Home / پاکستان / فیصل آباد کی اچھی یادیں

فیصل آباد کی اچھی یادیں

فیصل آباد کی اچھی یادیں ۔۔۔جو قصہ پارینہ ہو گئیں

تحریر :
اظہار احمد گلزار

پاکستان بڑی قربانیوں اور جدوجہد سے دنیا کے نقشے پر ابھر کر سامنے آیا ۔۔پاکستان نیا نیا بنا تو وسائل تک نہ تھے ۔۔بے روزگاری اور غربت و افلاس نے ہر طرف ڈیرے جما رکھے تھے ۔۔لوگ چھوٹی چھوٹی نوکریوں پر ہی اکتفا کر رہے تھے ۔۔۔۔اگرچہ لوگ معاشی طور پر کمزور تھے لیکن ان کے اندر خلوص اور وفا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔۔سب کے دکھ ایک جیسے تھے اس لیے کوئی بھی احساس تفاخر میں مبتلا نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔
یوں یوں پاکستان اپنا سفر آگے بڑھاتا گیا ۔۔پاکستان میں ہونے والے اچھے کام دم توڑنے لگے ۔۔۔۔میں نے اپنے لڑکپن میں دیکھا کہ تانگوں کے دونوں بانسوں کی اطراف میں دو فانوس یعنی لیمپ لگائے ہوتے تھے ۔۔۔یعنی رات دور سے آنے والے کسی دوسری ٹرانسپورٹ کو پتہ چل جائے کہ آگے تانگہ آ رہا ہے ۔۔۔۔جس سے ایکسیڈنٹ سے بچا جاسکتا تھا ۔۔۔اسی طرح گدھا ریڑھیوں اور اونٹ ریڑھیوں کے نیچے ایک بڑا لالٹین لٹکایا ہوتا تھا کہ مخالف سمت سے آنے والی دوسری سواری کو پتہ چل سکے کہ گدھا یا اونٹ ریڑی آ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب ریڑیوں کے نیچے لالٹین بھی کہیں دور ماضی کے پردوں میں چھپ گئی ہے ۔۔۔۔۔آج بھی اس کی اتنی ہی ضرورت ہے ۔۔جب یہ کوچوان شہر سے باہر بڑی شہراہوں پر نکلتے ہیں تو ان کو اسی طرح خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا ماضی قریب میں کرنا پڑتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔دکھ کی بات ہے کہ کسی بھی حکومت نے ماضی کی اس اچھی روایت کو جاری رکھنا پسند ہی نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر ذی شعور سمجھتا ہے کہ گدھا ریڑیوں اور تانگہ ریڑیوں کے ساتھ لالٹین کا ہونا کتنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی طرح ہم نے اپنے محلوں میں دیکھا ۔۔خاص طور پر ان پرانے محلوں میں ہرچرن پورہ ،پرتاب نگر، منشی محلہ ،گرونانک پورا، سنت پورا ، ڈگلس پورا ، محمّد پورا ، جناح کالونی ، ڈگلس پورا ، آٹھوں بازار ، چوک گھنٹہ گھر ، گلبرگ، اناسی نادر خان اور شہر کے وسطی محلے کہ ان میں صبح کی پہلی کرن پھوٹتے ہی گلیوں اور بازاروں میں صفائی ستھرائی کے بعد ماشکی پانی کا چھڑکاؤ کرتے تھے۔ اور بعد ازاں دفاتر میں مٹکوں میں پانی پہنچانے کا کام بھی انہی کے سپرد تھا ۔۔
جنوب ایشیائی ممالک میں ماشکی کو بہشتی بھی کہتے ہیں، جو فارسی زبان کے لفظ بہشت سے نکلا ہے، جس کے معنی جنّت کے ہیں۔ اسلام میں پانی پلانا ثواب کا کام ہے۔ بعض ماشکی اپنے آپ کو شیخ عباسی کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ واقعہ کربلا میں عباس ؓ علم دار اپنے مشکیزے سے پانی بھرتے ہوئے شہید ہوئے تھے اور ہمارا کام بھی پیاسوں کی پیاس بجھانا ہے۔ انڈیا میں ماشکیوں کی ایک باقاعدہ برادری ’’آل انڈیا جماعت العباسی‘‘ کے نام سے موجود ہے ۔۔۔۔۔۔ماشکی کو سقہ بھی کہتے ہیں ۔۔
پانی کے چھڑکاؤ کے بعد سڑک اور گلی کے دونوں اطراف پر چونے کا باقاعدہ چھڑکاؤ کیا جاتا تھا ۔۔۔۔جس سے چھوٹے چھوٹے حشرات الارض اور کیڑے مکوڑے بھی مر جاتے تھے ۔۔اور گلیوں اور بازاروں کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔محلوں میں گلیوں کی نکڑ پر ایک ٹونٹی لگی ہوتی تھی ۔یہاں سے سرکاری ماشکی اپنی چمڑے کی مشک بھر بھر کر چھڑکاؤ کیا کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
سرکاری نلوں کے ذریعے آنے والے پینے کے پانی کا معیار بہت عمدہ تھا ۔۔ہر غریب ،متوسط اور اچھی حیثیت والا اسی پانی کو ترجیح دیتا تھا اور یہی پانی لوگ آنکھیں بند کر کے پی جایا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔
وقت کیا بدلا ۔۔۔۔سب کچھ یہی گہنا گیا ۔۔۔۔۔۔ ایک وقت تھا جب ،خرید کر پانی پینے کو لوگ معیوب سمجھتے تھے اور اسے کربلا سے تعبیر کرتے تھے۔۔کہ تم نے تو کربلا ہی بنا رکھی ہے ۔۔۔۔
آج انہیں محلوں اور گلیوں میں نہ ماشکی پانی کا چھڑکاؤ کرتا ہے اور نہ بعد میں ان پر چونے کا چھڑکاؤ ہوتا ہے ۔۔۔
محلوں اور کالونیوں میں نوے فیصد لوگ پانی خرید کر پیتے ہیں ۔۔جگہ جگہ فلٹریشن کے پلانٹ لگ چکے ہیں ۔۔صاحب حثییت لوگ کسی برانڈڈ کمپنی کا پانی پینے کو ترجیح دیتے ہیں جب کہ متوسط طبقہ بھی اسی فلٹریشن پلانٹ سے پانی منگوا کر پینے کو ترجیح دیتا ہے ۔۔۔۔۔صرف دس فیصد لوگ کارپوریشن کی طرف سے نلوں سے آنے والے پانی پر اکتفا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
لوگ کہیں کسی سے ملنے بھی جاتے ہیں انہیں اگر وہاں پانی پینے کی طلب محسوس ہو تو وہ دریافت کرتے ہیں کہ آپ کون سا اور کہاں سے پانی منگواتے ہیں ۔۔۔۔۔
پاکستان ترقی کی شاہراہ پر کیا نکلا ۔۔کھانے پینے کی چیزیں مشکوک ہو کر رہ گئی ہیں ۔۔۔سرکاری پانی سے آنے والے نلوں سے یہ خطرات سامنے آئے ہیں کہ پاکستان کا شہر فیصل آباد ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد میں دوسرے نمبر پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
مل بیٹھنے ، دکھ سکھ بانٹنے اور ڈنٹ بیٹھکیں ، زور آزمائی اور کشتی وغیرہ کرنے کے دن بھی قصہ پارینہ ہوگئے ۔۔۔۔
لوگ اگرچہ آج کی طرح خوشحال نہیں تھے لیکن وہ اپنے حال پرصابر و شاکرتھے ۔۔۔خوش گپیاں کرنا ،لطیفے بازی ، بزلہ سنجی کرنا ،کشتی کرنا دیکھنا ،ڈنٹ بٹھکیں پیلنا ۔۔۔سب ماضی کے جھروکوں میں جا چھپے ہیں ۔۔۔
فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج کے ٹریک گراؤنڈ میں اور میونسپل لائبریری کے عقب میں پہلوان روزانہ کی بنیاد پر کشتیاں کرتے ، ڈنٹ پیلتے اور فارغ لوگوں کو محظوظ کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقت کی دوڑ نے سب کچھ چھین لیا ہے ۔۔۔
زندگی اسی رفتار سے دوڑ رہی ہے، جس رفتار سے ماضی میں دوڑ رہی تھی ۔۔۔لیکن فرق یہ ہے کہ یہاں کسی کو کوئی نہیں جانتا ، کوئی نہیں پہچانتا ۔۔۔۔۔۔۔یہاں ہر کوئی کسی سر پٹ گھوڑے کی طرح اپنی ہی موج میں دوڑتا چلا جارہا ہے۔۔۔۔۔دوڑتا ہی چلا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کیا نشیب ؤ فراز نذر قلم و قرطاس کروں ۔۔۔
بات ممتاز شاعر جاوید اختر کی اس غزل پر ختم کرتا ہوں ۔۔۔

کن لفظوں میں اتنی کڑوی، اتنی کسیلی بات لکھوں​
شہر کی میں تہذیب نبھاؤں، یا اپنے حالات لکھوں​

غم نہیں لکھوں کیا میں غم کو، جشن لکھوں کیا ماتم کو​
جو دیکھے ہیں میں نے جنازے کیا اُن کو بارات لکھوں​

کیسے لکھوں میں چاند کے قصے، کیسے لکھوں میں پھول کی بات​
ریت اُڑائے گرم ہوا تو کیسے میں برسات لکھوں​

کس کس کی آنکھوں میں دیکھے میں نے زہر بجھے خنجر​
خود سے بھی جو میں نے چھپائے کیسے وہ صدمات لکھوں​

تخت کی خواہش، لُوٹ کی لالچ، کمزوروں پر ظلم کا شوق​
لیکن اُن کا فرمانا ہے میں اُن کو جذبات لکھوں​

قاتل بھی مقتول بھی دونوں نام خدا کا لیتے تھے ​
کوئی خدا ہے تو وہ کہاں تھا، میری کیا اوقات لکھوں​

اپنی اپنی تاریکی کو لوگ اُجالا کہتے ہیں​
تاریکی کے نام لکھوں تو قومیں، فرقے، ذات لکھوں​

جانے یہ کیسا دور ہے جس میں یہ جرآت بھی مشکل ہے​
دن ہو اگر تو اُس کو لکھوں دن، رات اگر ہو رات لکھوں​

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: اظہار احمد گلزار

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے