Home / پاکستان / ایک بار

ایک بار

#اشتہاری_پولیس_آفیسر ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب بھی کوئی ملزم کسی جرم میں گرفتار ھوتا ھے اس کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اس کا جسمانی یا جوڈیشیل ریمانڈ لیا جاتا ھے ۔اس کے بعد عدالت کے حکم کے بغیر اس کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔
فیصل آباد میں ایک ڈکیتی کے ملزم کو جو پولیس کے پاس ڈکیتی کے مال کی برآمدگی کے سلسلے میں جسمانی ریمانڈ پر تھا ایک #sp نے بغیر کسی عدالتی حکم کے چھوڑ دیا ۔ مدعی پارٹی کو جب پتہ چلا تو انھوں نے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی کہ #sp نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ھوئے ملزم کو چھوڑ دیا ہے ۔درخواست میرے پاس بھیج دی گئی جس پر میں نے #sp کو طلب کیا تو وہ حاضر نہیں ھوا میں نے اس کے وارنٹ نکال دیے۔
تو میرے اس وقت کے سیشن جج نےمجھے تاریخ والے دن اپنے پاس بلا یا۔
میں اس وقت ایڈیشنل سیشن جج فیصل آباد تھا۔
اس نے مجھے کہا کہ #sp کو بلانے کا حکم واپس لو مگر میں نے صاف انکار کر دیا ۔
#sp اسی دن عدالت میں پیش ھوا اور اس نے کہا کہ میں نے آپ کے حکم کے خلاف لاھور ھائی کورٹ میں رٹ کر دی ہے۔اس کے فیصلے کا انتظار کیا جائے ۔
مگر وہ اس بات کا کوئی جواب نہ دے سکا کہ اس نے ڈکیتی کے ملزم کو کس اختیار کے تحت چھوڑ دیا ہے۔اگلی پیشی پر عدالت میں مدعی اس کا وکیل اور #sp دوسری طرف سے پیش ھوئے ۔اور مجھے ھائی کورٹ کا حکم پیش کیا ۔جس میں لکھا تھا کہ #sp نے کہا ھے کہ فریقین کی صلح ھو گئی ہے ۔
اس لیے اس معاملے کو اب ختم سمجھا جائے۔مدعی نے کہا کہ اس نے نہ ھی صلح کی ھے اور نہ ہی وہ ھائی کورٹ میں پیش ھوا ہے۔میں نے غور سے ھائی کورٹ کے جج صاحب کا نام پڑھا تو وہ بھی اسی شہر کا رہنے والا تھا جس شہر کا sp رہنے والا تھا۔بات مجھے سمجھ میں آگئی کہ اتنی بڑی غیر قانونی حرکت اور جرم کو ھائی کورٹ نظر انداز نہیں کرسکتی ۔ مطلب یہ کہ وہ حکم بد نیتی پر مبنی تھا ۔
اگر میں اس کو نہ مانتا تو میری نوکری بھی جا سکتی تھی مگر میں نے نوکری پر چار حرف بھیجتے ھوئے اس ظلم کے خلاف چلنے کا فیصلہ کیا۔
جس پر میں نے #sp کو کہا کہ یہ ھائی کورٹ کا حکم تم نے جھوٹ بول کر حاصل کیا ہے اور وھاں تم نے کوئی جعلی بندہ مدعی کی جگہ پر پیش کیا ہے اس لیے میں یہ حکم نہیں مانتا آپ ھائی کورٹ جائیں اور درخواست دائر کریں کہ ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف کاروائی کی جائے ۔
یا پھر آپ مجھے لکھ کر جواب دیں کہ آپ نے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے پاس موجود ملزم جس نے ڈکیتی کی تھی اس کو کیوں چھوڑ دیا۔
اس پر اس نے تحریری جواب کی مہلت مانگی میں نے دے دی مگر اگلی تاریخ پر وہ نہیں آیا۔میں نے پھر اس کے وارنٹ نکال دئیے ۔مگر وہ تبادلہ کروا کر چلا گیا ۔پولیس کے اعلی حکام کو بھی میں نے اس کی گرفتاری کے لیے لکھا مگر بے سود
آخر کار میں نے اس #sp کو اشتہاری قرار دے دیا۔
وہ فائل آج بھی وھاں موجود ھے اور وہ #sp آج بھی اس میں اشتہاری ہے ۔
مگر سنا ہے آج اس کو #ccpo لاھور لگا دیا گیا ہے۔
تحریر:ثناءاللہ خان نیازی
ریٹائرڈ سیشن جج
منقول

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے