Home / کالم / تاریخ بیت اللہ

تاریخ بیت اللہ

*درس قرآن نمبر96*

*بیت اللہ کی تاریخ*

*مدرس محمد عثمان شجاع آبادی*

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَاِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَاَمْنًا وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی وَعَہِدْنَآ اِلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمَاعِیْلَ اَنْ طَہِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآءِفِیْنَ وَالْعَاکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ٭

*ترجمہ:*

اور جب ہم نے کعبہ کو لوگوں کے لیے عبادت گاہ اور امن کی جگہ بنایا، (اور فرمایا) مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ، اور ہم نے ابراھیم اور اسماعیل سے عہد لیا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔

*ربط:*

پچھلی آیات میں بھی سیرت ابراہیمی ؑ کا ذکر تھا اب بھی یہی سلسلہ چل رہاہے۔
اس آیت مبارکہ میں بیت اللہ کی تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے،تو سب سے پہلی بات یہ ہے کہ بیت اللہ کو سب سے پہلے کس نے تعمیر کیا؟اس بارے میں مفتی محمدشفیع عثمانی صاحب ؒفرماتے ہیں کہ کسی صحیح رایت میں یہ مذکور نہیں کہ بیت اللہ کو سب سے پہلے کس نے تعمیر کیا ہے؟البتہ اسرائیلی روایات میں ہے کہ سب سے پہلے فرشتوں نے اسے بنایا،پھرحضرت آدم ؑ نے اسے دوبارہ تعمیر فرمایااور طوفانِ نوح تک یہ تعمیر باقی رہی اس کے بعد یہ بوسیدہ ہوگیا عمارت ختم ہوجانے کی وجہ سے صرف ایک ٹیلہ رہ گیا تھااور اس آیت مبارکہ میں جس تعمیر کی طرف اشارہ ہے وہ اسی ٹیلے کوتعمیر کرنے کی طرف اشارہ ہے،اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ معمول کے مطابق حضرت ہاجرہ کے پاس آئے تو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو دیکھا کہ ایک درخت کے نیچے بیٹھے تیر بنا رہے ہیں ان سے ملاقات کے بعد فرمایا بیٹھا! اللہ نے مجھے ایک کام کاحکم دیا ہے کیا تم میری اس میں مدد کرو گے؟ حضرت اسماعیل نے کام پوچھا تو حضرت ابراہیم فرمانے لگے کہ مجھے بیت اللہ کی بنیادوں کے بارے میں بتا دیا گیا ہے اور اس ٹیلے کی جگہ ہم نے بیت اللہ بنانا ہے،چناں چہ دونوں نے مل کر بیت اللہ کی از سر نوتعمیر کی۔
*بیت اللہ کو پاک کرنا*
یہ دو طرح سے ہے پہلی بیت اللہ کو ظاہری نجاست سے پاک رکھا جائے اسی طرح حاجیوں اور نمازیوں کے لئے مکمل راحت و آرام کا بندوبست کیا جائے،بیت اللہ کو ہر قسم کی تکلیف دہ چیزوں سے پاک رکھا جائے۔دوسری طہارت یہ ہے کہ بیت اللہ کو شرک و بدعت سے پاک رکھا جائے،اس میں اللہ کے نام کے سوا کوئی اور نام نہ لیا جائے جب کہ مشرکین عرب نے اس خانہ خدا میں غیراللہ کو معبود بناکر،اسمیں مورتیاں رکھ کر حقیقت میں اسے گندا کر دیا ہے،مشرکین قریش نے بیت اللہ میں یہ گندگی پھیلا کر وراثت ابراہیمی کو پامال کیا اس طرح یہ بھی اسرائیل کی طرح اس وعدہ سے مستثنی ہوگئے جو حضرت ابراہیم ؑ سے کیا گیا تھا۔
لہذا اب بیت اللہ اور حضرت ابراہیمؑ کے حقیقی وارث ہم امت محمدﷺ ہیں،اب ہمیں اس آیت مبارکہ کی روشنی میں بیت اللہ کے ساتھ ساتھ اپنی مساجد کو بھی شرک وبدعت سے پاک کرنا ہوگا۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کیتوفیق عطا فرمائے۔

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے