Home / اسلام / جِنّات کی حقیقت اور جِنّات کے اَفسانے !! 🌹 { 3

جِنّات کی حقیقت اور جِنّات کے اَفسانے !! 🌹 { 3

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَنعام ،اٰیت 128 🌹
جِنّات کی حقیقت اور جِنّات کے اَفسانے !! 🌹 { 3 } 🌹
ازقلم 🌷🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیات و مفہُومِ اٰیت ! 🌹
🌹 ویوم
یحشرھم جمیعا
یٰمعشرالجن قد استکبرتم
من الانس وقال اولیُھم من الانس
ربنا استمتع بعضنا ببعض وبلغنا اجلنا الذی
اجلت لنا قال النار مثوٰکم خٰلدین فیھا الّا ماشا ٕ
اللہ ان ربک حکیم علیم 128
روزِ مَحشر میں جب اللہ جِنّات کے بڑے مُجرموں کو جمع کرکے بتاۓ گا کہ تُم نے دُنیا میں مُتعدد انسانوں کو گُم راہ کیا ھے تو جِنّات کے دوست انسانوں میں سے ایک دوست انسان کہے گا کہ پروردِگار ! ھم تو جب تک دُنیا میں ر ھے ہیں ایک دُوسرے کو فاٸدہ دینے میں لگے ر ھے ہیں اور آج جب تیرے وعدہِ حساب کے مطابق ھمارا یومِ حساب آیا ھے تو ھم تیرے سامنے حاضر ھو گۓ ہیں ، اللہ کہے گا کہ اَب تُمہارا ٹھکانا جہنم ھے جس میں تُم نے ہمیشہ رہنا ھے ، یقین جانو کہ اُس روز اللہ کے عتاب سے وہی بَچ سکے گا جس کو اللہ خود بچاۓ گا کیوں کہ ہر تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ھو چکی ھے کہ اللہ تعالٰی اپنے علم و حکمت کے مطابق جس فَرد کے حق میں یا جس فَرد کے خلاف جو فیصلہ کرے گا وہی فیصلہ اُس فَرد کے بارے میں اللہ کا سب سے بہتر فیصلہ ھو گا !
🌹 قُرآن اور تَذکرہِ جِنّات ! 🌹
اٰیتِ بالا کے تحت تحریر کیۓ گۓ گزشتہ اور گزشتہ سے پیوستہ دو مضامین میں ھم نے تَمہیدِ کلام کے طور پر اپنی جو معروضات پیش کی تھیں اُن معروضات میں ھم نے عرض کیا تھا کہ جِن اِنس کی ضِد ھے اور اِنس جِن کی ضِد ھے ، جس طرح بحر و بر ، شاخ و شجر ، بہار و گُل اور نَغمہ و بُلبُل کی پیڑھی ایک دُوسرے کے ساتھ باہَم ملی ھوٸ ھے اسی طرح جن و اِنس کی سیڑھی بھی ایک دُوسرے کے ساتھ باہَم ملی ھوٸ ھے لیکن آگے بڑھنے سے پہلے اسی پہلے مقام پر ہی یہ بات بھی ذھن نشین کر لیجٸے کہ جس طرح جِن و اِنس ایک دُوسرے کی اَضدادِ مُتصل ہیں اسی طرح ابلیس و شیطان بھی ایک دُوسرے کی اَضدادِ مُتصل ہیں ، یعنی جو فتنہ پرور وجُود جن کی نسل میں پیدا ھوا ھے وہی ابلیس کہلایا ھے اور جو فتنہ پرور وجُود انسان کی نَسل میں ظاہر ھوا ھے وہی شیطان قرار پایا ھے ، علمی اعتبار سے بظاہر انسان جو حق کا نماٸندہ ھے وہ زمان و مکان کے ایک حصے میں جِن کے طور پر موجُود ھے اور دُوسرے حصے میں انسان کی صورت میں ظاہر ھوا ھے ، اسی طرح ابلیس جو باطل کا نماٸندہ ھے وہ زمان و مکان کے ایک حصے میں ابلیس کے طور پر موجُود ھے اور دُوسرے حصے میں شیطان کی صورت میں ظاہر ھوا ھے ، کاٸنات میں یہی چار اَضدادِ مُتصل ہیں جن کے مابین اپنی اپنی بقا ، اپنے اپنے ارتقا ٕ اور اپنے اِرتفاع کی جنگ جاری ھے لیکن اِن چار اَضدادِ مُتصل کو جاننے اور سمجھنے سے پہلے اِس اَمر کا جاننا لازم ھے کہ قُرآنِ کریم کی سُورةُالاَحقاف کی اٰیات 29 ، 30 ، 31 اور 32 کے مطابق جِنّات کا زمان و مکان میں موجُود ھونا اور ایک خاص زمان و مکان میں اِن کی ایک جماعت کا سیدنا مُحمد علیہ السلام سے قُرآن سُننا اور قُرآن پر ایمان لانا ایک ثابت شُدہ حقیقت ھے ، اِس لیۓ جِن و اِنس اور ابلیس و شیطان کی اِن اَنواع کی حقیقت کو جاننے سے پہلے جنّات کے بارے میں قُرآنِ کریم کے اِس تاریخی بیان کو سمجھ لیا جاۓ جس میں یہ فرمایا گیا ھے کہ :- واذ صرنا الیک نفرا من الجن یستمعون القرآن فلماحضرواہ قالواانصتوا فلما قضی ولّواالٰی قومھم مُنذرون 29 قالوا یٰقومنا انا سمعنا کتٰبا انزل من بعد موسٰی مصدقالما بین یدیہ یھدی الٰی الحق والٰی طریق مستقیم 30 یٰقومنا اجیبوا داعی اللہ واٰمنوا بہ یغفرلکم من ذنوبکم ویجرکم من عذاب الیم 31 ومن لایجب داعی اللہ فلیس بمعجزفی الارض ولیس لہ من دونہ اولیا ٕ اولٰٸک فی ضلٰل مبین 32 ، یعنی اے ھمارے رسول ! آپ ذرا زمان و مکان کے اُس دورانیۓ کو تو ذھن میں لاٸیے کہ جب جِنّات کی ایک جماعت کو ھم گُھما پھرا کر آپ کی طرف لے آۓ تھے تاکہ جِنّات کی وہ جماعت آپ سے قُرآن سُنے ، جب وہ جماعت آپُہنچی تو اُن میں سے ایک جِن نے اپنے ساتھی جنوں سے کہا کہ خاموش ھو کر قُرآن سنو اور پھر جب آپ کی تلاوت مُکمل ھوگٸ تو اُس با خبر جماعت نے اپنی قوم میں جا کر کہا ھم نے ایک کتاب سُنی ھے جو مُوسٰی کے بعد نازل ھوٸ ھے ، یہ کتاب پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ھے اور ایسی راہ کی طرف بُلاتی ھے جو بالکُل سیدھی ھے ، سو اے ھمارے اَفرادِ قوم ! تُم بھی اُس خُدا کی پُکار کا اقرار کر کے ایمان دار بن جاٶ ، تُمہاری سر کشی دَب جاۓ گی اور تُمہاری سزا ٹل جاۓ گی لیکن تُم میں سے جو کوٸ اِس آوازہِ حق پر کان نہ دھرے گا وہ زمین میں کسی کو عاجز یا دوست نہیں بناۓ گا بلکہ خود ہی زمین میں بَہٹک کر رہ جاۓ گا ، قُرآنِ کریم نے اِن اٰیات میں جس واقعے کا ذکر کیا ھے وہ غالبا ایک ہی واقعہ ھے جو پہلے سیدنا محمد علیہ السلام کو سُنایا گیا ھے اور بعدازاں سُورہِ جن میں بھی وہی واقعہ آپ کو اُمت کے گوش گزار کرنے کا حکم دیا گیا ھے ، قُرآنِ کریم کے بیان کیۓ ھوۓ اِس تاریخی واقعے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح روشن ھو کر سامنے آجاتی ھے کہ جِنات کا وجُود کاٸنات میں وجُودِ کاٸنات کی طرح اور وجُودِ کاٸنات میں کاٸنات کے روز و شَب اور روز و شَب کے موسموں کی طرح ایک زندہ و موجُود حقیقت ھے ، جِنات کا انکار کاٸنات کی حقیقت کا انکار ، عناصرِ کاٸنات کی حقیقت بلکہ اپنی حقیقتِ ذات کا انکار ھے کیونکہ حقیقت کے اعتبار سے تو اِنسان کی ذاتِ جِن کی پہلی صورت ھے اور جِن کی ذات انسان کی دُوسری تصویر ھے تاہَم جِن کی اِس پہلی صورت کا نقش اور انسان کی اِس دُوسری تصویر کا نقشہ آنے والی سطُور میں آرہا ھے !
🌹 جِنّات ایک زاویہ دَر زاویہ ذات ! 🌹
ہیگل 1770 ، 1831 عیسوی ، کارل مارکس 18 18 ، 1883 عیسوی اور دُوسرے بہت سے مفکرین نے کاٸنات کے قانونِ تغیر کو اسی اَضدادِ مُتصل سے واضح کیا ھے جس کا سطُورِ بالا میں ھم نے ذکر کیا ھے اور ساٸنس کا نظریہ ارتقا ٕ بھی اسی کی تاٸید کرتا ھے ، عُلماۓ فلاسفہ کہتے ہیں کہ کاٸنات کے ہر اِثبات میں اُس کی نفی موجود ھوتی ھے اور کاٸنات کی ہر نفی میں اُس کا اِثبات موجُود ھوتا ھے اور کاٸنات میں اَشیاۓ کاٸنات کی اِسی نفی اور اسی اِثبات کے تصادم سے حقیقت کا وہ رُوۓ زیبا ظاہر ھوتا ھے جو دو مادوں کے ملاپ یا دو اَشیا ٕ کے ٹکراٶ سے ایک تیسرا وجُود لےکر ظاہر ھوتا ھے ، عقل و منطق کے اسی قاعدے کے مطابق کمان اپنے وجُود میں ڈُوب کر اُبھرتی ھے تو تیر اِس کے داخلی تناٶ کے باعث نشانے سے نشانے تک پُہنچتا ھے ، مادی کاٸنات میں انسان اور جن بھی ارتقا کرنے والی ایک ہی ہستی کے دو پر تَو اور ایک ہی ذات کے دو زاویۓ ہیں اور اِنہی کے داخلی ٹکراٶ سے وہ وجُود جنم لیتا ھے جس کا نام شیطان ھے ، اِس اَمر کی تفصیل یہ ھے کہ لازمان Timelesnes ، زمان Time اور مکان Space پر مُشتمل ھے ، یہ تینوں جہان ایک دُوسرے کے ساتھ جُڑے ھوۓ ہیں ، لازمان مقامِ تخلیق Creation ھے جہاں مُجرد مادہ قُدرت کے حُکمِ کُن سے فیکون ھوتا ھے ، زمان مقامِ ترکیب C0mposition ھے جس میں مادہ اپنے عناصر میں جذب ھو کر نۓ سے نۓ سانچوں میں ڈھلتا ھے اور مکان مقامِ تعمیر Constriction ھے جس میں نر و مادہ کے اتصال سے حیات کے لیۓ جسموں کے نۓ لباس بَنتے ہیں ، اِس تَخلیق ، تَحریث اور تَزویج کی بُنیاد محبت ھے اور یہ محبت ہی مادے کی وہ رُوح ھے جو مادے کو لازمان سے زمان میں لاتی ھے اور مکان میں پروان چڑھاتی ھے ، اسی سے انسان و حیوان وجُود میں آتے ہیں اور اسی سے سارے وجُود ، وجُود دَر وجُود ھو کر ایک نۓ سے نیا وجُود پاتے ہیں ، اسی سے روز و شَب باہَم جذب و جُدا ھوتے ہیں اور اسی سے موت حیات سے بار بار مل کر بچھڑتی ھے اور بار بار بچھڑ کر ملتی ھے ، مادہ محبت ہی کا ایک جوہر ھے جس کے ہر عنصر کی ایک صورت ھے اور ہر صورت میں محبت ہی کی ایک پوشیدہ قُوت ھے جو مادے کے کسی عنصر کو خود میں جذب کر کے یا خود اُس میں جذب ھو کر ایک نٸ صورت اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ھے جس طرح کہ مقناطیس لوھے میں جذب ھو کر لوھا بنتا ھے اور لوھے کو خود میں جذب کر کے مقناطیس بنا دیتا ھے ، مادہ مُفرد ھو یا مُرکب ، دونوں صورتوں میں ارتقا ٕ کرتا ھے لیکن دونوں صورتوں کا طریقہِ ارتقإ مُختلف ھوتا ھے ، مُفرد مادہ خود کو خود میں جذب کرکے ہمالہ اور کے ٹو جیسی پُرشکوہ صورتوں میں ظاہر ھوتا ھے لیکن مادے کا یہ مُفرد عنصر ایک بے حس ، بے ارادہ اور جامد عنصر ھے جو مادے ہی کی ایک صورت ھے ، مادے سے بڑھ کر کوٸ دُوسری چیز اِس میں موجُود نہیں ھے ، مادے کے دو عناصر Hydrogen اور Oxygen کے جذبِ باہَم سے پانی کی صورت ظاہر ھوتی ھے ، پانی خود میں جذب ھوتا ھے ، اپنے جیسی دُوسری چیزوں میں خود میں جذب ھو تا ھے اور اپنے جیسی دُوسری چیزوں کو خود میں جذب کرتا ھے ، اِس میں بہاٶ اور جماٶ کی صلاحیت ھوتی ھے لیکن اِس میں بھی مادے سے زاٸد کوٸ اور چیز موجُود نہیں ھوتی ، مادے کے تین عناصر Oxygen ، Hydrogen اور Carbon کی یَکجاٸ نباتات اور سبزہ و گُل کی صورت میں رُونما ھوتی ھے ، نباتات میں دُوسری اَقسام کے مُختلف مادی عناصر کو خود میں جذب کرنے کی صلاحیت ھوتی ھے لیکن اِن نباتات و شجر میں بھی مُجرد مادے سے بَڑھ کر کوٸ اور چیز موجُود نہیں ھوتی !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے