Home / کالم / آزادی سے اب تک محفوظ پاکستان کے لئے ہمارا کردار،

آزادی سے اب تک محفوظ پاکستان کے لئے ہمارا کردار،

‘ قلمدان ڈاٹ نیٹ کے زیر اہتمام تحریری مقابلہ

تحریر
ام حسان کراچی

ہر قوم اپنی آزادی و خود مختاری کی قیمت چکاتی ہے،
چاہے قربانی جان کی ہو یا مال کی۔۔۔۔۔!! کسی انتہا سے پیچھے نہیں ہٹا جاتا۔۔،
اور وہی قومیں تاریخ کے صفحات پہ نسل در نسل زندہ رہتی ہیں جو اپنی آزادی پہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتیں،

14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پہ آزاد اور خودمختار ریاست کی صورت میں ابھرنے والے ملک کا نام پاکستان تھا ، ہے اور تاقیامت رہے گا، ان شاءاللہ ان شاءاللہ
کاغذ کے نقشے پاکستان کے نام کے اندراج کی کہانی بھی ایک خونی داستان ہے،،،
اک دربدری کی دردناک کہانی ہے،،،
عزتیں لٹا کر،سہاگ اجاڑ کر،ممتا تڑپا کر بے سروسامان روحوں نے خود کو پاک سر زمین تک پہنچایا،،اور کتنی عجیب بات ہے کہ ان لٹے پٹے قافلوں کو کسی چیز کے چھن جانے کا دکھ نہیں تھا،انھیں صرف ایک لگن اور ایک جستجو تھی کہ انھیں پاکستان کی پاک دھرتی کو چومنا ہے،بس یہی منزل مراد تھی اور یہی کل کائنات تھی،
یہاں تک کا سفر آزادی و خود مختاری کے حصول کا تھا جو بلا شبہ مشکل ترین اور کٹھن مرحلہ تھا لیکن اصل امتحان نوزائیدہ مملکت کی تعمیر و ترقی تھا جو آج تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا۔۔،
آج جب ہم قیام پاکستان کی تقریباً تہترویں(73) سالگرہ منا رہے ہیں تو بحیثیت پاکستانی ہمیں سوچنا چاہیے کہ پاکستان حاصل کرنے والی نسل نے تو اپنا تن من دھن قربان کر کے پاکستان حاصل کیا تھا تو کیا ہم نے پاکستان کی حفاظت کے لئے کیا کردار ادا کیا،،
ہم بحیثیت قوم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ہم خود کو تہی دامن محسوس کرتے ہیں،
ایک نفسا نفسی کی فضا محسوس کرتے ہیں،
ہم چاہ کر بھی اپنے وطن کی آزادی اور اپنی خود مختاری کا تحفظ نہیں کر سکے،،
اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم اپنی آزادی اور الگ وطن کے حصول کا مقصد بھلا چکے ہیں،
ہم بحیثیت قوم منظم اور متحد نہیں ہیں،
ہم منتشر قوم ہیں اور اس انتشار کا مظاہرہ ہم وقتاً فوقتاً کرتے بھی ہیں،
ہم اج بھی اپنے لئے الگ وطن کے حصول کا مقصد نہیں سمجھ سکے،
یہی وجہ ہے کہ ہم بحرانوں میں گھرے رہتے ہیں اور ہمارا کمزور دشمن ہمارے سروں پر منڈلاتا رہتا ہے،،
اور ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ہم نے محفوظ پاکستان کے لئے اپنا کردار آج بھی ادا نہ کیا تو ہماری نسلیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑ سکتی ہیں،
آزادی سے لے کر اب تک ہم نے نظریہ پاکستان کو بھلائے رکھا جو ہماری آزادی کی تحریک میں ایک نقطۂ آغاز تھا،
علامہ اقبال کا وہ خواب تھا جس کی تعبیر میں آج ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں،
ہمیں آج بھی اس نظرئیے کی ضرورت ہے جو ہماری آج کی نسل بھلا بیٹھی ہے،
اور ہم راہ گم کردہ بھٹک رہے ہیں،
قائد اعظم محمد علی جناح کے رہنما اصول اتحاد، تنظیم اور یقین محکم بھی ہم فراموش کر چکے ہیں،
پاکستان اپنے قیام کے وقت سے ہی مسائل کا شکار رہا اور پھر قائد اعظم محمد علی جناح کے انتقال کی وجہ سے بھی پاکستانی قوم اپنے عظیم لیڈر کی مخلص قیادت سے محروم ہو گئے پھر آنے والے حکمران پاکستان کو ترقی اور استحکام کی راہ پہ گامزن نہ کرسکے اور آج تک پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح جیسی عظیم شخصیت اور قائد کی قیادت سے محروم ہیں،،
محفوظ پاکستان کے لئے ہمیں فرداً فرداً قائد اعظم جیسا کردار ادا کرنا ہوگا کہ جنھوں نے اپنے پاکستانی عوام کے لئے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی،حصول پاکستان کے وقت قائد اعظم شدید بیمار تھے لیکن انھوں نے اپنی بیماری ظاہر نہیں کی یہی وجہ ہے کہ ان کی بیماری بہت بڑھ گئی تھی اور وہ جانبر نہ ہو سکے اور دار فانی سے کوچ کر گئے،یہ قائد اعظم کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے اور اس احسان کا بدلہ ہم اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی کی صورت میں دے سکتے ہیں

پاکستان کی حفاظت اور بقاء نظریہ پاکستان میں پوشیدہ ہے،
دین پہ عمل پیرا ہو کر ہم متحد رہیں گے ہم اپنے فرائض منصبی بخوبی نبھائیں گے تو نہ صرف ملک مستحکم ہوگا بلکہ محفوظ بھی رہے گا،اس کے برعکس جب ہم دین سے منہ موڑیں گے اپنے نظرئیے کے برعکس غیروں کے طریقے پہ چلیں گے تو آپس کے اختلافات کا شکار ہو کر منتشر ہو جائیں گے یا منتشر کر دئیے جائیں گے جیسے شاخوں سے گر کر پتے بکھر جاتے ہیں اور جیسے ٹوٹی عمارت کی اینٹیں ملبے کی صورت بکھر جاتی ہیں،
اور یاد رکھنا چاہئے کہ بکھرے پتے جب بھی اکھٹے کئے جاتے ہیں تو جلانے کے لئے اور ملبہ صاف کر دیا جاتا ہے،

اس لئے ہمیں اپنے دین اور ملک کی خاطر متحد
اور منظم قوم بننا ہوگا تاکہ ہمارا ملک ترقی کرے اور ہم اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ ملک دے سکیں،
زندگی میں جو جس محاذ پر ہے وہ وہیں اپنا کردار ایمان داری اور لگن سے نبھائے تو اس کا اثر مجموعی طور پر ہوتا ہے،،
جہاں منظم اور جدید اسلحے سے لیس فوج ملک کو محفوظ بناتی ہے وہیں ایمان دار،فرض شناس شہری بھی اپنے ملک کی پہچان بنتے ہیں،اس وقت ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ہم اپنے ملک کی نیک نامی کا سبب بنیں اور اس کے لئے پھر وہی ایمان داری اور فرض شناسی آجاتی ہے،اور یہی ایمان داری اور فرض شناسی ہماری پہچان بننی چاہئے،

ہمارے پرکھوں نے ہم تک یہ پاک وطن اپنے خون سے سینچ کر پہنچایا اور ہم انہیں پرکھوں کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے کچھ خواہشات کی قربانی دے کر ایک محفوظ اور مستحکم پاکستان اپنی آنے والی نسلوں تک پہنچا سکتے ہیں،اس طرح یہ سلسلہ آگے ہی آگے چلے گا اور پاکستان تاقیامت قائم و دائم رہے گا،
آزادی کی حفاظت کرنے والی قومیں ہی اقوام عالم میں سر اٹھا کر چل سکتی ہیں،
اس راہ میں مشکلات آئیں تو یہ سوچ کر سہہ لیں کہ۔۔۔!!

گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں
گھر تو آخر آپنا ہے۔۔۔!!

پاکستان زندہ باد
پائندہ تابندہ باد،

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے