Home / پاکستان / آخر کیوں ؟

آخر کیوں ؟

تحریر:
عرفان علی سید
03335200236
دنیا تو بہت خوبصورت ہے مگر دنیا میں رہنے والے لوگ شاہد خوبصورت نہیں؟
آئے روز پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہے ہیں۔ آخر کیوں؟
کیا ہم اتنے ظالم ہوگئے ہیں کہ اپنے دین مذہب اور انسانیت کے اصول بھول گئے ہیں؟
جی ہاں ایسے بہت سے سوالات ہے جن کے جوابات آپ کو نیگیٹو جوابات کی صورت میں ملینگے۔
لیکن آخر کیوں؟
یہ تحریر میری رائے ہے اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
جیسے جیسے دنیا میں بسنے والے لوگ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور زندگی کے لئے درکار محتلف قسم کی اشیاء ایجاد کرنا ضروری ہے نئی نئی ایجادات میں مصروف ہے یہ ایجادات جہاں معاشرے میں رہنے والے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کر رہا ہے تو اس کے نقصانات بھی بہت ہے جس منہ پھیرنا ممکن نہیں۔ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ لاہور موٹر وے پر ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا یقیناً یہ لمحہ فکریہ ہیں اور افسوس ناک بات کہ کہ ہمارے معاشرے میں کیا ہو رہا ہے ہم جتنی مرضی مذمت کر لے کم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مذمت کرنے کا فائدہ کیا ہے کیا مذمت کرنے سے مسائل حل ہو جاتے ہیں کب تک ہم صرف مذمت مذمت کرتے رہیں گے۔
زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ادارے اس کیس کو حل کرنے میں مسلسل مصروف ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات کیوں پیش آتے ہیں؟ ایسے واقعات پیش آنے سے پہلے ہمارے ادارے کہاں ہوتے ہیں شہروں میں ٹول پلازوں میں سیکورٹی کے نام جو کیمرے لگے ہوتے ہیں ان کا کیا فائدہ؟ مجھے اپنے اداروں پر امید تو ہیں لیکن افسوس حکومت پر ہیں کہ حکومت کیوں ایسے درندوں کو سر عام سزا نہیں دیتی۔ ہمارے۔ ہمارے ملک میں بے تحاشہ ایسے واقعات روزانہ کی بنیاد پر پیش آتے ہیں لیکن حکومت سزا نہیں دیتی اگر حکومت ایسے درندوں کو سر عام سزا دینا شروع کر دیں تو ہمارے معاشرے سے تقریباً 90فیصد گندگی ختم ہو جائے گی اس کے ساتھ ساتھ مجھے اپنے دوست احباب پر افسوس ہوتا ہے جو اپنے خواتین کو یوں سرعام گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دیتے ہیں وہ بھی بغیر کسی سیفٹی کے۔ ہو سکتا ہے کہ میری رائے سے بہت سے لوگ اتفاق نہیں کرینگے لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے اس سے کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہم لوگ خود بے پرواہ ہوچکے ہیں۔
آج ہمارے مرد حضرات گھروں میں بیٹھے ہوتے ہیں اور ہماری خواتین گھروں سے باہر مارکیٹوں میں شاپنگ وغیرہ کے لئے جاتی ہے وہ بھی بغیر کسی حفاظت کے
کہنے کا مقصد ہم ساری ذمہ داریاں صرف حکومت اور سیکورٹی اداروں پر نہیں ڈال سکتے ہماری اپنی بھی کچھ ذمہ داریاں بنتی ہےہم جب بہن، بیٹی اور بیوی کو موبائیل اور آزادی دیتے ہیں تو کیا ہم اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں کہ نہیں۔ نہیں میرے بھائیوں ہم اپنے بہن بیٹی اور پچوں کی محبت میں اندھے ہو جاتے ہیں کہ ٹھیک ہے کچھ نہیں ہوتا میرے بھائیو بہت کچھ ہوتا ہے جب ہم خود ہی آذادی دیتے ہیں یہ بھی ایک لمحہ فکریہ ہے اس لئے احتیاط ضروری ہے کچھ ذمہ داریاں حکمتوں، اداروں کی ہوتی ہے لیکن زیادہ ذمہ داریاں ہماری بھی ہیں جو کہ ہم نہیں نبھا پاتے۔ رہی بات ایجادات کی ٹیکنالوجی کی تو اس کے نقصانات بھی بہت ہے اپنے آپ کو اتنا جدید دور شامل نا کریں کہ اپنے دین اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھے جو آج ہو رہا ہے خدا کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کریں۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے