Home / اسلام / اِرتقاۓ حیات و اِرتقاۓ مقاماتِ حیات

اِرتقاۓ حیات و اِرتقاۓ مقاماتِ حیات

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَعراف ، اٰیت 1 تا 3 )))🌹
اِرتقاۓ حیات و اِرتقاۓ مقاماتِ حیات !! 🌹
ازقلم🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !!🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہُومِ اٰیات ! 🌹
🌹 المص 1
کتٰب انزل الیک
فلایکن فی صدرک
حرج منہ لتنذربہ وذکرٰی
للمٶمنین 2 اتبعواماانزل الیکم
من ربکم ولا تتبعوامن دونہ اولیا ٕ قلیلا
ماتذکرون 3
اے مُحمد ! ھم نے تیری دِل جمعی کے لیۓ علم کا یہ بحرِ بے مثال اپنے علمِ لازوال سے قطرہ قطرہ جمع کرکے تُجھ پر نازل کیا ھے تاکہ تیرا سینہ اتنا کشادہ کردیا جاۓ کہ جب یہ علم تیرے سینے میں سماۓ تو تیرے دِل میں تشنہ کلامی و تشنہ لبی کا خیال بھی نہ آۓ اور ھماری یہ وحی انسانوں کے لیۓ ایک اَمرِ یادگار بن جاۓ اور اے انسانو ! تُم اللہ کی اسی کتاب کی اتباع کرنا جو اللہ نے قَلبِ محمد پر نازل کی ھے اور اللہ کی اِس کتاب کے سوا کبھی بھی کسی دُوسری کتاب کو دِل کی دوستی اور نگاہ کی راستی کا ذریعہ ہرگز نہ بنانا اور یہ بھی یاد رکھنا کہ یہ ھمارا وہ ناقابلِ فراموش فرمان ھے جس کو کم کم لوگ ہی یاد رکھ پاتے ہیں !
🌹 اَعراف و لُغاتِ اعراف ! 🌹
اٰیاتِ بالا کا یہ اَحکام نامہ سُورةُالاَعراف کا وہ معروف سرنامہ ھے جس میں انسانی ارتقاۓ حیات کے اُن اَعلٰی مقاماتِ حیات کا ذکر کیا گیا ھے جن میں سے ایک مقامِ حیات کا نام اَعراف ھے اور ذکرِ اَعراف کے اسی حوالے سے اِس سُورت کا نام بھی سُورِہِ اَعراف ھے ، زبان و لُغت رُو سے اَعراف ایک اِسمِ علَم ھے جو مَصدر عُرف سے صادر ھوا ھے ، اِس کا فاعل العروفة ھے اور اِس کا اِسمِ تفضیل الاِعرف ھے ، اہلِ عرب اِس مصدر کو جن جہتوں سے استعمال کرتے ہیں اُن جہتوں کے مطابق مردِ صابر کو العارف ، حکیمِ حاذق کو العراف ، ستاروں کی چال کا اَحوال جاننے والے کو نجومی کو العرافة ، مَکتبی بچوں کے مَکتبی نگران کو عریف المکاتب ، تعارف کرانے والے کو العریف ، متعارف ھونے والے کو العروفة ، دو چیزوں کے درمیانی فاصلے کو العرفة ، اَمرِ مُطلق کے تسلیم کرنے والے کو العرفان اور پادری کے سامنے پیش ھو کر اعترافِ گناہ کرنے والے کے اعتراف کو الاِعتراف کہتے ہیں ، اُردو روزمرہ میں تعریف و تعارف ، معارف و معرفت ، عرفة و عرفات اور معروف و معرفہ وغیرہ بھی اسی اَعراف کے معروفات ہیں ، اَعراف کا معنٰی جان پہچان حاصل کرنا ، قومی سیاست میں حصہ لینا ، کسی کا انتظار کرنا ، کسی کے کام سے واقف ھونا ، کسی گُم شُدہ شٸ کو تلاش کرنا ، کسی نکرہ کو معرفہ بنانا ، کسی کہی سُنی بات کا اعتبار کرنا ، اَمواجِ سمندر کا سَطحِ آب سے بلند ھونا ، خوش بُو کا پھیلنا اور پھیلانا ، کسی کا کسی کے ساتھ احسان کرنا ، کسی سیاح کا کسی بلند جگہ پر جانا یا کسی انسان کا اپنے علم و فضل سے کسی بلند منصب یا مقام پر فاٸز ھو نا ، کسی مسافر جماعت کے کُچھ اَفراد کا کُچھ اَفراد سے بہت آگے نکل جانا اور کُچھ اَفراد کا کُچھ اَفراد سے بہت پیچھے رہ جانا لیکن اَعراف کا بُنیادی و ترجیحی معنٰی اَدنٰی مقام سے اَعلٰی مقام پر اِس طرح سے پر پُہنچ جانا کہ اِس کی عظمت و شہرت کا ہوا میں پھیلی خوشبُو کی طرح پھیل کر ماحول اور اَحوال کو مہکادینا ھے ، اِس سُورت کا نام اَعراف بھی اسی مناسبت سے رکھا گیا ھے کہ اِس میں اِرتقاۓ حیات کے اُس مقام کا ذکر ھوا ھے جس کا نام اَعراف ھے اور یہ مقاماتِ جنت سے آگے کا ایک برتر اَز جنت مقام ھے !
🌹 اَصحابِ اَعراف و اَصحابِ اِنحراف ! 🌹
عُلماۓ مجُوس کہتے ہیں کہ اَعراف جنت و جہنم کے درمیان ایک سرحد Bufferzone ھے جس نے اہلِ جنت کو جہنم کی طرف اور اہلِ جہنم کو جنت کی طرف آنے سے روک کر رکھا ھوا ھے اور اِس میں وہ لوگ رہیں گے جو اَعمال کے اعتبار سے جنت یا جہنم کے مُستحق نہیں ھوں گے ، چناچہ مولانا مودودی مرحوم اپنی تفہیم القرآن کی دُوسری جلد کے صفحہ 33 پر لکھتے ہیں کہ ” یہ اصحاب الاعراف وہ لوگ ھوں گے جن کی زندگی کا نہ تو مُثبت پہلُو ہی اتنا قوی ھوگا کہ وہ جنت میں داخل ھو سکیں اور نہ منفی پہلو ہی اتنا خراب ھوگا کہ وہ دوزخ میں جھونک دیۓ جاٸیں ، اس لیۓ وہ جنت و دوزخ کے درمیان ایک سر حد پر رہیں گے “ لیکن یہ خیال اِس لیۓ باطل ھے کہ قُرآن نے نجات و عدمِ نجات کی مُختلف مقامات پر جو تفصیلات بیان کی ہیں اُن تفصیلات کی رُو سے انسان مرنے کے بعد صرف جنتی یا صرف جہنمی ھوتا ھے ، جنت و جہنم کے درمیان کسی مقام پر مُعلق نہیں ھوتا اور قُرآن نے اہلِ اَعراف کا جو تعارف کرایا ھے وہ یہ ھے کہ اہلِ اَعراف ایسے صاحبِ بصیرت لوگ ھوں گے کہ وہ اہلِ جنت و اہلِ جہنم کو جنت و جہنم میں جانے سے پہلے ہی اُن کی ظاہری علامات کو دیکھ کر جان جاٸیں گے کہ اِن میں سے کون سے لوگ جنتی ہیں اور کون کون سے اَفراد جہنمی ہیں ، ظاہر ھے کہ جن لوگوں کا مُثبت و منفی پہلُو اتنا قوی یا اتنا کم تر نہیں ھوگا کہ وہ جنت یا جہنم میں جاسکیں تو اُن کی روحانی بصیرت بھی اتنی جان دار اور شان دار نہیں ھو گی کہ وہ انسان کی صورت دیکھتے ہی جان جاٸیں کہ فلاں فلاں اَفراد جنت میں جاٸیں گے اور فلاں فلاں لوگ جہنم میں جھونک دیۓ جاٸیں گے ، اَعراف کا تو معنٰی ہی اِسی حوالے سے بلند مقام ھے کہ اہلِ اَعراف ایک ایسے بلند تر مقام پر فاٸز ھوں گے جو اُس خاص موقعے پر اہلِ جنت کو بھی حاصل نہیں ھوگا جس خاص موقعے کے حوالے سے قُرآن نے اُن کا ذکر کیا ھے ، عین مُمکن ھے کہ ارتقاۓ حیات کے اُس خاص زمانے کے بعد کسی دُوسرے زمانے میں اہل جہنم میں سے کُچھ لوگ اہلِ جنت میں اور اہل جنت میں سے کُچھ لوگ اہلِ اَعراف میں شامل ھو کر اہلِ اعراف بن جاٸیں ، اگر ھمارا یہ سمجھا اور بیان کیا گیا مفہوم کسی بھی درجے میں درست ھے تو اِس کا پہلا مطلب یہ ھے کہ جو لوگ دُنیا سے ارتقا ٕ کر کے جنت میں جاٸیں گے وہی لوگ جنت سے ارتقا ٕ کر کے اَعراف میں جاٸیں گے اور اِس کا دُوسرا مطلب یہ ھے کہ اگر حیات جنت کے بعد ارتقاۓ حیات کا ایک مقام اَعراف ھے تو اَعراف کے بعد بھی انسانی حیات کے ایک نۓ ارتقاۓ حیات کا سلسلہ بھی موجُود ھے اور خُدا ہی بہتر جانتا ھے کہ انسان کے ارتقاۓ دُنیا اور ارتقاۓ جنت و اَعراف کے بعد اور کتنے ارتقاۓ حیات اور پھر اور کتنے مقاماتِ حیات ہیں جن سے انسان نے گزرنا ھے لیکن یہ بات بہر حال طے ھے کہ انسان کو اللہ نے اپنی کاٸنات میں لوٹے گھمانے اور اَعضاۓ جنسی دھونے کے کارِ بے کار کے لیۓ پیدا نہیں کیا ھے بلکہ اپنی خلّاقی کے اُس کارِ عظیم کے لیۓ پیدا کیا ھے جس کارِ عظیم کے پہلے مرحلے میں اِس نے ارض و سما و نجُوم و خلا کو تسخیر کرنا ھے اور دُوسرے مرحلے میں جنت و اَعراف کے نیۓ وساٸلِ حیات کے ساتھ ارتقاۓ حیات کے اُس نۓ دور میں داخل ھونا ھے جس دور کا وہ اِس لَمحے کوٸ سان و گمان بھی نہیں کرسکتا ھے اور شاید اقبال علیہ الرحمہ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ھوۓ کہا ھے :-
عرُوجِ آدمِ خاکی سے اَنجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹُوٹا ھوا تارا مَہِ کامل نہ بن جاۓ
🌹 علمِ قُرآن اور قَلبِ مُحمد ! 🌹
المص ، یکے اَز حروفِ مُقطعات ھے ، اِن حروفِ مُقطعات اَلف ، لام ، میم اور صاد کا تعلق بھی اُسی کتابِ وفا اور نُسخہِ شفا سے ھے جس کے اَجزاۓ کلام کا نام قُرآن ھے ، سُورةُالبقرة و سُورَہِ اٰلِ عمران کے آغاز میں ذکرِ کتاب سے پہلے اُسی نُسخہِ شفا کا ذکر کر کے ھم نے اِن دونوں سُورتوں کے اِس موضوعِ مُشترک کا ذکر کیا تھا کہ سُورةُالبقرة اپنے اَفرادِ ” مُفلحون “ کے حوالے سے انسانی زراعت و خوراک کا ایک تاریخی اشارہ ھے تو سُورَہِ اٰلِ عمران اپنے مضمون ” عمران و امرأتِ عمران “ کے حوالے سے انسانی تمدن و عمرانیات کا ایک ایسا تاریخی استعارہ ھے اور اَب حروفِ مُقطعات کی حامل یہ تیسری سُورت ھے جو انسانی حیات و اِرتقاۓ حیات کا ایک منظر کے بعد ایک دُوسرا نظارہ ھے جو انسان کو دُنیا سے جنت اور جنت سے مقامِ اَعراف تک لے جاتا ھے تاہِم جس طرح ارتقاۓ حیات ، حیات کا ایک ضمنی موضوع ھے اسی طرح اَعراف بھی اِس سُورت کا ایک ضمنی موضوع ھے اور اِس سُورت کا اَصل موضوع انسان کا انسان کی ذھنی و جسمانی غلامی سے نکلنا اور انسان کا انسان کی ذھنی و جسمانی غلامی سے آزاد ھونا ھے ، اِس سُورت میں قُرآن بتاتا ھے کہ اللہ تعالٰی نے مُختلف زمان و مکان میں انسان کو انسان کی ذھنی غلامی سے آزاد کرانے کے لیۓ زمین میں اپنے جو سفارت کار بھیجے ہیں اُن میں نُوح و ھُود ، ثمُود و صالح اور لُوط و شعیب شامل ہیں اور اللہ تعالٰی نے انسان کو انسان کی ذھنی و جسمانی غلامی سے آزاد کرانےکے لیۓ اپنے جن سفارت کاروں کو زمین میں مامُور کیا ھے اُن میں موسٰی علیہ السلام کی ایک مثالی اور جلالی ہستی ایک خاص مقام کی حامل ھے اور اِس حوالے سے اُس عظیم حریت پسند ہستی کا اِس سُورت میں ایک طویل تذکرہ موجُود ھے جس میں غلام بننے ، غلام بنانے اور آزاد ھونے اور آزاد کرانے والوں کی ایک پوری تاریخ سمٹی ھوٸ ھے ، اِس سُورت کے آغاز میں آنے والے چار حروفِ مُقطعات اور اُن کے معََا بعد آنے والی دو اٰیات میں اِس اَمر کا بیان ھے کہ اللہ تعالٰی نے قُرآن اور قُرآن کی اِس سُورت کے مضامین کے بحرِ بیکراں کو سیدنا محمد علیہ السلام کے سینے میں سمونے کے لیۓ آپ کے سینے کو وسعتِ کاٸنات کی طرح ایک خاص وسعت عطا کی ھے لیکن مُحدثین عجم و مُفسرینِ عجم نے قُرآن کے اِس مضمون کو چُھپانے کے لیۓ شَقِ صدر کا وہ فرضی واقعہ گھڑ کر پھیلایا ھوا ھے جس کو کتابِ مُسلم کی ایک وضعی روایت اور ابنِ ہشام کی ایک فرضی حکایت کے ذریعے پھیلایا گیا ھے لیکن ظاہر ھے کہ اَصل اور درست واقعہ صرف وہ ھے جو قُرآن نے اِس سُورت کے آغازِ کلام میں بیان کیا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے