Home / اسلام / حلال و حرام اور عقلِ ناتمام !! 🌹

حلال و حرام اور عقلِ ناتمام !! 🌹

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنعام ، اٰیت 142 تا 144 ))) 🌹
حلال و حرام اور عقلِ ناتمام !! 🌹
ازقلم 🌷🌷اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفاد کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہُومِ اٰیات ! 🌹
🌹 ومن الانعام
حمولة وفرشا کلوا مما
رزقکم اللہ ولا تتبعوا خطوٰت
الشیطٰن انہ لکم عدو مبین 142
ثمٰنیة ازواج من الضأن اثنین ومن المعز
اثنین قل ٰٕ الذکرین حرم ام الانثیین امااشتملت
علیہ الانثیین نبٸونی بعلم ان کنتم صٰدقین 143 ومن
الابل اثنین ومن البقراثنین قل ٰٕ الذکرین حرم ام الانثیین ام کنتم
شھدا ٕ اذ وصٰکم اللہ بھٰذا فمن اظلم ممن افترٰی علی اللہ بغیرعلم ان اللہ
لا یھدی القوم الظٰلمین 144
اور چوپایوں میں سے جو بلند قامت مال بردار اور کوتاہ قامت خاکسار چو پاۓ اللہ نے تُمہاری خوراک کے لیۓ بناۓ ہیں تُم اُن کو اپنی خوراک بناکر اللہ کے اَحکام بجالاٶ اور اپنے کُھل کھیلنے والے دُشمن شیطان کے نقشِ قدم پر چلنے سے باز آجاٶ ، مثال کے طور پر کھاۓ جانے والے چار چو پاۓ سے اللہ نے آٹھ جوڑے بناۓ ہیں جن میں پہلے بھیڑ کے نَر کے ساتھ نَر اور مادہ کے ساتھ مادہ بچوں کے دو جوڑے ہیں ، پھر بکری کے نر کے ساتھ نَر اور مادہ کے ساتھ مادہ کے دو جوڑے ہیں ، آپ حلال و حرام کے خود ساختہ قاعدے بنانے والے اِن مُشرک لوگوں سے پُوچھیں کہ تُم نے اِن میں سے پیدا ھونے والے مُذکر جوڑے کو حرام کیا ھے یا مٶنث جوڑے کو اور یا اُس جوڑے کو جو ابھی تک رحمِ مادر میں ھے ، اگر تُم راست باز لوگ ھو تو پھر یہ بھی بتاٶ کہ اِن چار جوڑوں میں سے تُم نے جس جوڑے کو حرام کیا ھے وہ کس دلیل سے حرام کیا ھے ، اسی طرح اُونٹنی کے نَر کے ساتھ نَر اور مادہ کے ساتھ مادہ کے دو جوڑے اور گاۓ کے بھی نَر کے ساتھ نَر اور مادہ کے ساتھ مادہ کے دو دو جوڑے ہیں ، تُم نے اِن کے اِن مُذکر و مٶنث جوڑوں میں سے کس کو کس دلیل سے حرام کیا ھے ، اگر تُمہارے پاس اپنے اِس دعوے کی کوٸ دلیل نہیں ھے تو پھر کم اَز کم یہی بتادو کہ اللہ نے جب اِن چو پاٸیوں کو پیدا کیا تھا تو تُم بھی وہاں موجُود تھے اور اِن چوپاٸیوں کو حرام بنانے کے لیۓ اللہ نے تُم کو کوٸ خصوصی ھدایت دی تھی ، اگر ایسا نہیں ھے تو پھر یقین جانو کہ جو جاہل و ظالم لوگ اللہ پر بُہتان بازی کرتے ہیں وہ اپنی اسی بُہتان بازی کے باعث ھدایت سے محرُوم ھوتے اور ھدایت سے محرُوم رہتے ہیں !
🌹 رَبطِ اٰیات و رَبطِ مضمونِ اٰیات ! 🌹
اِن اٰیات میں بیان ھونے والے اِن مضامین کا تعلق اٰیت 138 میں بیان کیۓ گۓ اُس مضمون کے ساتھ ھے جس میں کہا گیا ھے کہ یہ مُشرک کہتے ہیں کہ فلاں فلاں نَسلوں کے فلاں فلاں جان دار چو پاۓ ھمارے لیۓ تو حلال ہیں لیکن ھمارے سوا دُوسرے تمام انسانوں کے لیۓ حرام ہیں اور اسی طرح یہ مشرک لوگ یہ دعوٰی بھی کرتے ہیں کہ سواری اور با برداری کے فلاں فلاں جان وروں پر صرف ہمیں سواری اور بار برداری کرنے کا حق ھے ، ھمارے سوا کسی دُوسرے انسان کو اِن پر سواری اور مال برداری کا حق نہیں ھے ، اسی طرح یہ مُشرک لوگ یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ فلاں جان ور کے پیدا ھونے والے بچے کا کھانا ھمارے لیۓ تو حلال ھے لیکن ھماری بیویوں کے لیۓ حرام ھے اور جس جان ور کا جو بچہ پیداٸش کے دوران مرجاۓ تو ھم دونوں مرد و زَن کے لیۓ حلال ھے ، موجُودہ اٰیات میں حلال و حرام کے بارے میں اُن لوگوں کے اُن غیر مَنطقی دعوٶں کا ایک مَنطقی اور مُسکت جواب دیا گیا ھے ، اِن اٰیات کے اِن مضامین میں بھیڑ بکری اور اُونٹ گاۓ وغیرہ کو نام زَد کر کے اِن سے پیدا ھونے اور پیدا ھو کر آٹھ مُذکر و مٶنث جوڑے بننے کا ذکر ھے ایک تَمثیل اور یہ تَمثیل اِس بات کی دلیل نہیں ھے کہ صرف یہی چار جان ور کھانے کے لیۓ حلال ہیں جن کا اِن اٰیات میں ذکر کیا گیا ھے وہ سارے جان دار کھانے کے لیۓ حرام ہیں جن کا اِن اٰیات میں ذکر نہیں کیا گیا !
🌹 کلام و مُدعاۓ کلام ! 🌹
اٰیاتِ بالا کا پہلا مُدعاۓ کلام حلال و حرام کے بارے میں مُشرکینِ عرب ، مُحدثینِ عجم اور اُن تمام مُفسدینِ عرب و عجم کے بناۓ ھوۓ اُن تمام قوانین کو رَد کرنا ھے جو قوانینِ حلال و حرام اُنہوں نے اللہ کے حُکم سے نہیں بناۓ ہیں بلکہ اپنی خواہشِ نَفس سے بناۓ ہیں اور اٰیاتِ بالا کا دُوسرا مُدعاۓ کلام ، انسان کو اللہ کے اِس قانونِ عام کی طرف متوجہ کرنا ھے کہ فی الاَصل تو اہلِ زمین کے لیۓ زمین کی ہر وہ چیز کھانا اور استعال میں لانا جاٸز و حلال ھے جو انسان کی جان و صحت کے لیۓ نقصان کا باعث نہیں ھے اور اللہ نے اُس کے کھانے اور استعمال میں لانے سے منع نہیں کیا ھے اور اہلِ زمین کے لیۓ زمین کی ہر وہ چیز حرام ھے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں اپنے واضح اَحکام دے کر اُس کو حرام کیا ھے ، اِن اٰیات کے اِس مُدعاۓ کلام کے مطابق کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں ھے کہ وہ اپنی مرضی کے مرض میں مُبتلا ھو کر کسی حلال چیز کو حرام یا کسی حرام چیز کو خود اپنے لیۓ یا زمین کے دُوسرے انسانوں کے لیۓ حلال بناۓ ، مُشرکینِ عرب نے اللہ کے حلال کو اپنی خواہش سے حرام بنانے کے لیۓ کیا کیا کیا ھے اِس کا کُچھ اَحوال گزشتہ اٰیات میں گزرا ھے ، کُچھ مجُودہ اٰیات میں بیان ھوا ھے اور کُچھ آٸندہ اٰیات میں آۓ گا لیکن مُحدثینِ عجم نے اجتہادِ مُجتھد کے نام پر کیا کیا مُجتھدانہ کارنامے اَنجام دیۓ ہیں ، اِن کا بیان اور احاطہِ بیان کُچھ زیادہ آسان نہیں ھے ، حضرتِ غالب کہتے ہیں :-
میں نے کہا کہ بزمِ ناز چاہیۓ غیر سے تہی
سُن کے ستم ظریف نے مُجھ کو اُٹھادیا کہ یُوں
🌹 مُحدثنِ عجم اور حلال وحرام ! 🌹
ہر چند کہ ابراہیم علیہ السلام کے دین میں بھی حلال و حرام کی حدُود اتنی واضح ضرور تھیں کہ عام انسانی فطرت نے اُن کو دیکھ بَھال اور سمجھ بُوجھ کر قبول کر لیا تھا لیکن مُشرکینِ عرب اپنی بُت پرستانہ فطرت کے تحت اِن حدُود کو بار بار توڑتے رہتے تھے ، قُرآنِ کریم نازل ھوا تو اللہ تعالٰی نے اِس میں حلال و حرام کے جُملہ چھوٹے اور جُملہ بڑے مساٸل پُوری وضاحت اور پُوری صراحت کے ساتھ بارِ دِگر بیان کر دیۓ لیکن مُحدثینِ عجم کے مُفسدانہ فطرت کو پھر بھی راحت نہ ملی اور اُنہوں نے غالب کے ظالم محبوب کی طرح اللہ کے اِن اَحکام میں بھی ” یُوں “ کی اِسی گرہ کی طرح ایسی ہی کٸ گرہیں لگادیں ، چنانچہ مولانا مودودی مرحوم نے مُحدثین عجم کی اِس ” یُوں “ کی یہ تفصیل بیان کرتے ھوۓ تفہیم القرآن کی جلد اَوّل کے صفحہ 592 پر لکھا ھے کہ ” فقہاۓ اسلام میں سے ایک گروہ اس بات کا قاٸل ھے کہ حیوانی غذاٶں میں سے یہی چار چیزیں حرام ہیں اور ان کے سوا ہر چیز کھانا جاٸز ھے ، یہی مسلک حضرت عبداللہ ابن عباس اور حضرت عاٸشہ کا تھا لیکن متعدد احادیث سے معلوم ھوتا ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض چیزوں کے کھانے سے یا تو منع فرمایا ھے یا ان پر کراہت کا اظہار فرمایا ھے ، مثلا پالتو گدھے ، کچلیوں والے درندے اور پنجوں والے پرندے ، اِس وجہ سے اکثر فقہا ٕ تحریم کو ان چیزوں تک محدود نہیں مانتے بلکہ دوسری چیزوں تک اسے وسیع قرار دیتے ہیں مگر اس کے بعد حلت و حرمت میں فقہا ٕ کے درمیان میں اختلاف ھوا ھے ، مثلاََ پالتو گدھے کو امام ابو حنیفہ ، امام مالک اور امام شافعی حرام قرار دیتے ہیں لیکن بعض دوسرے فقہا ٕ کہتے ہیں کہ وہ حرام نہیں بلکہ کسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعے پر اس کی ممانعت فرمادی تھی ، درندہ جانوروں اور شکاری پرندوں اور مُردار خور حیوانات کو حنفیہ مطلقاََ حرام قرار دیتے ہیں مگر امام مالک اور اوزاعی کے نزدیک شکاری پرندے حلال ہیں ، لیث کے نزدیک بلّی حلال ھے ، امام شافعی کے نزدیک صرف وہ درندے حرام ہیں جو انسان پر حملہ کرتے ہیں ، جیسے شیر ، بھیڑیا ، چیتا وغیرہ ، عکرمہ کے نزدیک کوّا اور بجّو دونوں حلال ہیں ، اسی طرح حنفیہ تمام حشرات الرض کو حرام قرار دیتے ہیں مگر ابن ابی لیلٰی ، امام مالک اور اوزاعی کے نزدیک سانپ حلال ھے ، ان تمام مختلف اقوال اور ان کے دلاٸل پر غور کرنے سے معلوم ھوتا ھے کہ دراصل شریعت الٰہی میں قطعی حرمت ان چار چیزوں کی ھے جن کا قرآن میں ذکر کیا گیا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے