Home / اسلام / جِنّات کی حقیقت اور جِنّات کے اَفسانے !! 🌹 { 5

جِنّات کی حقیقت اور جِنّات کے اَفسانے !! 🌹 { 5

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَنعام ، اٰیت 128 🌹
جِنّات کی حقیقت اور جِنّات کے اَفسانے !! 🌹 { 5 } 🌹 ازقلم 🌷🌷اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیت و مفہُومِ اٰیت ! 🌹
🌹 ویوم
یحشرھم جمیعا
یٰمعشرالجن قد استکبرتم
من الانس وقال اولیٰٸھم من الانس
ربنا استمتع بعضنا ببعض وبلغنا اجلنا الذی
اجلت لنا قال النار مثوٰکم خٰلدین فیھا الا ماشا ٕ
اللہ ان ربک حکیم علیم 128
روزِ مَحشر میں جب اللہ جِنّات کے بڑے مُجرموں کو جمع کرکے بتاۓ گا کہ تُم نے دُنیا میں مُتعدد انسانوں کو گُم راہ کیا ھے تو جِنّات کے دوست انسانوں میں سے ایک دوست انسان کہے گا کہ پروردِگار ! ھم تو جب تک دُنیا میں ر ھے ہیں ایک دُوسرے کو فاٸدہ دینے میں لگے رھے ہیں اور آج جب تیرے وعدہِ حساب کے مطابق ھمارا یومِ حساب آیا ھے تو ھم تیرے سامنے حاضر ھوگۓ ہیں ، اللہ کہے گا کہ اَب تُمہارا ٹھکانا جہنم ھے جس میں تُم نے ہمیشہ رہنا ھے ، یقین جانو کہ اُس روز اللہ کے عتاب سے وہی بَچ سکے گا جس کو اللہ خود بچاۓ گا کیوں کہ ہر تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ھو چکی ھے کہ اللہ تعالٰی اپنے علم و حکمت کے مطابق جس فرد کے حق میں یا جس فرد کے خلاف جو فیصلہ کرے گا وہی فیصلہ اُس فرد کے بارے میں اللہ کا سب سے بہتر فیصلہ ھوگا !
🌹 جِن و اِنس کی تخلیق ! 🌹
اٰیتِ بالا کے زیرِ بحث مضامین کی زیر بحث سطُور میں اَب تک جو اُمور اُجاگر ھوۓ ہیں اور اُن اُمور میں جو اَمر سب سے زیادہ نُمایاں رہا ھے وہ جِن و اِنس کی دو مُختلف اَنواع کا ایک دُوسرے کے ساتھ اَضدادِ مُتصل ھونا ھے اور اِن اَنواع کے اَضدادِ مُتصل ھونے سے مُراد یہ ھے کہ یہ دونوں اَنواع ایک ہی ایک شاہی کے دو سپاہی ، ایک ہی مَخزن کے دو خزانے ، ایک ہی پوست کے دو پَرت ، ایک ہی شاخ کے دو پَتے ، ایک ہی شجر کے دو پَھل ، ایک ہی رَتی کے دو رَنگ ، ایک ہی جسم کے دو پہلُو اور یا پھر ایک ہی سِکّے کے دو رُخ ہیں لیکن جِن و اِنس کی اِن اَضدادِ مُتصل میں سے صرف انسان ہی وہ ہستی ھے جو انسان کے سامنے پیدا ھوتی ھے ، انسان کے سامنے جوان ھوتی ھے ، انسان کے سامنے شادی کرتی ھے ، انسان کے سامنے بچے پیدا کرتی ھے اور انسان کے سامنے ہی زندگی کی شاخ میں اپنے حصے کے گُل بُوٹے لگا کر دُنیا سے رخصت ھو جاتی ھے ، اِس لیۓ انسان ، انسان کے پیدا ھونے اور پیدا ھونے کے بعد اُس کے جینے مَرنے کے سارے زمان و مکان کو جانتا ھے لیکن جہاں تک جِن کی پیداٸش کا تعلق ھے تو انسان اپنے اِس ہَم نفس و ہَم جان جِن کی پیداٸش کے بارے میں اِس کے سوا کُچھ بھی نہیں جانتا کہ مُحدثینِ عجم کی بعض روایات کے مطابق جِنّات انسان کے ساتھ پیدا ھوتے ہیں مگر اپنی طویل العُمری کے باعث انسان کے مرنے کے بعد بھی صدیوں تک زندہ رہتے ہیں مگر محدثنِ عجم نے جِنّات کی اِس پیداٸش و موت اور اُن کی اِس طویل العُمری کے بارے میں کوٸ علمی دلیل نہیں دی ھے ، وجہ ظاہر ھے کہ دُنیا میں آج تک قُرآن کی لَفظی صحت و درُستی کے علاوہ جس انسان نے جس مادی یا رُوحانی چیز کے بارے میں جو کُچھ بھی کہا ھے وہ اپنے عقلی و فکری اندازے سے کہا ھے اور جہاں تک مَحض عقلی و فکری اَندازوں کا تعلق ھے تو ھم یہ بات بہت تفصیل کے ساتھ عرض کر چکے ہیں کہ مادے سے بنی اِس مادی کاٸنات میں مادے کے مُفرد عنصر سے خود سے خود میں جذب ھو کر ظاہر ھونے والا جمادات کا ہمالہ و کے ٹو کا جو بے حس و بے رادہ وجود بنتا ھے اُس پُر شکوہ وجُود میں بھی ایک مُجرد بلند و بالا مادے سے زیادہ کُچھ نہیں ھوتا ، مادے کے دو عناصر Hydrogen اور Oxygen کے جذبِ باہَم سے پانی کی جو صورت ظاہر ھوتی ھے ، پانی کی اُس صورت میں بھی مادے کے دو عناصر سے بننے والے ایک تیسرے عنصر پانی سے زیادہ کُچھ بھی نہیں ھوتا اور مادے کے تین عناصر Hydrogen ، Oxygen اور Carbon سے نباتات کا جو وجُود بنتا ھے ، نباتات کے اُس وجُود میں بھی مُتحرک مادے سے بڑھ کر کوٸ اضافی چیز موجود نہیں ھوتی لیکن مادے کے چار عناصر Hydrogen ، Oxygen ، Carbon اور Nitrgen کے جذبِ باہَم سے حرکت و حرارت کا حامل جو جان دار اور بااختیا وجُود جنَم لیتا ھے وہ آواز سُنتا ھے ، وہ آواز سُناتا ھے ، وہ محبت کرتا اور نفرت بھی کرتا ھے ، وہ پیار بھی کرتا ھے اور تکرار بھی کرتا ھے ، وہ بُو بھی سونگھتا ھے اور لَمس بھی محسوس کرتا ھے ، وہ بُھوک اور پیاس بھی پریشان ھوتا ھے اور سردی و گرمی سے بھی مُتاثر ھوتا ھے اور چار عناصر سے بننے والا یہ جان دار جب رحمِ مادر میں پہلی بار پہلی سانس لیتا ھے تو اِس کی پہلی سانس لیتے ہی اِس کے مَلغوبہِ جسم میں خُون ، بلغم ، سودا اور صفرا کے وہ چار نۓ عناصر بنتے ہیں جن سے رحمِ مادر میں نِسمہ نام کا وہ جوہرِ بسیط پیدا ھو جاتا ھے جو دَر حقیقت ایک حیوانی رُوح ھوتا ھے ، کُچھ دِن بعد جب رحمِ مادر میں جنین کے ساتھ رہ کر یہ حیوانی رُوح توانا ھو جاتی ھے تو اِس حیوانی رُوح میں ایک اور مَلکُوتی رُوح آتی ھے اور پھر اِس حیوانی و مَلکُوتی رُوح کے اِتحادِ باہَم سے وہ صلاحیت کار جان دار پیدا ھوتا ھے جس کو انسان کہا جاتا ھے ، رحمِ مادر میں جب اِس نۓ انسان کا ایک نیا وجُود بَن جاتا ھے اور وہ حیوانی و مَلکُوتی رُوح اپنے وصال و اتصال سے اِس انسانی وجُود کو بنتا ھوا دیکھنے کے علاوہ اِس کے بننے میں اپنی آمد کے تخلیقی نتاٸج کو بھی سمجھ جاتی ھے تو فَلک سے آنے والی وہ مَلکُوتی رُوح اللہ کی ایک عظیم مشیت کے تحت انسان کے جسم میں پیدا ھونے والی اُس حیوانی رُوح کے ساتھ مل کر اپنے جذب و اِتحاد اور اپنے وصال و اِتصال سے رحمِ مادر میں تیار ھونے والے اُس انسان کے بچے کی طرح اُسی بچے کی صورت پر اُسی بچے کا ایک ڈپلی کیٹ بناتی ھے جو اُس مادے کے چار عناصر سے بننے والے مادی وجُود سے ایک بلند تَر رُوحانی وجُود ھوتا ھے اور پھر جب انسان کا وہ مادی وجُود رحمِ مادر سے نکل کر زمین پر آتا ھے تو انسان کا وہ رُوحانی وجُود بھی زمین پر آجاتا ھے ، اِن دیدہ و نادیدہ مادی و رُوحانی بچوں میں سے جو بچہ ھماری توجہ کا طلب گار ھوتا ھے اور وہ ھماری نگاہ میں آتا ھے تو ھم اُس کو اِنس کہتے ہیں اور جو روحانی بچہ ھماری توجہ کا محتاج نہیں ھوتا اور وہ رُوحانی بچہ ھماری نظر سے ماورا ھو کر رہتا ھے تو ھم اُس کو جِن کہتے ہیں ، اِنسان کے بچے کے ساتھ پیدا ھونے والا یہی وہ جِن کا بچہ ھوتا ھے جو مادے اور مادی وجُود میں ایک وجُود بَن کر اُترنے ، انسانی نگاہ میں نُورِ نگاہ بن کر آنے اور انسانی نگاہ کی تاریکی میں تاریکی بن کر چُھپ جانے ، انسانی خیال میں خیال بَن کر آنے اور انسانی خُون میں خُون بَن کر دوڑنے کی صلاحیت رکھتا ھے !
🌹 جِنّات اور تاریخِ جِنّات ! 🌹
انسان کی عقلی و نقلی اور حقیقی و افسانوی حکایات و روایات کے مطابق انسان کا جو بچہ اِس جِنّی بچے کے ساتھ پیدا ھوتا ھے اُس کی عُمر چند ماہ و سال ھوتی ھے اور جو جِنّی بچہ اِس انسانی بچے کے ساتھ دُنیا میں آتا ھے اُس کی عُمر کٸ سو سال یا کٸ ہزار سال تک ھوتی ھے اِس لیۓ زمین پر ہمیشہ ہی جِنّات کی نَسل ایک اکثریتی مخلُوق کے طور پر اور انسان کی نَسل ایک اقلیتی مخلُوق طور پر زندہ رہتی ھے ، جِن و اِنس کے زمین پر ایک وقت میں پیداھونے اور جِنات کے مُختلف وقتوں میں مرنے یا نہ مرنے کا اِمکان بھی موجُود رہتا ھے لیکن یہ بات طے ھے کہ زمین پر انسانی کی کہانی میں جِنّات کی کہانی تَب سے موجُود ھے جب سے انسان زمین پر موجُود ھے اور انسان کب سے زمین پر موجُود ھے یہ 6 ہزار سال کی بات نہیں ھے بلکہ کٸ ہزار سال یا شاید کٸ لاکھ سال کی بات ھے ، انسان نے انسان کا ابتداٸ سراغ لگانے کے لیۓ جو جان کاری کی ھے اُس کے نتیجے میں اِس کو اپنی پہلی بے نظم سی سوساٸٹی تین ہزار سال قبل مسیح میں دکھاٸ دی ھے ، پہلا مُکمل انسان ایک لاکھ پچاس ہزار سال قبل مسیح میں ملا ھے اور پہلا انسانی خاکہ Homospine تین لاکھ سال پہلے نظر آیا ھے ، انسان نے اپنے علمِ حاصل کے بَل بوتے پر انسانی سر کی ساخت ، چہرے کی بناوٹ ، ہونٹوں کی گولاٸ ، آنکھ کی رنگت ، ناک کے نقشے اور بالوں کے اَنداز سے اپنی علاقاٸ نسلوں اور اِن نَسلوں کی پسند و نا پسند کا فیصلہ بھی صادر کر دیا ھے لیکن انسان تاحال یہ جاننے سے قاصر رہا ھے کہ وہ زمین پر کب اور کیسے آیا ھے تاہَم قُرآنِ کریم ایک قطعیت کے ساتھ اُس زمانے کی نشان دہی کرتا ھے جب انسان زمین پر نمُودار ھوا اور اسی طرح قُرآن اسی قطعیت کے ساتھ اُس زمانے کی بھی نشان دہی کرتا ھے جب زمین پر اِنسان کی پہلی غیر مُنظم اور بے ترتیب سی حرکت و عمل کا آغاز ھوا ، اِس کے پہلے دور کی مثال وہ ھے جس کی قُرآنِ کریم نے سُورةالاَسرا ٕ کی اٰیت 49 سے اٰیت 51 کی تین اٰیات میں پُوری تاریخ بیان کردی ھے اور قُرآن نے اپنے اِس تاریخی بیان میں کہا ھے کہ وقالوا ٕ اذا کنا عظاما و رفاتا ٕ انالمبعوثون خلقا جدیدا 49 قل کونوا حجارة او حدیدا 50 اوخلقا مما یکبر فی صدورکم فسیقولون من یعیدنا قل الذی فطرکم اوّل مرة فسینغضون الیک ر ٶسھم ویقولون متٰی ھو قل عسٰی ان یکون قریبا 51 ، یعنی اُن لوگوں نے کہا کہ جب ھماری ہستیاں اور ہڈیاں خاک ھو جاٸیں گی تو اِس حال میں بَھلا ہمیں کس طر ح حیاتِ نَو دے دی جاۓ گی ? آپ اِن سے کہیں کہ تُم پَتھر ، لَوھا یا اپنے خیال کے مطابق اِس سے بھی زیادہ بعید اَز حیات اَشیا ٕ میں ڈھل جاٶ ، تَب بھی ایسا ھو کر ر ھے گا ، جب آپ اُن سے یہ کہیں گے تو تَب آپ سے وہ یہ بھی ضرُور پُوچھیں گے کہ وہ کون ھے جو ہمیں نیست سے ہَست کرے گا ، تَب آپ اُن سے کہنا کہ وہ وہی اللہ ھے جس نے پہلی بار تمہیں پیدا کیا ھے ، اِس پر وہ لوگ اپنے سر ہلا ہلا کر کہیں گے کہ اَچھا اَب یہ بھی بتادو کہ یہ سَب کب ھو گا ، آپ اُن سے کہیں کہ عجب نہیں ھے کہ وہ لَمحہِ تجدید تُمہارے اَندازے سے بھی زیادہ قریب تَر ھو ، قُرآنِ کریم کا یہ تاریخی بیان کسی فرضی خیال کی ایک فرضی مثال نہیں ھے بلکہ انسانی تاریخ کے ایک حقیقی دور کی ایک حقیقی داستان ھے ، انسان کے اِس حَجری دور کے بعد اِس شجری دور میں انسان کی حرکت و عمل کی مثال سُورہِ نُوح کی اٰیت 17 ھے ، جس میں یہ بتایا گیا ھے کہ ” واللہ انبتکم من الارض نباتا “ یعنی اللہ نے تمہیں زمین کے اُگانے کے زمانے میں زمین سے اُگایا ھے !
🌹 انسان کی نامیاتی حیات ! 🌹
زمین پر انسان کے ظہور کا پہلا زمانہ 20 کروڑ سال قبل کا وہ زمانہ ھے جب زمین کے پہاڑ اپنے دَل دَلی دور میں تھے ، جو چیز اُن کی دَلدَل میں آتی تھی پَتھر بن جاتی تھی اور جو چیز کسی لاوے کی زَد میں آتی تھی وہ لَوھے میں ڈَھل کر لَوھا بن جاتی تھی ، زمین پر انسان کا دُوسرا مُمکنہ دور وہ دور ھے جب زمین پر نباتی نمُو کی بہار آٸ تو انسان نے بھی اِس سے قُوتِ نمُو پاٸ ، زمین پر نامیاتی حیات اور نباتی نَمُو کے جو دو دور گزرے ہیں ، اُن میں پہلا دور وہ ھے جو 20 کروڑ سال قبل گزرا ھے اور ساٸنس کی زبان میں اُس دور کو ضیاٸ تالیف Photosynthesis کا دور کہا جاتا ھے ، یہ وہ دور ھے جب زمین ٹَھنڈی ھوٸ تو زمین کے نَم اور سُورج کی روشنی سے ایک نامیاتی حیات وجود میں آٸ اور دُوسرا دور 9 کروڑسال پہلے کا وہ دور ھے جب زمین کا گولہ شدید زلزلوں کے زور سے ٹُوٹ کر ٹُکڑوں میں تقسیم ھوا اور زمین کے ان حصوں پر نبات کی حیاتِ نَو نے نَمُوۓ نَو حاصل کی ، ھم یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ انسان زمین پر مُختصر مُدت تک جیتا ھے اور مُختصر مُدت تک رہتا ھے لیکن جِنات طویل زمانوں تک زمین پر رہتے ہیں ، اِس صورت حال کو ذھن میں رکھ کر ایک لَمحے کے لیۓ سوچیۓ کہ جب زمین اُس توڑ پھوڑ کا شکار تھی جس کا ذکر ھوا ھے اور جب انسان ایک کم زور اور ناتواں ہستی کے طور پر زمین میں آیا تھا تو اپنی حیات کے طویل زمانٕے تک کبھی دَلدَلوں میں پَھنس کر پتھر بنتا رہا تھا اور کبھی زمین کے لاوے میں گِھر کر لَوھے میں بدلتا رہا تھا تو اُس وقت زمین پر جِنّات کتنی کثیر تعداد میں موجُود ھوں گے ، عجب نہیں کہ یہی وہی دَور ھو جب انسانی نَسل کو ڈاٸنا سور کی نَسل کی طرح فنا ھونے سے بچانے کے لیۓ اللہ تعالٰی نے آدم کو زمین کے ایک خطے اور ایک خاص ماحول میں رکھ کر اپنا وہ خلیفہ بنانے کا فیصلہ کیا ھو جو اپنی نَسل میں انسانی خلفا کی ایک نٸ نسل چلاۓ اور اُس کی نَسل میں پیدا ھونے والا ہر خلیفہ مرنے سے پہلے زمین میں اپنے اِتنے خلف الرشید ضرُور بناۓ کہ اُس کی نَسلی خلافت کا یہ سلسلہ جِنّات کے مقابلے میں ترقی کر جاۓ اور جِنّات کی نَسلی خلافت زمین میں محدُود سے محدُود تر ھو جاۓ !!!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے