Home / اسلام / جِنّات کی حقیقت اور جِنّات کے اَفسانے !! 🌹 { 6 } 🌹

جِنّات کی حقیقت اور جِنّات کے اَفسانے !! 🌹 { 6 } 🌹

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَنعام ، اٰیت 128 تا 130🌹
جِنّات کی حقیقت اور جِنّات کے اَفسانے !! 🌹 { 6 } 🌹
ازقلم 🌺🌺اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیت و مفہُومِ اٰیت ! 🌹
🌹 ویوم
یحشرھم جمیعا
یٰمعشرالجن قد استکبرتم
من الانس وقال اولیٰٸھم من الانس
ربنا استمتع بعضنا ببعض و بلغنا اجلنا الذی
اجلت لنا قال النار مثوٰکم خٰلدین فیھا الا ماشا ٕ اللہ
ان ربکم حکیم علیم 128 وکذٰلک نولی بعض الظٰلمین بعضا
بما کانوا یکسبون 129 یٰمعشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم یقصون
علیکم اٰیٰتی وینذرونکم لقا ٕ یومکم ھٰذا قالو شھدنا علٰی انفسنا وغرتھمالحیٰوة
الدنیا وشھدوا علٰی انفسھم انھم کانوا کُفرین 130
روزِ مَحشر میں جب اللہ جِنّات کے بڑے مُجرموں کو جمع کر کے بتاۓ گا کہ تُم نے دُنیا میں مُتعدد انسانوں کو گُم راہ کیا ھے تو جَنّات کے دوست انسانوں میں سے ایک دوست انسان کہے گا کہ پروردِگار ! ھم تو جب تک دُنیا میں ر ھے ہیں ایک دُوسرے کو فاٸدہ دینے میں لگے ر ھے ہیں اور آج جب تیرے وعدہِ حساب کے مطابق ھمارا یومِ حساب آیا ھے تو ھم تیرے سامنے حاضر ھوگۓ ہیں ، اللہ کہے گا اَب تُمہارا ٹھکانا جہنم ھے جس میں تُم نے ہمیشہ رہنا ھے ، یقین جانو کہ اُس روز اللہ کے عتاب سے وہی بَچ سکے گا جس کو اللہ خود بچاۓ گا کیوں کہ ہر تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ھو چکی ھے کہ اللہ تعالٰی اپنے علم و حکمت کے مطابق جس فرد کے حق میں یا جس فرد کے خلاف جو فیصلہ کرے گا وہی فیصلہ اُس فرد کے بارے میں اللہ کا سب سے بہتر فیصلہ ھوگا ، ھمارے کام کا تو یہی لگا بندھا اَنداز ھے کہ ھم ناانصاف لوگوں کو اُن کی ناانصافی کی بنا پر ایک ہی مَحشر میں جمع کرتے ہیں اور ایک ہی مَحشر میں اُن کا حشر نشر کر دیتے ہیں ، اے جِن و اِنس کی جماعتو ! کیا تُم میں تُمہارے اپنے جانے پہچانے لوگ ھمارے سفارت کار بن کر نہیں آتے ر ھے ہیں اور کیا وہ تُم کو اِس یومِ حساب و احتساب کے بارے میں کُچھ بھی نہیں بتاتے رھے جس کا آج تُم سامنا کر رھے ھو ، اگر وہ تُمہارے پاس آۓ ہیں تو اُنہوں نے تمہیں اِس یومِ حساب کے بارے میں کیوں کُچھ بھی نہیں بتا یا ، اللہ کے اِس سوال کا جن و اِنس کی اِن دونوں جماعتوں نے یہ جواب دیا کہ کہا ھم اِس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ دُنیا میں ھماری ہستی پر صرف دُنیا کی مَستی چھاٸ رہی ھے اور اِس اقرار سے اُن لوگوں نے اپنی فردِ جُرم پر اپنی ہی شہادتِ ذات قاٸم کردی !
🌹 رَبطِ اٰیات و مضمونِ اٰیات ! 🌹
عالَمِ حیات میں جِن و اِنس کی حیات خالقِ حیات کے قانونِ تَخلیق کا ایک تَخلیقی عمل ھے اور عالَمِ حیات میں جِن و اِنس کی حیات کا حساب و احتساب فاطرِ حیات کے قانونِ فطرت کا ایک فطری عمل ھے جو تخلیقِ حیات کے لَمحہِ اَوّل سے جس ترتیبِ حیات کے ساتھ شروع ھوا ھے وہ تَکمیلِ حیات کے لَمحہِ آخر تک اسی ترتیبِ حیات کے ساتھ جاری ر ھے گا ، اِس سُورت کی اٰیت 124 سے لے کر اٰیت 130 تک آنے والی 6 اٰیات میں جِن و انس کی اُس مُقررہ حیات پر آنے والے اسی مُقررہ حساب و احتساب کا ذکر ھوا ھے جو زمین کے جِن و اِنس پر اُس وقت سے چلا آرہا ھے جس وقت سے وہ جِن و اِنس کی صورت میں زمین پر موجُود ہیں اور اُس وقت تک چلتا رھے گا جب تک جِن و اِنس زمین پر موجُود رہیں گے ، جِن و اِنس کے اِس حساب اور احتساب کے لیۓ قُدرت نے اِن کے مُثبت و مَنفی اعمال کے مُقدمات کو سُننے اور اُن مقدمات پر اپنے مُنصفانہ فیصلے سُنانے کا جو دِن مُقرر کیا ھے قُرآن نے اُس کو یومِ مَحشر کا نام دیا ھے اور اُس یومِ مَحشر کا اِس سُورت کی قریبی اٰیات کے قریبی مضمون کے طور پر قُرآن نے پہلے اٰیت 124 میں مُجمل ذکر کیا ھے اور اِس کے بعد اٰیت 128 میں اُس کو ایک مُناسب تفصیل کے ساتھ بیان کیا ھے اور اِس کے بعد اٰیت 129 ، 130 میں اِس مقدمے میں آنے والے اُن شواھد کو بیان کیا ھے جن کی بنا پر جِن و اِنس کے جن اَفراد کو اُس یومِ مَحشر میں کوٸ سزا دی گٸ ھے ، جِن و اِنس کی حقیقت کیا ھے اور اِس حقیقت کے مطابق اِن دونوں میں جوہری فرق کیا ھے ، اِس پر ھم اِس مضمون کی گزشتہ سطُور میں بقدرِضرورت گفتگُو کر چکے ہیں اور چونکہ اٰیت 128 جِن و اِنس کے فرق اور اِن کے اِنجامِ زیست کے بارے میں قُرآن کی ایک فیصلہ کُن اٰیت ھے ، اِس لیۓ ھم جِن و اِنس کی اِس حکایتِ دوراں کی دیگر تفصیلات سے صرفِ نظر کرتے ھوۓ اِس اٰیت کے مَتن کی طرف بڑھتے ہیں اور اُن اُمور کا جاٸزہ لیتے ہیں جو جِن و اِنس کے بارے میں اِس اٰیت کے مَتن میں بیان ھوۓ ہیں !
🌹 مَتنِ اٰیات اور مفہُومِ اٰیت ! 🌹
سب سے پہلے تو اِس اٰیت کے حوالے سے ھم یہ بات کریں گے کہ قُرآن کی اِس اٰیت کے مطابق یومِ مَحشر وہی ایک آخری یومِ مَحشر نہیں ھے جو مُلا کے دماغ کے گُنبد میں ایک بے سَر کیل کی طرح اَٹکا ھوا ھے بلکہ قُرآن کی اِس اٰیت کی رُو سے حیات عالَم تو وہ مَحشر دَر مَحشر حیات ھے ، جس میں مَحشر کے یہ اَیّامِ حساب و احتساب ماضی کے زمان و مکان میں بھی آتے رھے ہیں ، حال کے زمان و مکان میں بھی آ رھے ہیں اور مُستقبل کے زمان و مکان میں بھی آتے رہیں گے ، اٰیت ھٰذا میں موضوعِ کلام کے مرکزی مضمون کے طور پر جس مَحشرِ رَفتہ کا ذکر ھوا ھے قُرآنِ کریم نے اُس مَحشر کے لیۓ اپنے اِس بیانیۓ میں فعل مضارع معروف کا صیغہ ”یحشر“ اِستعمال کیا ھے جو حال اور مُستقبل کے دونوں معنوں کا اِس طور سے حامل ھوتا ھے کہ اِس میں جو زمانہِ حال ھوتا ھے وہ ایک مُسلسل حال ھوتا ھے اور جو زمانہِ مُستقبل ھوتا ھے وہ بھی ایک مُسلسل مُستقبل ھوتا ھے اور اِس کا مقصدی و تفسیری ترجہ یہ ھوتا ھے کہ اللہ یومِ محشر میں جِن و اِنس کو جمع کر رہا ھے اور جمع کرے گا اور چونکہ زمانہ ایک مُسلسل عمل ھوتا ھے اِس لیۓ جِن و اِنس کی حیات سے گزرنے والا زمانہ حال اور جِن و اِنس کی حیات پر اُترنے والا زمانہِ مُستقبل ماضی میں بھی اسی طرح جِن و اِنس پر اُترتا اور اُترکر گزرتا رہا ھے اور زمان و مکان کے اِس تسلسل و تواتر کا مطلب یہ ھے کہ حسابِ حیات و احتسابِ حیات کے یہ اَیّامِ مَحشر جس طرح ماضی میں بھی آتے رھے ہیں ، اسی طرح حال میں بھی آرھے ہیں اور اسی طرح مُستقبل میں بھی آتے رہیں گے اور اِس فعل مضارع کے استعمال سے ھم نے جو علمی و مَنطقی استدلال کیا ھے اِس پر قُرآن کے اسی بیانیۓ میں دُوسری شہادت یہ ھے کہ قُرآن نے انعقادِ مَحشر کے بعد اِس مَحشر کے اِس مقدمے کی جو رُوداد پیش کی ھے اُس رُوداد میں اللہ نے تعالٰی نے مُجرمین مَحشر سے کیا گیا اپنا سوال بھی اپنے ایک قولِ ماضی” قال “ کے طور پر بیان کیا ھے اور مُجرمینِ مَحشر کے ایک نماٸندے کا جواب بھی ایک قولِ ماضی ” قال “ کے طور پر ہی بیان کیا ھے جس کا مطلب یہ ھے کہ مَحشر کی یہ عدالتِ عدل مُستقبل میں بھی ضرور آۓ گی لیکن اِس مقام جس مَحشر کا ذکر کیا جا رہا ھے وہ مَحشر ، مَحشرِ ماضی ھے اور اِس مَحشرِ ماضی کا یہ تذکرہ اِس بات کی دلیل ھے کہ اللہ کی عدالتِ انصاف ماضی میں بھی کُھلی تھی ، حال میں بھی کُھلی ھے اور مُستقبل میں بھی کُھلی رھے گی کیوں کہ اُس کے انصاف کا دَر کبھی بھی بند نہیں ھوتا !
🌹 یومِ مَحشر اور یومِ مَحشر کے فیصلے ! 🌹
اِس اٰیت کی تَمہیدِ کلام میں جِن و اِنس کے بارے ھم نے جو گُفتگُو کی ھے اُس میں بہت تفصیل سے ھم بتایا ھے کہ قُرآن کی قُرآنی لُغت میں ہر اُس چیز اور اُس مخلُوق کو جِن کہا گیا ھے جو دیکھتی آنکھ سے اَوجھل ھوتی ھے اور ہر اُس چیز اور ہر اُس مخلُوق کو اِنس کہا گیا ھے جو ہر دیکھتی آنکھ کو نظر آتی ھے اور ہر اُس چیز اور ہر اُس مخلُوق کو جِن کہا گیا ھے جو دیکھنے کے باوجُود بھی آنکھ کے قرینے میں نہیں آتی اور ھم نے یہ بات بھی بہت تفصیل سے بیان کی ھے کہ جِن و اِنس اپنی ساخت کے حوالے سے ایک ہی شاہی کے دو سپاہی ، ایک ہی مَخزن کے دو خزانے ، ایک ہی جسم کے دو پہلُو اور ایک ہی سِکّے کے دو رُخ ہیں اور اسی سلسلہِ کلام میں ھم نے یہ بھی بیان کیا ھے کہ رحمِ مادر میں پرورش پانے والے بچے کی پرورش کے دوران خُون و بلغم اور سَودا و صفرا کے جو اَخلاطِ اربعہ پیدا ھوتے ہیں اِن ہی اَخلاطِ اربعہ کی تخلیط سے وہ حیوانی رُوح بنتی ھے جو رحمِ مادر میں اُس مَلکُوتی رُوح کی آمد کا باعث ھوتی ھے جو مَلکُوتی رُوح حیوانی رُوح کے ساتھ جَذب و اِنجذاب اور وصال و اتصال کرتی ھے تو رحمِ مادر میں وہ انس تیار ھوتا ھے جس کو ھم انسان کہتے ہیں اور اِس تفصیل کے بعد ھم نے جِن کی پیداٸش کے حوالے سے یہ بھی بتایا ھے کہ رحمِ مادر میں اَخلاطِ اربعہ کی تخلیط سے پیدا ھونے والی رُوح اور اِس رُوح کے ساتھ فَلک سے آکر ملنے والی رُوح جب رحمِ مادر میں موجُود گوشت پوست اور خُون کے ایک مَلغوبے کو حرکت و عمل کا حامل بنا دیتی ھے تو اپنے اِس تجربے کے مطابق اور اللہ کی ایک عظیم مشیت کے تحت اپنے اِس عمل کا اعادہ کر کے اُس بچے کا ایک ڈُپلی کیٹ بھی تیار کر لیتی ھے جو پہلے بچے کے اُس دیدہ وجُود کے مقابلے میں ایک نادیدہ و جوُد ھوتا ھے اور وہ دُوسرا نادیدہ بچہ اپنے اسی نادیدہ وجُود کی وجہ سے جِن کہلاتا ھے ، اُس پہلے دیدہ اور اِس دُوسرے نادیدہ بچے کے مابین دیدگی و نادیدگی کے اِس ایک فرق کے سوا کوٸ دُوسرا فرق نہیں ھوتا !
🌹 جِِنّات اور اللہ کی مشیتِ ذات ! 🌹
اللہ تعالٰی کی جس عظیم مشیت کا ھم نے مَتنِ اٰیت کے مَفہُوم کے بعد جِن و اِنس کی دُوسری تفصیلات میں بھی ذکر کیا ھے ، اللہ تعالٰی کی اُس عظیم مشیت کی رُوداد مُحولہ بالا محشر میں پیش ھونے والے مُحولہ بالا مقدمے اور مُحولہ بالا مقدمے کے مُحولہ بالا فیصلے میں بھی موجُود ھے لیکن علماۓ مجوس نے اِس اٰیت کے اِس مقدمے اور اِس اٰیت کے اِس فیصلے کے جو مُبہم اور ناقابلِ فہم تراجم کیۓ ہیں ، اُن تراجم کا مولانا مودودی مرحوم نے یہ نماٸندہ ترجمہ کیا ھے کہ ” جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کر جمع کرے گا ، اس روز وہ جنوں سے خطاب کر کے فرماۓ گا کہ اے گروہِ جن ! تُم نے تو نوعِ انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا ، انسانوں میں سے جو ان کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے پروردگار ! ھم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خوب استعمال کیا ھے اور اَب ھم اُس وقت پر آپہنچے ہیں جو تونے ہمارے لیۓ مقرر کردیا تھا ، اللہ فرماۓ گا اچھا اَب آگ تمہارا ٹھکانا ھے “ مولانا مودودی مرحوم نے بہت خوب ترجمہ کیا ھے مگر سوال یہ ھے کہ اِس ترجمے کا مطلب کیا ھے ، اِس سے کیا ثابت کیا گیا ھے اور اِس سے کیا ثابت ھوا ھے ? صرف یہ کہ اُس روز اللہ کی یہ مَحشر ایک ایسی بے خوف اور بے نظم مَحشر ھوگی کہ جس میں اللہ سوال تو جِنّات سے کرے گا لیکن اللہ کو جواب جِنّات کے بجاۓ وہ انسان دیں گے جن کو اللہ نے اپنے اِس خطاب میں مخاطب ہی نہیں کیا ھوگا اور جب وہ مُنہ پَھٹ انسان اللہ کو جواب دیں گے تو باہَم مل کر ایک Chorus کی صورت میں جواب دیں گے حالانکہ اٰیت کے مَتن میں اللہ نے صرف ایک انسان کے بولنے کا ذکر کیا ھے لیکن اِن عجمی تراجم کے بر عکس ھم نے اِس اٰیت کا جو مفہوم پیش کیا ھے اُس مفہوم کے مطابق نہ تو اللہ نے جِنّات سے کوٸ سوال کیا ھے اور نہ ہی جِنات نے اللہ کو کوٸ جواب دیا ھے بلکہ صورتِ واقعہ صرف یہ ھوٸ ھے کہ اللہ نے جِنّات کو آگاہ کیا ھے کہ تُم نے دُنیا میں متعدد انسانوں کو گُم راہ کیا ھے اور اُن جِنّات ہی کے ایک نماٸندے نے اپنی انسانی صورت کے ساتھ اللہ کے سامنے اللہ کے بیان کی تصدیق کی ھے جس کے بعد اللہ نے اُس جماعت کو یہ حُکم دیا ھے کہ اَب تُمہارا ٹھکانا جہنم ھے ، مَطلب یہ ھے کہ اِس سے پہلے ھم نے تُم کو ایک خاص مقصد کے تحت انسان کے جسم و جان کو اپنا ٹھکانا بنانے کا حُکم دیا تھا اور آج بھی ھماری طرف سے تُم کو ایک ایسے ہی خاص مقصد کے تحت جہنم کو اپنا ٹھکانا بنانے کا حُکم دیا جا رہا ھے ، اللہ کے اِس حُکم میں سزا کا کوٸ شاٸبہ بھی نہیں ھے بلکہ اللہ کے اِس حُکم میں صرف یہ ھے کہ اِس مَحشر کے برپا ھونے سے پہلے تُم اپنے ناری بَدن کے ساتھ انسان کے خاکی بدن میں رہ کر کام کیا کرتے تھے تو اَب تُم نے اپنے ناری جسم کے ساتھ اہلِ جہنم کے ناری جسم میں رہ کر کام کرنا ھے ، اللہ نے اِن کے کام کا مرکز اور مقام ضرور بدلا ھے لیکن اِن کا کام ہر گز نہیں بدلا ، جہاں تک اللہ کی عظیم حکمت و مشیت کا تعلق ھے تو وہ اِس کے سوا اور کیا ھو سکتی ھے کہ اُس نے اِس یومِ محشر میں ایک طرف اپنی ایک باصلاحیت اور اِمتحانِ جان سے گزرنے والی خاکی مَخلُوق کو جنت میں جگہ دی ھے اور دُوسری طرف اپنی ناری مخلُوق کو بھی اُس مقامِ نار میں بھیج دیا ھے جس مقامِ نار میں اُس کا ناری جسم اسی طرح جَلنے سے محفوظ و مامون رھے گا جس طرح دُنیا میں انسان کا خاکی جسم اُس کے ناری جسم کے ساتھ رہ کر جَلنے سے محفوظ و مامون رہا ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے