Home / اسلام / یوم ختم نبوت ،ایک عہدسازدن

یوم ختم نبوت ،ایک عہدسازدن

تحریر:
محمد عثمان شجاع آبادی

عقیدہ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی اور اہم عقیدہ ہے جس پر پورے دین کا انحصار ہے۔ یہ عقیدہ مسلمانوں کے ایمان کی اساس اور روح ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض، اس کے ایمان کا تقاضہ اور آخرت میں شفاعتِ رسول ؐ کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب سیدنا محمدؐ کو آخری نبی بنا کراس دنیا میں مبعوث فرمایا اورپوری مسلم امہ کا اس پر اجماع ہے کہ نبی کریمؐ کے بعدنبوت کا دعویٰ کفر ہے۔
ماضی کے مختلف ادوار میں کئی بد بخت افراد نے نبوت کا دعوی کرکے مسلمانوں میں افتراق پیدا کرنے اور انہیں گمراہ کرنے کی سعی مذموم کی۔ مگر ہر دور میں علمائے امت نے ان کیخلاف بھرپور مزاحمت کی اور امت محمدیہ ﷺکو گمراہی اور ارتداد سے بچایا۔انیسویں صدی برصغیر میں اقتدار کی تبدیلی کی صدی تھی، جب انگریز نے اقتدار سنبھالاتواس سامراج کی غاصب وظالم حکومت کے خلاف ہندوستان کی تمام اقوام متحد ہوئیں اور ہر محاذ پرفرنگی اقتدار کے خلاف زبردست جدوجہد کی۔ خاص طور پر مسلمانوں نے انگریز کے خلاف بغاوت کو جہاد قرار دیا اور اسے توشہ آخرت سمجھ کر اس محاذ پر سرگرم رہے۔ انگریز دانا اور عیار دشمن تھا۔ یہ بات ہمیشہ اس کے پیش نظر رہی کہ ہم نے اقتدار مسلمانوں سے چھینا اور مسلمان ہی ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ انگریزسمجھتا تھا کہ مسلمانوں کوغلام ایک ہی صورت میں بنایاجاسکتا ہے کہ ان کے دل ودماغ سے جذبہ جہاد کو نکال دیا جائے۔اس کام کے لئے انہوں نے ”قادیان“ کے ایک لالچی اور بدکردار شخص ”مرزا غلام احمد“ کو دعویٰ نبوت کے لیے آمادہ کیا اور اس نے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے نبوت کا دعوی کیا اورانگریز کے کلاف جہاد کو بغاوت قرار دیا اورہمیشہ کے لئے جہاد کو حرام قرار دیا۔ یہ لمحہ مسلمانوں کے لیے بہت بڑی آزمائش تھا۔ تب علماءِ حق نے مسلمانوں کا حوصلہ بڑھایا اور اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے میدانِ عمل میں آئے۔ فتنہ قادیانیت کو انگریز کی مکمل سرپرستی حاصل تھی یہی وجہ ہے کہ اس فتنے کو کچلنے کے لیے مسلمانوں کے نوے سال صرف ہوئے۔اولاًفتنہ قادیانیت کے خلاف انفرادی محنت کی گئی۔، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ،حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒودیگر علمائے کرام نے علمی محاذ پر اپنی زبان و قلم سے فتنہ قادیانیت کو آڑے ہاتھوں لیابعدمیں انہی علماءِ حق کی انفرادی محنت اجتماعی جدوجہد میں تبدیل ہوئی۔
قیامِ پاکستان، مرزائیوں کے لیے سب سے بڑا سانحہ اور صدمہ تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس وقت کے گورنر پنجاب سر فرانسس موڈی نے چنیوٹ سے متصل دریائے چناب کے کنارے ایک پوری بستی اپنے اس چہیتے بچے کے نام الاٹ کر دی۔ جو آج چناب نگر (ربوہ) کے نام سے معروف ہے۔ قادیانیوں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے پاکستان کے پہلے قادیانی وزیر خارجہ ظفراللہ کی پشت پناہی میں یہاں اپنا ہیڈ کوارٹر اور بیس کیمپ بنایا اور پاکستان کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ قادیانیوں کی سازشیں جب حد سے بڑھنے لگیں توعلماء و مشائخ نے 1952ء میں تحریک تحفظ ختم نبوت کا آغاز کیا۔اس وقت کی حکومت نے گولی کے زور پر تحریک کو کچلنے کی کوشش کی۔دس ہزار مسلمانوں کو شہید کردیاگیا۔ بظاہر تحریک کو تشدد کے ذریعے کچل دیا گیا مگر مسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ کیلئے ایک جوش، ولولہ اور جذبہ بیدار کر گیا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا ابوالحسنات قادریؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ،مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی ؒاور دیگر علماء و قائدین نے تمام صعوبتوں کو برداشت کر کے تحریک تحفظ ختم نبوت کو جاری رکھا۔
22مئی 1974ء کو ربوہ ریلوے سٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے مسافر طلباء پر حملہ کر کے انہیں زدو کوب کیا۔ یہ حادثہ شعلہ جوالہ بن گیا اور پورا ملک تحریک تحفظ ختم نبوت کا میدان بن گیا۔علمائے امت نے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی بنیاد ڈالی اوراس تحریک کا قائد حضرت علامہ محمد یوسف بنوریؒ کو بنایا گیا۔حضرت خواجہ خان محمدؒ، مولانا سید ابوذر بخاریؒ، نوابزادہ نصر اللہ خان، آغا شورش کاشمیری، حافظ عبدالقادر روپڑیؒ، میاں طفیل محمدؒ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ اور تحریک کے دیگر مرکزی رہنماؤں نے قدم بہ قدم شب و روز ایک کر کے تحریک کو بامِ عروج پر پہنچایا۔تحریک اتنی شدید اور طاقت ور تھی کہ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس مسئلہ کو قومی اسمبلی میں حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسمبلی سے باہر کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ کی قیادت میں سرگرم عمل تھی۔۔ ادھر اسمبلی کے اندر مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبدالحقؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر عبدالغفور ؒ اور ان کے رفقاء نے آئینی جنگ کر کے تحریک کا مقدمہ بڑی دانشمندی سے لڑا اور جیت لیا لیا۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں 7 ستمبر1974ء ایک عہد ساز دن ہے کہ اس دن قومی اسمبلی نے ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ ہم اسے یوم تحفظ ختم نبوت اور یومِ تجدید عہد قرار دیتے ہیں۔ اس روز عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کی سو سالہ طویل ترین جد وجہد، فتح مبین سے ہمکنار ہوئی۔ آج اس آئینی فیصلے کو 46 برس بیت گئے ہیں مگر مرزائیوں نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ وہ آئے روز مسلمانوں کے خلاف اپنی سازشوں کا جال پھینکتے رہتے ہیں۔ علما کے خلاف نفرت پیدا کرنا، فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا، سیاسی طور پر پاکستان کو بدنام اور غیر مستحکم کرنا اور ملکی سلامتی کے خلاف سازشیں کرنا مرزائیوں کا نصب العین ہے جسے ہم نے باہمی اتحاد سے ناکام بنانا ہے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے