Home / اسلام / جِنّات کی حقیقت اور جِنّات کے اَفسانے !! 🌹 { 1

جِنّات کی حقیقت اور جِنّات کے اَفسانے !! 🌹 { 1

🌹#العلمAlilm🌹 علمُ الکتاب 🌹
اَلاَنعام ، اٰیت 128🌹
جِنّات کی حقیقت اور جِنّات کے اَفسانے !! 🌹 { 1 } 🌹
ازقلم 🌷🌷 اخترکاشمیری
🌹 علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لاٸن ھے جس سے روزانہ 75 ہزار سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !! 🌹🌹🌹
🌹 براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام شیٸر کریں !! 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
🌹 اٰیت و مفہُومِ اٰیت ! 🌹
🌹 ویوم
یحشرھم جمیعا
یٰمعشرالجن قد استکبرتم
من الانس وقال اولیٰٸھم من الانس
ربنا استمتع بعضنا ببعض وبلغنا اجلنا الذی
اجلت لنا قال النار مثوٰکم خٰلدین فیھا الّا ماشا ٕ
اللہ ان ربک حکیم علیم 128
روزِ مَحشر میں جب اللہ جنات کے بڑے مجرموں کو جمع کرکے بتاۓ گا کہ تُم نے دُنیا میں متعدد انسانوں کو گُمراہ کیا ھے تو جِنات کے دوست انسانوں میں سے ایک انسان دوست انسان کہے گا کہ پروردِگار ! ھم تو جب تک دُنیا میں ر ھے ہیں ایک دُوسرے کو فاٸدہ دینے میں لگے رھے ہیں اور آج جب تیرے وعدے کے مطابق ھمارا یومِ حساب آیا ھے تو ھم تیرے سامنے حاضر ھو ۓ ہیں ، اللہ کہے گا کہ اَب تُمہارا ٹھکاناجہنم ھے جس میں تُم نے ہمیشہ رہنا ھے ، یقین جانو کہ اُس روز اللہ کے عتاب سے وہی فَرد بچ سکے گا جس کو اللہ خود بچاۓ گا کیونکہ ہر تحقیق سے اِس بات کی تصدیق ھو چکی ھے کہ اللہ اپنے علم و حکمت کے مطابق جس فَرد کے حق میں یا جس فَرد کے خلاف جو فیصلہ کرے گا وہی اُس فرد کے حق میں اللہ کا سَب سے بہتر و بَرتَر فیصلہ ھو گا !
🌹 جِنات اور انسانی توھمات ! 🌹
جِنات کے مُتعلق مُسلمانوں میں کوٸ ایک دو طرح کے خیالات نہیں پاۓ جاتے بلکہ سو سو طرح کے توھمات پاۓ جاتے ہیں ، جن کے مطابق مُسلمانوں کا ایک تعلیم یافتہ گروہ یہ دعوٰی کرتا ھے کہ جِن نامی دُنیا میں کوٸ مخلُوق موجُود ہی نہیں ھے ، اِس بارے میں جو کُچھ کہا جاتا ھے وہ قدیم زمانے کی اساطیری کہانیوں کا ایک تسلسل ھے جس کا حقیقت سے کوٸ تعلق نہیں ھے ، اِن لوگوں کے اِس دعوے سے معلُوم ھوتا ھے کہ یہ حضرات یا تو خُدا کی کاٸنات کی تخلیق میں خُدا کے ساتھ شریکِ تخلیق رھے ہیں یا پھر ابھی ابھی کاٸنات کا ایک معلُوماتی سروے کر کے واپس تشریف لاۓ ہیں اور اَب اپنی تازہ ترین معلُومات سے ہمیں مُطلع فرما رھے ہیں کہ ھم نے اَرض و سما کے ہر گوشے میں گُھوم پھر کر ہر مخلُوق کا سراغ لگا لیا ھے لیکن جِن نامی کوٸ مخلُوق ہمیں کہیں پر بھی نظر نہیں آٸ ، اِس لیۓ ھم اِعلان کرتے ہیں کہ جِن کے نام سے موسُوم کی گٸ کوٸ مخلُوق دُنیا میں موجُود نہیں ھے ، اگر فی الواقع ایسا ہی ھے جیسا ھم نے سَمجھا اور جانا ھے تو ہمیں اِن حضرات کے جِن ھونے کا بھی یقین کر لینا چاہیۓ کیونکہ ایسی نایاب صفات کے حامل لوگ جِنات ہی ھو سکتے ہیں جو کاٸناتِ حاضر و غاٸب کا اتنا باریک بینی سے مُشاھدہ کریں اور پھر اپنے اِس عظیم مُشاھدے سے باقی دُنیا کو آگاہ بھی کریں ، ایسے کمالات کا مظاہرہ کم اَز کم انسان کے اختیار سے باہر ھے ، تعلیم یافتہ مُسلمانوں کی ایک دُوسری جماعت شہروں اور بستیوں سے دُور جنگلوں اور صحراٶں میں رہنے والے اُن لوگوں کو جِن قرار دیتی ھے جو شہری زندگی سے دُور دراز علاقوں میں چُھپ کر زندگی گزارتے ہیں لیکن شہروں اور بستیوں سے چُھپ کر رہنا ہی اگر کسی کے جِن ھونے کی کوٸ معقول علمی دلیل ھے تو اِس دلیل کا اطلاق تو اُن کی اپنی ذات پر بھی ھوتا ھے ، کیونکہ یہ حضرات خود بھی جنگلی اور صحراٸ لوگوں سے چُھپ کر شہروں اور مَحلّوں میں رہتے ہیں ، کُچھ لوگ یہ دُور کی کوڑی بھی لاۓ ہیں کہ جِنات سے مُراد وہ لوگ ہیں جو عھدِ نبوی میں کُفار کے خوف سے چُھپ چُھپ کر قُرآن سُنتے تھے اور اسی وجہ سے اُن کو جِن کہا گیا ھے ، بعض لوگ بلند ایوانوں اور عالی شان مکانوں میں رہنے والے حکمرانوں کو بھی جِن قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ عام لوگوں سے چُھپ کر زندگی گزارتے ہیں اور ہر خاص و عام اُن تک رساٸ حاصل نہیں کر سکتا ، اِس دلیل کے مطابق دُنیا کے تمام حکمران جِن اور عوام الناس انسان قرار پاتے ہیں تاہَم مُسلمانوں کے تمام مذہبی گروہ جِنات کے وجُود کو مانتے ہیں بلکہ اِن گروہوں کے کُچھ بڑے بزرگ تو لاکھ دو لاکھ جِنات اپنے لوٹے اور بَدھنے میں لیۓ پھرتے ہیں ، یہ الگ بات ھے کہ بَدھنا بَھرنے اور لوٹا گھمانے کے لیۓ اُن کو بھی کسی انسان ہی کی ضرُورت ھوتی ھے ، فریقِ مُقدمہ بن کر سوچیں تو اِن گروہوں میں سے کسی ایک گروہ کی تاٸید لازم ھے اور شریکِ مُقدمہ بن کر غور کریں تو کُچھ حقیقت سب کے پاس ھے لیکن مُکمل حقیقت کسی کے پاس نہیں ھے !
🌹 جِن و اِنس ! 🌹
جس طرح دِن رات کی ضِد ھے ، صُبح شام کی ضِد ھے اور زمین آسمان کی ضِد ھے اسی طرح جِن اِنس کی ضِد ھے اور جان انسان کی ضِد ھے ، تاہَم ضِد کا لفظ اِن چیزوں کے تَضاد کا مَظہر ھے ، بُعد کا مَظہر نہیں ھے ، اِس لَفظ سے ایک چیز کے دُوسری چیز سے مُختلف ھونے کا ثبوت ہی ملتا ھے ، ایک چیز کے دُوسرے چیز سے دُور ھونے کا ثبوت نہیں ملتا ، کیونکہ یہ تمام اَضداد ، اَضدادِ مُتصل ہیں اور اِن اضدادِ مُتصل کا وجُود ایک دُوسرے کے موجُود ھونے کی دلیل ھوتا ھے غیر موجُود ھونے کی دلیل نہیں ھوتا اور یہ دونوں مُتصل وجُود ایک دُوسرے کے لیۓ لازم و ملزُوم بھی ھوتے ہیں ، جس طرح بَحر و بَر اور شاخ و شجر کی سیڑھی ایک دُوسرے سے ملی ھوٸ ھے اسی طرح جِن و اِنس کی پیڑھی بھی ایک دُوسرے سے جُڑی ھوٸ ھے ، اِسمِ جِن کی فارسی جمع جِنات اُردو میں قبُولِ عام کا درجہ حاصل کر چکی ھے ، تاہَم عربی میں لَفظِ جِن بذاتِ خود ہی وہ جمع ھے جس کا واحد جَنّی ھے جس طرح کہ رُوم کا واحد رُومی ھے ، اُردو زبان کا لَفظ جِن بھی ایسی ہی ایک جمع ھے جس کا واحد ” جس “ ھے اور اِس ” جِس “ کا لُغوی معنٰی اِخفا ھے ، قُرآن کی قُرآنی لُغت میں اِخفا کا یہ معنٰی سب سے پہلے اِس سُورت کی اٰیت 75 ” فلما جن علیہ الیل “ میں آیا ھے اور اٰیتِ بالا میں جس لفظِ جِن کا اِخفا کے معنی میں ذکر کیا گیا ھے اُس لَفظِ جِن کا اطلاق عموما تو ہر پوشیدہ شٸ پر ھوتا لیکن خصوصا اللہ تعالٰی کی اُس نادیدہ مخلُوق پر ھوتا ھے جس کو عُرفِ عام میں جِن یا ملاٸکہ کہا جاتا ھے ، قُرآنِ کریم کی کتابی ترتیب میں اٰیتِ بالا قُرآن کی سب سے پہلی اٰیت ھے جس میں نوعِ جِن کا نوعِ اِنس کی ضِد کے طور پر ذکر کیا گیا ھے اور اِس اٰیت کے علاوہ قُرآنِ کریم نے جن اٰیات میں جِن و اِنس کا جِنسِ مُتضاد کے طور پر ذکر کیا ھے اُن میں سُورةُ الاَنعام کی اٰیت 112 ، 128 ، 130 ، سُورةُ الاَعراف کی اٰیت 38 ، 189 ، سورةالحِجر کی اٰیت 26 ، 27 ، سُورةالاِسرا کی اٰیت 88 ، سُورةُالکہف کی اٰیت 50 ، سُورةُالنمل کی اٰیت 17 ، 39 ، سُورہِ سبا کی اٰیت 12 ، 14 ، 41 ، سُورہِ فُصلت کی اٰیت 25 ، 29 ، سُورةُ الاَحقاف کی اٰیت 18 ، سُورةالذاریات کی 56 اور سُورہِ رحمان کی اٰیت 14 و 15 شامل ہیں ، جِن و اِنس دونوں کی ہستی میں حرارت کی آنچ موجُود ھے ، فرق یہ ھے تو صرف یہ ھے کہ انسان نے سُورج سے تدریجا حرارت لی ھے اور جنات نے آگ سے ایک بار ہی حرارت وصول کر لی ھے ، ایک میں خاک کا عنصر قاٸم ھے ، ایک میں آگ کا عنصر غالب ھے ، انسان ایک خاک کا پُتلا ھے جو خاکِ زمیں پر کھڑا ھے اور جِن ایک آگ کا شُعلہ ھے جس کا مقام فرش ھے نہ فَلک ، زمین پہ ھوتا تو آدم ھوتا ، فَلک میں ھوتا تو مَلک ھوتا لیکن وہ اپنے خمیر کے اعتبار سے ایک شُعلہِ ہوا ھے اور ہَوا کے ساتھ ھے !!

About Babar

Babar
I am Babar Alyas and I’m passionate about urdu news and articles with over 4 years in the industry starting as a writer working my way up into senior positions. I am the driving force behind The Qalamdan with a vision to broaden my city’s readership throughout 2019. I am an editor and reporter of this website. Address: Chak 111/7R , Kamalia Road, Chichawatni, Distt. Sahiwal, Punjab, Pakistan Ph: +923016913244 Email: babarcci@gmail.com https://web.facebook.com/qalamdan.net https://www.twitter.com/qalamdanurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے