Home / کالم / بنیاد پاکستان سے تعمیر پاکستان تک ہمارا کردار

بنیاد پاکستان سے تعمیر پاکستان تک ہمارا کردار

کل پاکستان مقابلہ مضمون نویسی
بعنوان
بنیاد پاکستان سے تعمیر پاکستان تک ہمارا کردار
زیر اہتمام
قلمدان رائٹرز کلب
03016913244
منجانب
ڈاکٹر ادیب عبدالغنی شکیل
شاعر و مفکر منشن
1122 حضرت صاحب روڈ
قدیر آباد
ملتان
بنیاد پاکستان سے تعمیر پاکستان تک ہمارا کردار
☆♡☆♡☆♡☆♡☆♡☆♡☆♡☆♡
اللہ تبارک تعالی’ نے اشرف المخلوقات انسان کو ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے ان سب نعمتوں سے صرف اس صورت میں استفادہ کیا جاسکتا ہے جب آزادی کی نعمت عظمی’ حاصل ہو .آزادی کے بغیر تو زندگی
بے کار ہے.
آزادی کسی بھی قوم کو طشت میں رکھ کر تحفتا”پیش نہیں کی جاتی .ہم نے بھی آزادی خاردار راستوں پر لہو لہو قدموں سے چل کر حاصل کی ہے .سہاگ لٹے ،عصمتیں تار تار ہوئیں.بچوں کو نیزے کی انی میں پرویا گیا .بزرگوں کی سفید ریش خون سے سرخ ہوئی .گھر بار لٹے ،کھیت کھلیان جلے تب آزادی کی نیل فام پری قابو آئی.
ایک چراغ جلانا آسان لیکن اسے بجھنے نہ دینا،اس کی لو کو برقرار رکھنا ،اسے ہوا کے تھپیڑوں سے بچانا مشکل کام ہے .اسی طرح ایک بیج بونے سے ننھا پودا بننے تک کا کام مشکل لیکن اس ننھے پودے سے ایک تناور درخت بننے کا عمل نہایت مشکل اور مسلسل نگہداشت کا متقاضی .
ایسے ہی حصول آزادی سے دشوار کام اس آزادی کی حفاظت اور اس کو برقرار رکھنا ہے .
حالات و واقعات نے ثابت کیا ہے کہ قیام پاکستان سے بھی دشوار کام استحکام پاکستان ہے .وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کے لیے اس سے کہیں زیادہ جوش و جذبہ، لگن اور محنت کی ضرورت ہے جتنی اس کے قیام کے لیے تھی.
دور غلامی میں ہم ایک ریوڑ یا بھیڑ کی مانند تھے .حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمتہ اللہ علیہ، اعلی’
حضرت عظیم المرتبت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت مولانا اشرف علی تھا نوی رحمتہ اللہ علیہ، حکیم الامت حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ اور دوسرے اکابرین نے اس ہجوم کو ایک قوم میں بدلا اور حضرت قائداعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کی قیادت میں دو قومی نظریہ کی بنیاد پر یہ آزاد مملکت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے.
قیام پاکستان کے بعد ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہم سب تعمیر وطن کے لیے یک جان ہوکر تندہی سے جٹ جاتے لیکن ہمیں تو اپنے اپنے صوبے ،زبانیں، علاقے اور قبیلے یاد آنے لگے
یہ امت خرافات میں کھو گئی
اپنی اپنی ڈفلی ،اپنا اپنا راگ شروع ہوگیا.
تعصب خواہ کسی رنگ میں ہو زہر قاتل ہے .ہم نے تولسانی ،علاقائی ،قبائلی ،صوبائی ہر طرح کے تعصب کو اپنا لیا .
عصبیتوں کے زہر کی بدولت ہمارا ایک حصہ ہم سے الگ ہوگیا .لیکن ہماری آنکھیں ابھی بھی نہیں کھلیں .ہم نے مذہبی فرقہ واریت کو خوب ہوا دی .
امت کو چھانٹ ڈالا کافر بنا بنا کر
اسلام ہے فقیہو ممنوں بہت تمہارا
اسلام تو سلامتی کا دین ہے ایمان امن کا نام ہی تو ہے
اگر ہم تعمیر وطن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سمجھنا ہوگا کہ فرقہ بندی وہ شجر ہے جس کا ثمر تعصب ہے جس نے آدم کو جنت سے نکلوایا تھا .
زبان کا استعمال بہت اہم ہے یہی زبان تخت پر بٹھائے اور یہی دھڑن تختہ کرائے.اس لیے اسے کبھی بھی فرقہ بندی کے لیے وا نہ کریں کہ اس میں ایک محشرستان چھپا ہوا ہے .کوشش کریں کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو سب یک دل یک جان ہوں جبھی دعوی’ کرسکتے ہیں کہ
ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں
ہم سب کی ہے پہچان
ہم سب کا پاکستان.
ہمارا ملک کوئی معمولی ملک نہیں ہے
وحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سے
میر عرب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
اس وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہاں سے نفرتوں کو مٹائیں محبتیں بڑھائیں
محبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے
ذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہے.
یہ کام مشکل نظر آتا ہے لیکن ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا
پرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کا
جو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کرکے چھوڑوں گا.
ہم میں سے ہر ایک کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ
محبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے
کیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نے
ہمیں دوسری اقوام کی خصوصا”مغربی اقوام کی کاسہ لیسی ترک کرنا ہوگی.
یہ زائران حریم مغرب ہزار رہبر بنیں ہمارے
ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے نا آشنا رہے ہیں .
ہم میں سے ہر ایک کی خواہش ہے کہ
ہوا ہو ایسی کہ ہندوستان سے اے اقبال
اڑا کے مجھ کو غبار رہ حجاز کرے
اور ہم کہتے ہیں کہ
سرمہ ہے میری آنکھوں کا خاک مدینہ و نجف
لیکن ہمارے صوفے ہیں افرنگی تو قالین ایرانی .
تعمیر وطن کے لیے ضروری ہے کہ ہم
پاکستانی بنیں
پاکستانی خریدیں
اس طرح اپنا قیمتی زر مبادلہ دوسرے ملکوں میں نہ جانے دیں
جو پیسہ ہم بچاتے ہیں
وطن کے کام آتا ہے.
ہمیں فضول خرچیوں، اللو تللو سے ،نمود و نمائش سے بچنا ہوگا ورنہ
زمانے کی چکی اس کو دے گی پیس
آمدن جس کی انیس ہو خرچ ہو جس کا بیس.
ہمیں مقامی دستکاروں اور ہنر مندوں کو ان کا جائز مقام دینا ہوگا .وطن عزیز کے بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کے لالچ میں قانونی اور غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جارہے ہیں .قانونی طریقے والے تو کسی نہ کسی طور اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں لیکن غیر قانونی طریقے والوں کا تو اکثر مقام سلاخوں کے پیچھے ہی ہوتا ہے جہاں وہ فریاد کناں ہوتے ہیں
کیا بدنصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوں
ساتھی تو ہیں وطن میں میں قید میں پڑا ہوں
آئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی ہیں
میں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں
اس قید کا الہی’ دکھڑا کسے سناوں
ڈر ہے یہیں قفس میں غم سے مر نہ جاؤں
جب سے چمن چھٹا ہے یہ حال ہوگیا ہے
دل غم کو کھا رہا ہے غم دل کو کھا رہا ہے
ہمیں ان گرفتار بلا افراد کو بھی وطن واپس لانا ہوگا اور ملک سے ذہانت کے فرار کو بھی روکنا ہوگا .
باہر کی ساری سے گھر کی آدھی بہر حال بہتر ہوتی ہے .
ہمارے بہت سے ساتھی ہر وقت قسمت کا رونا روتے رہتے ہیں ملکی ترقی میں ان کا کردار صفر نہیں بلکہ منفی ہوتا ہے ان کے گوش گزار کریں کہ
تواگر اپنی حقیقت سے خبردار رہے
نہ سیہ روز رہے پھر نہ سیہ کار رہے.
ہم نے بدقسمتی سے اپنے نظام تعلیم کو دو حصوں میں تقسیم کررکھا ہے دینی اور دنیاوی تعلیم .ہمیں اس تفریق کو مٹانا ہوگا
مدعا تیرا گر دنیا میں ہے تعلیم دیں
ترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلےانا کہیں
ہمیں ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے سستی کو خیر باد کہنا ہوگا کیونکہ
جو ٹھہرے ذرا کچلے گئے ہیں
اور
پوشیدہ قرار میں اجل ہے
ہم بفضل تعالی’ واحد اسلامی ایٹمی قوت ہیں ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سوبار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا
کیونکہ
بازو ہمارا توحید کی قوت سے قوی ہے
اور
سالار کارواں ہے میر حجازصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا
اس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا
معروف مصنفہ بانو قدسیہ سے ان کے بھانجے نے کہا
” میں آدھی سے زیادہ دنیا گھوم چکا اور مختلف مذاہب کے لوگوں سے مکالمہ کیا ہے آپ کا بھی گہرا مطالعہ اور مشاہدہ ہے
آپ بتائیں کونسی چیز اسلام کو دوسرے مذاہب سے ممتاز کرتی ہے ؟”
بہت سوچ بچار اور دو تین اندازوں کے بعد بانو قدسیہ نے بتایا
“رزق حلال”
ان کے اس جواب سے ان کے بھانجے نے اتفاق کیا اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اسلام میں رزق حلال پر بے حد زور دیا گیا ہے عبادات اور دعاؤں کی قبولیت رزق حلال سے مشروط ہے بدقسمتی سے بانیان پاکستان کے بعد جو کوئی بھی آیا اس نے نعرہ لگایا
پاکستان کا مطلب کیا
جو کچھ ملے کھا پی جا
اور انہوں نے اس نعرے پر عمل بھی کیا .کرپشن نے اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کردیں مگر ہم جس عطار کے لونڈے کے ہاتھوں بیمار ہوئے اسی سے دوا بھی لیتے رہے یعنی انہی الیکیٹ ایبلز کو بار بار منتخب کرتے رہے
کچھ غیرت مند محب وطن افراد نے ان “عوامی نمائندوں “کی توجہ اصل مسائل کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی .
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
ان عوامی نمائندوں نے ان کا مکو ٹھپ دیا وہ بیچارے فریاد کناں رہے
یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
ملت کے افراد کی ایک بڑی تعداد نے چپ سادھ لی حالانکہ انہیں للکارا بھی گیا
یہ خاموشی کہاں تک ؟لذت فریاد پیدا کر
زمین پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں
مختصر یہ کہ ہم سب کا ملکی تعمیر میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے .
جو کمر باندھی بھی یاروں نے حب قومی میں
وہ بولا تو نہیں چلتا وہ بولا تو نہیں چلتا
یعنی
اپنے اپنے مقام پر
کبھی ہم نہیں کبھی تم نہیں
اب کرنا کیا ہے؟
اپنی خودی پہچان
آو غافل پاکستانی
اب سب نے ہمت کرنی ہے اور اپنی اپنی ذمہ داری احسن طریق سے سر انجام دینی ہے
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے