Home / اسلام / اَحوالِ شرک اور اَعمالِ مُشرکین !!

اَحوالِ شرک اور اَعمالِ مُشرکین !!

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
((( اَلاَنعام ، اٰیت 136 تا 140 ))) 🌹
اَحوالِ شرک اور اَعمالِ مُشرکین !! 🌹
ازقلم🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہُومِ اٰیات ! 🌹
🌹 وجعلوا
للہ مما ذرامن الحرث
والانعام نصیبا فقالوا ھٰذا للہ
بزعم ھم و ھٰذا لشرکا ٸنا فماکان لشرکاٸھم
فلا یصل الی اللہ وماکان للہ فھو یصل الٰی شرکاٸھم
سا ٕ مایحکمون 136وکذٰلک زین لکثیر من المشرکین قتل اولادھم
شرکاٸھم لیردوھم ولیلبسواعلیھم دینھم ولوشا ٕ اللہ مافعلوہ فذرھم وما یفترون
137 وقالواھٰذہ انعام وحرث حجر لایطعمھاالامن نشا ٕ بزعمھم وانعام حرمت ظھورھا وانعام
لایذکرون اسم اللہ علیھا سیجزیھم بما کانوا یفترون 138 وقالوامافی بطون ھٰذہ الانعام خالصة لذکورنا
و محرم علٰی ازواجنا وان یکن میتة فھم فیہ شرکا ٕ سیجزیھم وصفھم انہ حکیم علیم 139 قد خسر الذین قتلوا اولاد
ھم سفھا بغیر علم وحرموامارزقھم اللہ افترا ٕ علی اللہ قد ضلوا وماکانوامھتدین 140
اِن مُشرک لوگوں نے اپنی قدیم مُشرکانہ کہاوت کے مطابق اللہ کی بناٸ ھوۓ زمین ، اُس کے اُگاۓ ھوۓ سبزہِ زمین اور زمین پر اُس کے پھیلاۓ ھوۓ مَواشی کی پیداوار میں ایک حصہ اُس اللہ کے لیۓ مُقرر کیا ھوا ھے جو اپنی بِنا سے اپنی بِنا پر خود بنا ھے اور ایک حصہ اپنے اُن معبودوں کے لیۓ مُقرر کیا ھوا ھے جو اُنہوں نے اپنے دَستِ خود سے خود بناۓ ہیں ، پھر جب اِس پیداوار کی عملی تقسیم کا وقت آتا ھے تو یہ مُشرک لوگ اپنے ہاتھوں سے بناۓ ھوۓ اِن بتوں ، اپنے خیالوں میں سجاۓ ھوۓ دیوی و دیوتاٶں اور اپنے مُشرک معاشرے کے اُٹھاۓ مَندروں اور مُورتیوں کا حصہ تو اُن تک پُہنچانے کے بعد اللہ کے نام کا حصہ بھی غریب و نادار انسانوں تک پُہنچانے کے بجاۓ یہ کہہ کر اپنے آستانوں کے حوالے کر دیتے ہیں کہ اللہ تو خود غنی ھے اُس غنی کو بَھلا اِن چیزوں کی ضرورت ہی کیا ھے اور یہ اِن بُرے انسانوں کے بُرے معاشرے کی ایک بہت بُری تقسیم ھے ، پھر اسی طرح اِن مُشرکوں کو شرک کے مُشرکانہ داٸرے میں لانے والے اِن کے شریکِ شرک پیروں اور پروہتوں نے اِن لوگوں کے دِل میں اپنی اَولادوں کو قُربان کرنا بھی ایک محبُوب عمل بنا دیا ھے تاکہ اللہ کا دینِ توحید اُن کے لیۓ مَشکوک اور اِن کا طریقِ شرک اِن کے لیۓ محبوب بن جاۓ اور وہ اپنے مال کے بعد اپنی اَولاد بھی اِن پیروں اور پروہتوں کے نام اور اَحکام پر قُربان کردیا کریں ، اگر اللہ چاہتا تو اِن لوگوں کو اِن کے اِن مُشرکانہ اَعمال سے روک دیتا ھے لیکن انسانوں کو زور زبردستی کے ساتھ حق کی طرف لانا اللہ کا طریقِ تعلیم نہیں ھے ، پھر یہ مُشرک لوگ ایک دُوسرے کو یہ بھی کہتے ہیں کہ فلاں فلاں فصلوں کے کھیت اور فلاں فلاں نَسلوں کے جانوروں کی فلاں فلاں پیداوار ھم نے اپنے لیۓ حلال اور دُوسروں کے لیۓ حرام کردی ھے ، ظاہر ھے کہ حلال و حرام کے بارے میں یہ اِن کا بنایا ھوا ایک اَحمقانہ قانون ھے ، پھر اسی طرح اِن مُشرک لوگوں نے کُچھ جانوروں پرسواری اور بار برداری بھی حرام کی ھوٸ ھے اور کُچھ جانوروں پر اللہ کا نام لینے کی مُمانعت بھی کر رکھی ھے اور اِن لوگوں نے یہ سب کُچھ اللہ کے نام پر کیا ھے جو اِن کی طرف سے اللہ پر لگایا ھوا وہ بُہتانِ عظیم ھے جس کی سزا اِن کا مقدر ھو چکی ھے ، پھر ان مُشرک لوگوں نے حلال و حرام کا یہ خانہ ساز قانون بھی جاری کیا ھوا ھے کہ فلاں جانور کے پیٹ سے جو بچہ پیدا ھوگا اُس کا کھانا صرف اِن کے مردوں کے لیۓ حلال ھو گا مگر اِن کی عورتوں کے لیۓ حرام ھوگا لیکن اگر وہ پیدا ھونے والا بچہ پیداٸش کے دوران مرجاۓ تو اُس کا کھانا مرد و زَن دونوں کے لیۓ حلال ھوگا ، اِن کو اِن سب مَن گھڑت باتوں کا بدلہ تو ملنا ہی ھے تاھم شرک کی اِن بیہُودہ رسموں کا سب سے زیادہ نُقصان اُن لوگوں کو پُہنچا ھے جنہُوں نے اپنی جہالت کی بنا پر اَولاد کا قتل کرنا روا سمجھا ھے اور اللہ کے حلال رزق کو اپنے لیۓ حرام جانا ھے اور ہر تحقیق سے اِس اَمر کی بھی تصدیق ھو چکی ھے کہ یہ وہ بہکے اور بہَٹکے ھوۓ لوگ ہیں جنہوں نے ھدایت کا دروازہ خود ہی خود پر بند کر لیا ھے !
🌹 تاریخ کے واقعات اور قُرآن کے نقلِ واقعات ! 🌹
قُرآنِ کریم نے حلال و حرام کے بارے میں مُشرکینِ عرب کے جو اَحوال نقلِ واقعہ کے طور پر اٰیاتِ بالا میں نقل کیۓ ہیں ھم نے بھی وہ اَحوال اٰیات کے زیرِ مَتن مفہوم میں بحدِ امکان پُورے کے پُورے نقل کردیۓ ہیں لیکن حلال و حرام کے بارے میں مُشرکینِ عرب کے یہ وہ زمانی اَحوال اور اُن کے وہ وضعی عقاٸد و اَعمال ہیں جو قُدرت کی طرف سے قُدرتی طور پر نافذ ھونے والی قُدرتی سزا کے نتیجے میں زمین کے طول و عرض سے مِٹ چکے ہیں ، مُہذب انسانی دُنیا میں حلال و حرام کے یہ غیر فطری طریقے بظاہر تو کہیں پر بھی موجُود نہیں ہیں اور اگر دُنیا کے کسی غیر مُہذب جنگلی یا امازونی قباٸل میں موجُود بھی ہیں تو وہ مُستقبل قریب میں قُدرت کے اسی قُدرتی نظام کے مطابق قُدرتی طور پر فنا ھو جاٸیں گے کیونکہ دُنیا ایک تدریج کے ساتھ غیر محسوس طور پر شر سے خیر کی طرف بڑھ رہی ھے جس کی وجہ سے جہالت کے بناۓ ھوۓ غیر عقلی و غیر فطری عقاٸد و نظریات آہستہ آہستہ فطرت کی علمی دہلیز پر آکر دَم توڑ رھے ہیں ، اِس لیۓ مُشرکینِ زمانہ کے اِن مُشرکانہ عقاٸد و نظریات پر کسی علمی نقد و نظر اور کسی علمی محاسبے یا محاکمے کی ضرورت نہیں ھے !
🌹 حلال و حرام کا قُرآنی تصور ! 🌹
تاہَم اٰیاتِ بالا کے نفسِ موضوع کے حوالے سے ھم جو دو باتیں کہنا چاہتے ہیں اُن میں پہلی بات حلال و حرام سے مُتعلق وہی بات ھے جو اِس سُورت میں پہلے اِس کی اٰیت 118 ، اِس کے بعد اٰیت 121 اور اَب اسی سُورت کی اٰیت 138 میں زیرِ بحث آٸ ھے ، اگر قُرآنِ کریم اللہ کے اِن اَحکام کو اور اِن اَحکام کے اِبلاغ و تبلیغ کے لیۓ لاٸ جانے والی اِن اٰیات کو وزنِ بیت کے طور پر نہیں لایا ھے اور یقیناََ نہیں لایا ھے تو قُرآن کے نزدیک وہ چار ہی مُطلق اور اَزلی اَشیا ٕ حرام ہیں جن کا قُرآن نے سُورةُالبقرة کی آیت 173 میں ذکر کیا ھے ، پھر اُن چار اَزلی و اَبدی حرام چیزوں کی سُورةالماٸدہ کی پہلی پانچ اٰیات میں تفصیل بیان کی ھے ، پھر اُن دو اِجمالی و تفصیلی اَحکام کے بعد اَب سُورةُ الاَنعام کی اِن تین اٰیات میں حلال و حرام کے بارے میں اُس ایک بات کا تین زاویوں سے ذکر کیا ھے جس کا جانور کے حلال یا حرام ھونے سے کوٸ تعلق نہیں ھے بلکہ اُس حیوانِ ناقص کی جان لینے والے اُس حیوانِ ناطق کے اُس عملی طریقے سے تعلق ھے جس عملی طریقے سے وہ اُس جانور کی جان لیتا ھے جس کو خالق اپنی مخلُوق کے کھانے اور باربرداری کے لیۓ استعمال میں لانے کی غرض سے پیدا کیا ھے ، کھانے اور استعمال میں لانے کی چیزوں کے بارے میں ھم قُرآن کے اِن مُتعلقہ مقامات پر قُرآن کا یہ اُصول بیان کر چکے ہیں کہ قُرآنِ کریم کے بیان کیۓ ھوۓ اَحکامِ نازلہ کی رُو سے انسان کے لیۓ زمین کی ہر اُس چیز کا کھانا اور استعمال میں لانا درست ھے جو انسان کے تجربے و مُشاھدے کی رُو سے انسان کی صحت و جان کے لیۓ نُقصان دہ نہیں ھے بشرطیکہ اُن میں سے کسی خاص چیز کے کھانے اور اِستعمال میں لانے سے انسان کو اللہ نے اپنے کسی حُکم کے تحت منع نہیں کیا ھے اور قُرآن کی رُو سے ہر اُس چیز کے کھانے اور استعمال میں لانے کی انسان کے لیۓ مُمانعت ھے جس چیز کے کھانے اور استعمال میں لانے سے اللہ نے اپنے کسی حُکم کے ذریعے منع کیا ھے لیکن سورةُالاَنعام کی اِن تین اٰیات میں کسی جانور کے حلال یا حرام ھونے کے بارے میں اللہ نے اپنے کسی سابقہ حُکم کا اعادہ نہیں کیا ھے بلکہ پہلی اٰیت میں یہ اَخلاقی ھدایت دی ھے کہ تُم کھانے کی جو حلال چیز بھی کھایا کرو اُس پر پہلے اللہ کا نام لٕے لیا کرو اور اُس کے بعد اُس چیز کو کھایا کرو کیونکہ یہ تُمہارے مومن و مُسلم ھونے کی ایک معاشرتی علامت ھے ، دُوسری اٰیت میں یہ اَخلاقی ھدایت دی گٸ ھے کہ تُم کھانے کی حلال چیزوں میں سے جو چیز بھی کھایا کرو وہ اللہ کا نام لیۓ بغیر نہ کھایا کرو کیونکہ تُمہارا ایسا کرنا اللہ کے سامنے تُمہاری سرکشی اور نافرمانی کی علامت ھے اور تیسری اٰیت میں یہ حُکم دیا گیا ھے مُشرکین نے کھانے کی جن چیزوں پر اللہ کانام نہ لینا اپنا وطیرہ بنا لیا ھے تُم کھانے کی اُن چیزوں پر ہر حال میں اللہ کا نام لیا کرو تاکہ دیکھنے والے دُوسرے اہلِ معاشرہ کو اللہ کے فرمان بردار مُسلم اور نافرمان مُشرک بندوں میں ایک دینی و معاشرتی فرق نظر آۓ ، نتیجہِ کلام یہ ھے کہ کھانے کی چیزوں پر اللہ کانام لینا ایک اَعلٰی معاشرتی ضابطہِ اخلاق ھے اور کھانے کی چیزوں پر اللہ کانام نہ لینا ایک غیر اَخلاقی عمل ھے لیکن کھانے کے جس جانور پر کسی مُشرک و مومن یا کسی دُوسرے مُنکر نے اپنی بُری نیت اور اپنے بُرے ارادے سے اللہ کے نام بجاۓ غیر اللہ کانام لیا ھے تو تُم اُس کو ہاتھ بھی نہ لگاٶ کیونکہ اِس فعل کے اُس فاعل اور اِس عمل کے اُس عامل نے تُمہارے دین اور معاشرت کی تَضحیک کی ھے ، ظاہر ھے کہ یہ حلال چیزوں کے کھانے کے بارے میں ایک اَخلاقی و معاشرتی حُکم ھے جس کا حلال و حرام کے بُنیادی قانونِ مُمانعت سے کوٸ تعلق نہیں ھے کیونکہ کھانے کی ہر چیز فی ذاتہ حلال ھوتی ھے ، اللہ کا نام لینے سے حلال نہیں ھوتی ، اگر خنزیر پر دُنیا کے ڈیڑھ اَرب مُسلمان مل کر بھی تکبیر پڑھ لیں تو وہ تَب بھی حلال نہیں ھوگا کیونکہ اُس کا کھانا اللہ نے اپنے حُکم سے اِس طرح حرام کیا ھوا ھے کہ اَب وہ کسی تکبیر یا تدبیر سے کبھی بھی حلال نہیں ھو سکتا !
🌹 قُرآن اور مُمانعتِ قتلِ اَولاد ! 🌹
اٰیاتِ بالا کے حوالے سے دُوسری بات جس پر ھم بات کرنا چاہتے ہیں وہ قتلِ اَولاد کا وہ ہولناک خیال ھے جس کے بارے میں ایک لَفظ سُنتے ہی ہر انسانی جان اور ایک منظر دیکھتے ہی ہر حیوانی جان لَرزہ بر اَندام ھو جاتی ھے ، کیونکہ اَولاد سے محبت خالقِ عالَم کا دیا ھوا وہ عالَمگیر فطری و جبلّی جذبہ ھے جو ہر انسان و حیوان کی جبلت میں شامل ھے لیکن دُنیا میں کبھی کبھی اِس عالَم گیر اور ہمہ گیر انسانی اور حیوانی جبلّی جذبے کے زندہ و موجُود ھونے کے باوجُود بھی ایسے واقعات وقوع پزیر ھوتے رھے ہیں جن پر انسان کی انسانیت اور حیوان کی حیوانیت شرمسار ھوتی رہی ھے اور قُرآن نے بھی اِس کا نوٹس لیا ھے ، قتلِ اَولاد سے قُرآن کی حقیقی مُراد اَولاد کو زمانے کے علمِ راٸج سے دُور کر کے اُس کو اپنی جہالت کی تیغ سے تہہِ تیغ کرنا ھے ، قتلِ اَولاد کی یہ جہالت ابتداٸ زمانوں کے مطلق العنان بادشاہیوں کا ایک شاہی رواج ھوا کرتی تھی اور اِسی ظالمانہ رواج کے تحت بچے بیچے اور خریدے اور خرید کر تعلیم سے دُور کیۓ جاتے تھے ، پھر تعلیم سے دُور کر کے اُن کو مزید جاہل بنایا جاتا تھا اور پھر وہ جاہل بچے غلام بنا کر لَشکرِ شاہی میں شامل کیۓ جاتے تھے اور آدابِ غلامی سیکھنے کے بعد بادشاہ کے لیۓ ہنسی خوشی کے ساتھ اپنی جان دے دیتے تھے کیونکہ اُن غلاموں کے لیۓ جان دے کر مر جانا زندہ رہنے سے زیادہ آسان عمل ھو جاتا تھا اور اِس عمل کے بعد اُن کی بیقرار رُوح کو بھی قرار آجاتا تھا ، جاہلت کی قدیم روایتی وراثت کے طور پر جہالت کی یہ منحوس دیوی آج بھی موجُود ھے اور تیسری دُنیا کے اکثر و بیشتر مُسلم و غیر مُسلم جاگیردار اپنی جاگیر میں ہاریوں اور کسانوں کے بچوں کو تعیلم سے دُور کرکے اپنے کام کے لیۓ مجبور کرتے ہیں لیکن انسانی تاریخ میں قتلِ اَولاد کے اِس شرمناک کام میں سب سے زیادہ اُن مذہبی جنونیوں کا عمل دخل رہا ھے جو ہر زمانے کی ہر زمین پر مَذہب کا کار و بار کرتے رھے ہیں اور کر رھے ہیں ، ھمارے لیۓ وہ تفصیلات بیان کرنا مُمکن نہیں ھے جن سے ہر دور کی تاریخ کا سینہ اور سفینہ ہمیشہ پُر رہا ھے اور آج بھی پُر ھے ، صرف غلامی اور قتل کی شکلیں مُختلف ہیں ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اریب قریب زمانے میں بھی بچوں کو اہلِ مذاہب کی مذہبی درگاہوں پر لے جا کر کسی مُقدس مَذہبی ہستی کے نام قُربان کیا جاتا تھا اور چونکہ ہر انسان اپنے زمانے کے حلات و واقعات کے بارے میں خواب دیکھتا ھے اِس لیۓ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بھی ایک بار اپنے زمانے میں اپنے زمانے کے اَحوال کے مطابق ایک خواب دیکھا تھا جس کو قُرآنِ کریم نے سُورةُالصٰفٰت کی اٰیت 100 تا 105 میں درسِ عبرت کے طور پر بیان کیا ھے اور اُس خوابِ عبرت کا حاصل یہ ھے کہ ابراہیم علیہ السلام ایک بیٹے کے لیۓ ایک طویل مُدت تک اللہ سے دعامانگتے رھے ، یہاں تک کہ جب وہ بیٹا پیدا ھو کر جوان ھو گیا تو انہوں نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے ہی ہاتھ سے اپنے اُس بیٹے کو ذبح کر رھے ہیں اور آپ نے اُسی خواب میں یہ خواب بھی دیکھا کہ وہ اپنا یہ خواب اپنے سعادت مند بیٹے کو سُنا رھے ہیں اور خواب ہی میں اُن کا وہ سعادت مند بیٹا اپنی جان ، جانِ آفریں کے سپرد کرنے کے لیۓ تیار ھو جاتا ھے اور پھر خواب ہی میں اللہ تعالٰی اپنے نبی کو بتاتا ھے کہ تُونے اپنا خواب تو سچا کر کے دکھا دیا ھے ، اِس لیۓ اَب میں نے تیری دعاٶں کے بعد دیۓ ھوۓ تیرے سعادت مند بیٹے کی جان بچالی ھے اور اُس کو بچانے کی غرض سے اُس کے فدیہِ جان کے طور پر ذبح کرنے کے لیۓ تیرے سامنے ایک بہت بڑا جانور لا کر کھڑا کردیا ھے لیکن اہلِ مذاہب کا کمال یہ ھے کہ انہوں نے اپنی مطلب برآری کے لیۓ اللہ کے اُس عظیم نبی کے خواب کو بھی ایک مُسلمہ دینی حقیقت اور ایک مُسلمہ دینی فریضہ بنا دیا ھے اور چونکہ نبی کے خواب میں اُس بڑے جانور کی شکل کا ذکر نہیں ھے اِس لیۓ اَب یہ اہلِ مذاہب سب بھیڑوں ، بکریوں ، اونٹوں اور دُوسرے جانوروں کے نَر و مادہ بچوں کو اپنا بچہ بناکر اُن پر چُھریاں چلا رھے ہیں !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے