو دُوسرا جاندار نٸ نَسلوں کی نٸ نَسل ریزی کے لیۓ کام آۓ لیکن باٸبل نے چو نکہ نر و مادہ کو ” زوجین “ کہا ھے اِس لیۓ ھمارے عُلماۓ مجوس نے بھی قُرآنِ کریم یا عقلِ سلیم سے استفادہ کرنے کے بجاۓ باٸبل کی فکری بُنیاد پر اپنا فکری محل تعمیر کیا ھے اور قصہِ آدم میں وارد ھونے والی اٰیت ” انت و زوجک الجنة “ میں واقع ھونے والے لَفظِ زوج کو آدم کی جماعت کے بجاۓ آدم کی بیوی بنا دیا ھے ، حالاں کہ قُرآنِ کریم نے آٹھ مقامات پر بیوی کے لیۓ اَمرأة اور شوہر کے لیۓ بعل کا لَفظ استعمال کیا ھے لیکن ھمارے مُفسرینِ کرام نے ایک طرف تو قُرآن کی اِن ساری اٰیات سے مُجرمانہ چشم پوشی کی ھے اور دُوسری طرف باٸبل کے ساتھ اپنی مُقلدانہ گرم جوشی کو زندہ و قاٸم رکھنے کے لیۓ اِن قُرآنی اٰیات کو بھی باٸبل کے باٸبلی مفہوم کے مطابق ڈھالنے میں لگے رھے ہیں ، مثال کے طور پر قُرآنِ کریم کی سورَہِ طٰہٰ کی اٰیت 123 میں اللہ تعالٰی کا جو تہدیدی حکم ” اھبطا منھا جمیعا بعضکم لبعض عدو “ وارد ھوا ھے اِس کا حاصل یہ ھے کہ تُم دونوں گروہ یہاں سے نکل جاٶ کیونکہ تُم دونوں ایک دُوسرے کے دُشمن بن چکے ھو ، اِن گروہوں میں ایک گروہ شیطان کا گروہ تھا جو آدم اور اُن کی جماعت کا دُشمن تھا اور دُوسرا گروہ آدم اور آدم کے اُن ساتھیوں پر مُشتمل تھا جو آدم کے ساتھ جنت میں گیا تھا اور اَب وہ شیطان کے شیطانی گروہ کی شیطانی سازشوں کا شکار ھوا تھا اور مُسلسل ھو رہا تھا لیکن عجمی مُفسرینِ قُرآن روایت باٸبل کی اتباع میں صدیوں سے اِس بات پر اصرار کرتے چلے آ رھے ہیں کہ اِس اٰیت میں وارد ھونے والا لفظِ ” اھبطا “ تثنیہ کا صیغہ ھے اور اِس کے مُخاطب آدم و حوا ہیں ، یہ بات یقینا درست ھے کہ ” اھبطا “ اَمر حاضر کا اور تثنیہ کا صیغہ ھے لیکن اِس خطاب کے مُخاطب آدم و حوا نہیں ہیں کیونکہ کسی خاص استثناٸ قاعدے سے قطع نظر فصاحتِ کلام کے عام قاعدے کے مطابق بھی بیوی شوہر کے حُکم میں شامل ھوتی ھے اور اِس کلامِ عام کے اِس عام قاعدے کے مطابق ایک تخاطب کے ہر مخاطب کو اَلگ اَلگ خطاب نہیں کیا جاتا بلکہ اِس طرح کے اجتماعی خطاب میں صرف شوہر کو خطاب کیا جاتا ھے اور شوہر کو کیۓ جانے والے اِس خطاب میں بیوی قُدرتی طور پر شامل ھوتی ھے ، دُوسری بات جو عُلماۓ مجوس کے اِس باطل خیال کی تردید کرتی ھے وہ اِس اٰیت میں موجُود لَفظ ” جمیعا “ ھے جو اِس بات کی نشان دہی کرتا ھے کہ اِس خطاب کے مُخاطب دو اَفراد نہیں تھے بلکہ دو جماعتیں تھیں جن میں بہت سے اَفراد شامل تھے اور ” جمیعا “ کے اِس خطاب میں اُن سب اَفراد کو مخاطب فرمایا گیا تھا اور تیسری بات جو اِس خیال کے خام ھونے کی ایک مزید قوی تر دلیل ھے وہ اِس سلسلہِ میں آنے والا لَفظِ ” عدو “ ھے جو دو دُشمن اَفراد یا جماعتوں کے درمیان موجُود دُشمنی کی نشان دہی کرتا ھے اور یہ بات کسی وضاحت کی مُحتاج نہیں ھے کہ آدم و حوا کے درمیان رشتہِ محبت تھا ، رشتہِ عداوت نہیں تھا ، رشتہِ عداوت آدم اور شیطان کی دو جماعتوں کے مابین تھا اور جن دو جماعتوں کے مابین یہ رشتہِ عداوت موجُود تھا اِس خطاب کی مُخاطب بھی وہی دو جماعتیں ھو سکتی ہیں ، آدم و حوا اِس خطاب کے مخاطب نہیں ھو سکتے کیونکہ اُن کے درمیان عداوت کا کوٸ ثبوت بھی موجُود نہیں ھے اور کوٸ وجہِ ثبوت بھی موجُود نہیں ھے ، لیکن قُرآنِ کریم جو اپنے کلامِ مُختصر اور اُسلُوبِ وسیع کے حوالے سے ایک لاثانی کتاب ھے ، اِس کے اِسی سلسلہِ کلام کی اٰیت 22 میں” و نادٰھما ربھما “ کا وہ مقام بالکُل اَلگ تَھلگ نظر آتا ھے جہاں پر آدم و حوا کے درمیان رشتہِ محبت کو ظاہر کرنا اور اُن دونوں کو اِس رشتے کے حوالے سے مُخاطب کرنا مطلُوب ھے ، چناچہ اُس خاص مقام پر اللہ تعالٰی نے آدم و حوا کو اَلگ سے اپنے شرفِ خطاب سے مُشرف فرمایا ھے ، اِس بات کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں ھے کہ جو لوگ شیطان کے بہکاوے سے بہک کر باغِ جنت سے باہر آۓ تھے اُن میں آدم کے ساتھیوں کے علاوہ آدم کی بیوی حوا بھی بہر حال شامل تھیں اور باغِ جنت سے باہر آنے والے اَفراد باغِ جنت سے باہر آکر اور باہر کا خطرناک ماحول دیکھ کر جس اَفرا تفری سے دوچار ھوۓ ھوں گے اُس اَفرا تفری میں جب یہ سب کے سب لوگ اپنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنے اپنے بچاٶ کے لیۓ اپنے اپنے مُیسر آنے والے راستوں پر بھاگے ھوں گے تو آدم و حوا بھی شوہر و بیوی کے طور پر ایک دُوسرے کے ساتھ ھوں گے اور ایک دُوسرے کا ہاتھ پکڑ کر باغِ جنت کے درختوں اور پتوں میں خود کو چُھپانا اور ایک دُوسرے کا ہاتھ پکڑ کر ایک دُوسرے کے ساتھ ہی باغِ جنت میں واپس جانا چاہتے ھوں گے ، اِس لیۓ اِس مو قعے پر اللہ تعالٰی نے آدم سے جو خصوصی خطاب کیا ھے اُس خطاب میں اُن کی اہلیہ حوا کو بھی شامل کیا ھے اور اٰیت 22 میں آدم و حوا سے اللہ کا جو مُشترکہ خطاب ھے اِس مُشترکہ خطاب کے بعد اٰیت 23 میں اللہ سے جو دُعا کی گٸ ھے وہ دُعا بھی آدم و حوا کی ایک مُشترکہ دعا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے